سوال:
اپنا مختصر تعارف کروا دیں، نیز بزنس کی طرف کیسے آئے؟

جواب:
میرا تعلق میمن کمیونٹی سے ہے۔میمن کمیونٹی کی پہچان برنس سے ہی ہے۔ میرے والد گرامی جب انڈیا سے ہجرت کر کے آئے تو میرے والد اور دادا جاب کرتے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ کاروبار کی طرف آگئے۔ والد صاحب نے پراپرٹی کا کام شروع کیا۔ جب تک وہ زندہ رہے کام چلتا رہا۔

پھر 1990ء میں ہم انڈسٹری کی طرف آئے۔1994ء میں والد صاحب کا انتقال ہوا۔ بھائی چھوٹاتھا ، بڑا ہوا تو ہم نے اپنے کاروبار کا رخ انڈسٹری کی طرف کیا۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد ہم مکمل طور پر انڈسٹری سے منسلک ہو گئے۔ میں بزنس کے علاوہ بزنس پالیٹکس کا حصہ بھی ہوں۔ سائٹ ایسوسی ایشن کا سینئر وائس چیئرمین رہا ہوں۔ کراچی چیمبر کا سینئر وائس صدر رہا ہوں۔ اس وقت چیئرمین سائٹ ہوں۔ اسی طرح صدر کراچی ایسوسی ایشن بھی ہوں۔ علاوہ ازیں کئی ایک ’’گورنمنٹ سیمی گورنمنٹ‘‘ باڈیز کے بورڈ میں بھی ہوں۔


٭…بانی پاکستان محمد علی جناح نے سائٹ ایریا میں پہلی فیکٹری کا سنگ بنیاد رکھاتھا ٭…رینجرز آپریشن کے بعد امن وامان کے مسئلے کی طرف پیش رفت ہوئی ٭…کراچی ایسوسی ایشن لوگوں کے مسائل سنتی اور ہر ممکن حل کے لیے کوشش کرتی ہے


سوال:
بزنس پالیٹکس کی طرف کب سے آئے ہیں؟

جواب:
1980ء میں اس طرف آیا تھا۔ 1982ء میں جب میری عمر صرف 22 سال تھی تو پولٹری کا کام بھی شر وع کر لیا تھا۔ اسی دوران میں پولٹری ایسوسی ایشن کا صدر بنا۔ پھر پراپرٹی کا کاروبار شروع کیا تو پراپرٹی کی Association کا وائس چیئر مین رہا ۔ اس کے علاوہ بہت سی کمیٹیوں کا چیئرمین رہا ہوں۔کراچی چیمبر کی منیجنگ کمیٹی میں بھی رہا ہوں۔

سوال:
سائٹ ایسوسی ایشن کا کچھ تعارف ہو جائے۔ اس کے کیا Functions ہوتے ہیں؟

جواب:
سائٹ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا اور پرانا انڈسٹریل ایریا ہے۔ بانی پاکستان محمد علی جناح نے اسی سائٹ میں پہلی فیکٹری کا سنگ بنیاد رکھاتھا۔ آج یہاں پر تقریباً 3500 انڈسٹریز لگی ہوئی ہیں۔ چھوٹی، بڑی ہر قسم کی انڈسٹری ہے۔ سوائے شوگر اور سیمنٹ کے۔ یہاں سو طرح کے مسائل ہیں۔ لیبر کے مسائل، معاشی مسائل، FBR کے انڈسٹری کے، لاء ایند آرڈر کے، کسٹم کے، بجلی کے، گیس، پانی اور سڑکوںوغیرہ کے۔ یہ Association کا ہی کام ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کے مسائل سنتے، پرکھتے اور ان کی مدد کرتے ہیں۔ بڑے مسائل کو سرکاری اداروں تک پہنچانا بھی انہیں کے فرائض میں سے ہے۔ یہ سارے کام سائٹ کراچی ایسوسی ایشن انجام دیتی ہے۔

سوال:
Assosiation کے فیصلوں کی لیگلی حیثیت کیا ہوتی ہے؟

جواب:
سائٹ ایسوسی ایشن کی 12 آدمیوں کی ایک کمیٹی ہوتی ہے۔ اس میں مختلف چیئرمین اور وائس چیئرمین وغیرہ ہوتے ہیں۔ جو بھی مسائل آتے یا کمیٹی میں ڈسکس کیے جاتے ہیں۔ کسی بھی ڈیپارٹمنٹ کا مسئلہ ہو،ہماری کوشش ہوتی ہے کہ سب اسٹاف کو یہاں بلائیں۔ ممبر ان کو بھی بلائیں اور وہاں بیٹھ کر ڈسکس کر لیں۔ اگر کوئی واقعی زیادتی ہو گئی ہوتو ان کو وہاں بیٹھ کر حل کر لیا جاتا ہے۔اس مقصد کے لیے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ہوتا ہے۔ مثلاً اگر حکومت کی طرف یہ حکم آئے کہ15 فیصد سیلز ٹیکس لگایا جائے توہم کہتے ہیں کہ اس کے انڈسٹری فلاں اور فلاں نقصانات ہوں گے۔ ان ان وجوہ سے تباہ ہو سکتی ہے۔

سوال:
حکومتی ادارے، پولیس،رینجرزیا FBR وغیرہ پرحکومت کی طرف سے کوئی پابندی ہے کہ وہ آپ سے مشاورت کریں؟

جواب:
حکومتی ادارے سب کے سب عوام کے لیے ہیں۔ ان کو جب بلایا جاتا ہے تو وہ آتے ہیں۔ چھوٹے عہدے دار سے لے کر بڑے تک سب ہماری بات سنتے ہیں۔

سوال:
اس وقت کا سب سے بڑا ایشو Low and Order کی خراب صورت حال کا ہے، اس حوالے سے سائٹ ایسوسی ایشن کا کردار کیا رہا؟

جواب:
دیکھیں جی! Low and Order کے حوالے سے اصل بات یہ ہے کہ سائٹ انڈسٹریل ایریا کے چاروں طرف وہ علاقے ہیں جن کو حساس علاقے کہا جاتا ہے۔ گویا سائٹ انڈسٹریل ایریا ان کے درمیان ایسے ہے جیسے ایک پیالہ اور اس کے چاروں طرف کی باؤنڈری ہو۔ اس کے مسائل بہت زیادہ ہیں۔ ہم سائٹ کے پلیٹ فارم سے چیف منسٹر، منسٹر ،ایس ایچ او اور آئی جی وغیرہ تک سب سے میٹنگ کر تے ہیں۔ ڈی جی رینجرز سے بھی میٹنگ کی ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ سائٹ کی صورت حال جو آج سے کچھ مہینے پہلے تک تھی، پھر نواز شریف کی حکومت آئی۔ انہوں نے کراچی آپریشن کروایاتو اس کے بعد علاقے میں بہتری آنا شروع ہوئی ہے۔ سائٹ بڑا ایریا ہے اور اس میں کام کرنا انتہائی ضروری ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ ایک لمبا پراسس ہے۔ اگر ہم یہ سمجھیں کہ یہ مسئلہ کل تک حل ہو جائے تو یہ ممکن نہیں۔ تاہم جس طریقے سے رینجرز اور پولیس ہمیں رسپونس دے رہی ہے، سپورٹ کر رہی ہے اور یہ محسوس کر رہی ہے کہ ہاں! واقعی اس علاقے میں مسائل ہیں۔اس سے کافی امید بندھ گئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں اس علاقے کا 100 فیصد زیرو کرائم ہونا تو مشکل ہے، لیکن اب کافی فرق پڑا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ میں یہ بھی بتادوں اگر سائٹ ایریا کے مسائل کو پوری طرح سیریس نہ لیا گیا توا نڈسٹری بند ہو جائے گی۔ لاکھوں لوگ ’’ان ڈائر یکٹلی‘‘ اس سے وابستہ ہیں، کیونکہ یہاں سے جو مال جاتا ہے تومزدور اور دکاندار وغیرہ اس کو لیتے ہیں۔ اگر یہی صورت حال رہی تو انڈسٹریل ایریا محدود یا شفٹ ہو جائے گا۔ چاہے کراچی سے باہر چلے جائیں یا ملک سے ۔ بہرحال! انڈسٹری بند ہو جانے کا بہت بڑا خدشہ موجود ہے۔ (جاری ہے)