سوال:
کسی بھی ملک کی بزنس کمیونٹی بڑی مضبوط ہوتی ہے۔وہاں کے بزنس ایریا ز بڑے ’’سیکیور‘‘ ہوتے ہیں، کیا آپ نہیں سمجھتے کہ پاکستان میں خصوصاً سائٹ کا علاقہ جیسا کہ امن و امان کی دگرگوں صورت حال کا شکار ہے؟
جواب:

دیکھیں جی! اس وقت سائٹ سب سے زیادہ متاثر ہے۔ انفرااسٹرکچر ،روڈ،سڑکیں اور نالے یہ سب کچھ ہے۔ سائٹ کے علاوہ باقی انڈسٹریل ایریا وہ اتنا ’’افیکٹڈ‘‘ نہیں ہے۔ ہم سائٹ کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ یہ اربوں کا پروجیکٹ ہے۔ ہم تو اس کے لیے لڑ رہے ہیں، بات کر رہے ہیں۔


٭… بزنس کمیونٹی کے سہارے ملک چلتا ہے، اسے سیکنڈ پرائرٹی دی گئی ہے، بیوروکریسی حکومت کی نمبرون ترجیح ہے ٭… مائیگریٹ کرنے والوں کو میرا مشورہ ہے کہ مایوس ہرگز نہ ہوں، مایوسی کفر ہے ٭…حکومت خود سود میں مبتلا ہے، اس کے خلاف کوئی بات کہاں سننے کو تیار ہو گی ٭


ہمارا یہ اصول ہے اور ہماری نیت صاف ہے کہ ہم نے ملک کے لیے اور پبلک کے لیے کام کرنا ہے۔ چاہے ہمیں سال لگ جائے، یا ہم اسے 6 ماہ میں ہی مکمل کرلیں، ہمارا عزم ہے کہ کام ایمانداری سے کرنا ہے۔ اللہ کا شکر ہے اللہ نے ہمیں کامیابی بھی دی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سائٹ کا مسئلہ حل ہونے میں وقت لگے گا، تاہم ہماری کوشش جاری ہے۔ کہتے ہیں اگر آپ نیک نیتی سے کام کا سوچیں اور کریں تو اللہ تعالیٰ بھی ساتھ دیتا ہے۔ بالکل یہی کندھا ہمارا ساتھ دے رہا ہے اور ہم نے بہت کامیابی حاصل کی ہے۔

کراچی چیمبر کو اللہ تعالیٰ نے بڑی عزت دی ہے اور ہم نے بڑا نام دیا ہے۔ ہم یہاں پر کام کر رہے ہیں اور سائٹ میں 20 سال سے ہمارا گروپ ’’ان اپوز‘‘ آ رہا ہے۔ کوئی الیکشن نہیں ہو رہے۔ چیمبر کو 1998 ء سے اب تک 15 سال ہو گئے ہیں، ہمار گروپ وہاںپر ہے۔ چھے سات سال سے وہاں الیکشن نہیں ہوا۔ خلاصہ یہ کہ ہماری نیت اور کام کو دیکھتے ہوئے لوگوں اور تاجر برادری کو ہم پر اعتماد ہے کہ یہ لوگ اچھا کام کر رہے ہیں اور انہی کو کام سونپا جائے۔ سوال: اگر آپ ترکی یا اس طرح کے دیگر ممالک کی ہسٹری پڑھیں جنہوں نے ڈویلپمنٹ حاصل کی، وہاں پر یہ ہوا کہ بزنس کمیونٹی کو انہوں نے فرسٹ پرائرٹی دی ہے۔ وہ ان کی سب سے پہلی ترجیح ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں بزنس کمیونٹی کا اتنا مطالبہ رہتا ہے، بہت بڑی سطح پر احتجاج بھی ہوتا ہے، اس کے باوجود اس کی پراگریس اتنی سست کیوں ہے؟
جواب:
درست کہا آپ نے! جس کے بل بوتے پر ملک چلتا ہے یعنی بزنس کمیونٹی کے ٹیکس پر، اس کو سیکنڈ پرائرٹی دی گئی ہے۔ جبکہ اس کی بیوروکریسی کو نمبرون پرائرٹی دی گئی ہے۔ ہمارے ترقی نہ کرنے اور پیچھے رہ جانے کی وجہ میں سمجھتا ہوں یہ ہے کہ جب تک آپ لینے والے ہاتھ کو مضبوط رکھیں گے اور یہ نہیں دیکھیں گے کہ دینے والے ہاتھ میں اتنی سکت بھی ہے یا نہیں؟ یا وہ کس طرح دے گا؟جب تک آپ اس کو پہلے نمبر پر نہیں لیں گے، ترقی نہیں کر سکتے۔یہی ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے۔

پچھلے ہفتے وزیر اعظم صاحب نے اسلام آباد بلایا تھا، میں وہاں بھی گیا۔انہوں نے پورے پاکستان سے ایک ایڈوائزری اناؤنس کیا ہے۔انہوں نے کہا میں اس میٹنگ میں موجود رہوں گا۔ ہم بزنس کمیونٹی سے فیڈ بیک لیں گے کہ پاکستان کس طرح معاشی طور پر مضبوط ہو گااور ترقی کی راہ پر چلے گا؟ میں سمجھتا ہوں اگر اس میں صحیح جینین میرٹ پر بزنس کمیونٹی کے لوگوں کو لیا گیا جنہیں اس کے بارے میں پتا ہو کہ کس طرح کیا جائے اور وہ ملک کے ساتھ مخلص بھی ہیں، تو اگرچہ راتوں رات کام نہیں بن جائے گا مگر بہت جلد ہمارا ملک بہتر ٹریک پر چلنا شروع ہو جائے گا۔
سوال:
بزنس کمیونٹی یہاں سے رفتہ رفتہ مائیگریٹ کر رہی ہے۔ کوئی پنجاب چلے گئے اور کوئی دبئی۔ ایسی صورت حال میں کوئی بہتری آئی یا ویسے ہی ہے؟
جواب:
جی ہاں! جس کے پاس وسائل ہیں اور وہ جا سکتا تھا تو چلا گیا۔ ابھی بھی لوگوں کی سوچ یہی ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس میں کمی نہیں آئی، بلکہ کراچی سے جانے والوں میں تیزی آئی ہے۔ میری تو ایک ہی سوچ اور پیغام ہے کہ ہم اس شہر میں اس ملک میں پیدا ہوئے ہیں اور اسی ملک میں اور شہر میں مریں گے۔ اسی کے لیے لڑتے رہیں گے۔ ہماری کوشش یہ ہو گی کہ ہم بہتری کی طرف جائیں۔ لوگوں کو میرا مشورہ ہے وہ مایوس نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’مایوسی کفر ہے۔‘‘

میں سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ اپنی رسی کھینچیں گے اور مسلمانوں کا ملک، جس میں اتنے نیک لوگ رہتے ہیں، دعائیں کرتے ہیں اور آپ جیسے ادارے کام کرتے ہیں۔ اللہ ہماری ضرور سنے گا کیونکہ یہ مسلمانوں کا ملک اور شہر ہے۔
سوال:
سود کے حوالے سے ہمارے ہاں دوسرا ایشو یہ ہے کہ پاکستان میں سود کا عام لین دین ہے۔ عام لوگ تو آواز اٹھاتے ہیں، علما تقریریں کرتے ہیں، لیکن یہ اصل ذمہ داری تو بزنس کمیونٹی کی ہے؟
جواب:
میں اور لوگوں کی بات نہیں کرتا۔ ایک سادہ سی بات کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے قرآن مجید کی شکل میں ایک کتاب نازل کی ہے، اس میں ہر چیز موجود ہے۔ جب سے نازل ہوا اور تا قیامت کیا ہونا ہے، سب اس میں موجود ہے۔ ہر چیز کی شفا، ہر چیز کا علاج، کس زمانے میں کیا ہو گا سب اس میں لکھا ہوا ہے۔ اس میں سود کے بارے میں بالکل کلیئر طور پر لکھا ہوا ہے اگر آپ سود لیں گے تو مجرم ہوں گے لیکن ہم حکومتوں کو برا کہتے ہیں۔ میں نے جو بتائی ہیں یہ Basic چیزیں ہیں۔ سود کھا کر وقتی طور پر تو یہ لگتا ہے کہ آپ ترقی کر رہے ہیں، حالانکہ یہ تباہی اور حرام ہے۔ اگر حرام کی کمائی خود بھی کھاتے ہیں، بیوی بچوں کو کھلاتے ہیں اور ماں باپ کو بھی، تو یہ ایک بہت بڑا ظلم ہے۔ اس کے لیے ’’ظلم ‘‘بھی بہت چھوٹا لفظ ہے۔ میں تو اس چیز کے بالکل خلاف ہوں اور سمجھتا ہوں کہ اسلامی بینک میں بھی ابھی تک کچھ نہ کچھ سود کے اثرات موجود ہیں۔یا وہ چیزیں موجود ہے جو Completely سود سے پاک نہیں ہے۔ میں دو اور دو چار والی بات کرتا ہوں۔ آپ کو ملنا اُتنا ہی ہے جتنا آپ کا نصیب ہے۔ آپ اپنے نصیب سے نہیں لڑ سکتے۔ اللہ نے جتنی روزی لکھ دی ہے اللہ نے جتنے وسائل آپ کو دیے ہے، آپ انہی وسائل میں رہ کر کام کریں۔ اللہ آپ کو خود بخود ترقی دے گا۔ اللہ پہ ہمارا یقین ہونا چاہیے۔ قرآن شریف ایک مکمل لائحہ عمل کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے، اس پر عمل کریں۔

بہر حال! مسلمان کو Basically یہ چیزیں قرآن سے معلوم ہوئی ہیں۔ اس کے بعد بھی ہم عمل نہیں کرتے تو میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں پر آئے ہوئے حالات کے پیچھے ہمارے اعمال ہیں، جن کی اللہ تعالیٰ ہمیں سزا دے رہا ہے۔
سوال:
آپ ’’بزنس پالیٹکس‘‘ میں ایک طویل عرصے سے ہیں۔یہ بتائیے کہ ہماری بزنس کمیونٹی جو آپ کے ارد گرد ہے ان میںIntentionally کتنے سود لیتے، دیتے ہیں؟
جواب:
مجھے تحقیق نہیں، تحقیق کر کے بتا سکتا ہوں۔ سوال
عام طور پر سود لینے کی وجہ کیا ہوتی ہے؟
جواب:
میں سمجھتا ہوں اس کی وجہ صرف ہوس ہے۔ سودپہ پیسہ لے کر کام کرنے والایہ سمجھتا ہے، راتوں رات میں ان پیسوں سے 20 فیصد یا 30 فیصد کما لوں گا۔ اس کے بعد اس کو دے دوں گا اور بعد میں میرے پاس بچ جائے گا۔ اس ہوس کے سوا سود لینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔
سوال:
آپ کی حکومت کے ساتھ مشاورت رہتی ہے۔ آپ کی ایسوسی ایشن یا دوسری کسی ایسوسی ایشن نے مل کر سود کے خلاف کوئی مطالبہ کیا ہو؟
جواب:
حکومت اس کے خلاف کوئی بات کہاں سننے کو تیار ہو گی؟جب میں ایک غلط کام کر رہا ہوں تو میں دوسروں کو جا کر کیا بولوں گا۔ یہ تو وہ بات ہوئی کہ میں خود نماز نہ پڑھوں اور آپ سے یہ کہو ں کہ آپ نماز پڑھیں۔ پہلے آپ خود تو صحیح ہو جاؤ۔