سوال:
آپ اپنے وسیع کاروبار کا حساب و کتاب کیسے کرتے ہیں؟ جبکہ آپ نے باقاعدہ کوئی تعلیم حاصل نہیں کی؟
شیخ عوض العدنی:
اللہ کے فضل سے میں اپنے حسابات بڑی لیاقت و سہولت سے سر انجام دیتا ہوں۔ ٹھیک ہے کہ میرا لکھت پڑھت سے کوئی واسطہ نہیں رہا لیکن خرید و فروخت سے مسلسل واسطہ رہنے کی وجہ سے حساب و کتاب میں مجھے بڑی مہارت حاصل ہو گئی ہے، جس کا نتیجہ ہے کہ بڑے بڑے کاروباری سودوں کے حسابات کے جوڑ توڑ چٹکیوں میں کرتا ہوں۔

سوال:
آپ نے ’’بللسمر‘‘ سے با ہر ’’محایل‘‘ میں بھی کبھی تجارت کے بارے میں سوچا ہے؟


٭…امریکا، چین، ہندوستان اور نائیجریا وغیرہ سے کافی درآمد کرتا ہوں ٭…دھوکے کااحتمال ختم کرنے کے لیے ابھی تک دوپلڑوں والا پرانے طرز کا ترازو استعمال کرتا ہوں ٭…میں قہوہ کوآ نچ دینے کے لیے پرانے طریقے کو ہی بہتر سمجھتا ہوں جوکہ آگ پر پکانے کا طریقہ ہے ٭

شیخ عوض العدنی:
بالکل نہیں۔ میری ایک دکان ’’خمیس‘‘ بازار میں تھی جہاں میں نے ایک عرصے تک کاروبار کو چلایا۔ یہ یاد رہے کہ ’’خمیس‘‘ بازار اُس وقت تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے بڑا مشہور تھا، بلکہ وہ ’’محایل‘‘ کے ہم پلہ یا اس سے بھی بڑھ کر تھا۔ افسوس! کہ ’’خمیس‘‘ کی وہ تجارتی رونقیں باقی نہ رہیں۔ اب ’’محایل‘‘ نہ صرف ’’خمیس‘‘ پر بلکہ دیگر تمام بازاروں پر چھا گیا ہے۔
سوال:
آپ قہوہ کی کون کون سی اقسام کا کاروبار کرتے ہو ہیں؟

شیخ عوض العدنی:
یمنی، خولانی، یافعی، سیحانی، حبشی، امریکی، برازیلی اور چینی ’’کافی‘‘ کی تمام اقسام کی خرید و فروخت کرتا ہوں۔

سوال:
ان اقسام میں سے کون سی ’’کافی‘‘ بہترین ہے؟

شیخ عوض العدنی:
خولانی، امریکی اور برازیلی ’’کافی‘‘ کی بہترین اقسام ہیں، مگر امریکی اور برازیلی ’’کافی‘‘ کی خرید و فروخت سے ہمارا کم واسطہ پڑتا ہے، کیونکہ یہ ’’کافی‘‘ کی بہت مہنگی اقسام ہیں۔

سوال:
ان اقسام میں کوئی خاص فرق ہے؟

شیخ عوض العدنی:
ضرور ان میں فرق پایا جاتا ہے، لیکن ذائقے اور شکل کے اعتبار سے ان میں کوئی خاص فرق نہیں بالخصوص پیتے وقت کوئی اور تکلف بھی ہو، ایسا نہیں ہے۔

سوال:
پھر آپ ان میں کس طرح فرق کرتے ہیں؟

شیخ عوض العدنی:
اگر آپ میں کے سامنے مختلف اقسام رکھ دوں تو آپ اِن میں فرق نہیں کر پائیں گے، لیکن میں اپنے تجربے کی بنیا د پر ان میں بآسانی فرق کر سکتا ہوں۔ یہ عام سی بات ہے کہ کوئی بھی شخص جس چیز کی خرید و فروخت کرتا ہے تو وہ اُس چیز کا بڑا نبض شناس بن جاتا ہے۔ یاد رہے کہ ان اقسام کے پہچاننے میں ان کی شکل کا بھی عمل دخل ہوتا ہے۔ سوال:
ماضی اور حال کے نرخوں میں آپ کیا فرق دیکھتے ہیں؟

شیخ عوض العدنی:
ماضی اور حال کے نرخوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔ آج کل قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ جس چیز کا نرخ کسی وقت 10
ریال فی کلو ہوا کرتا تھا، آج وہ 50 ریال سے بھی زیادہ پر جا پہنچا۔

سوال:
آپ کافی اور اُس کے دیگر لوازامات کن ممالک سے درآمد کرتے ہیں؟

شیخ عوض العدنی:
امریکا، چین، ہندوستان اور نائیجریا وغیرہ سے۔

سوال:
کیا آپ کو تجارت یا استعمال میں ’’تہامۃ‘‘ کی ’’کافی‘‘ کا تجربہ ہوا ہے؟

شیخ عوض العدنی:
جی ہاں! میں نے اس کا تجربہ کیا ہے۔ وہ ’’کافی ‘‘کی ایک اچھی قسم ہے جو نہایت عمدہ اور آزمودہ قسموں میں سمجھی جاتی ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اب یہ بہت کم پائی جاتی ہے ، جس کا لازمی نتیجہ ہے کہ مہنگی بھی کافی ہو تی ہے۔نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اہل علاقہ نے اس کی کاشت بالکل چھوڑ دی ہے۔ بس جو مو جود ہے اسی کو کافی سمجھ بیٹھے ہیں۔ اس کم کا شت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لو گوں کی اکثریت دیہاتوں کو چھوڑ کر شہروں کا رخ کر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لو گ اہتمام سے’’ کا فی ‘‘کاشت کرنے لگ جائیں تو ان کے لیے مالی آمدن اور اقتصادی خوشحالی کا بڑا ذریعہ ہو گااور کاروباری لو گوں کو بھی بڑا نفع ہو گا۔

سوال:
اس تجارت کے دوران آپ کو مشکل مواقع اور پریشان کن صورتحال کا سامنا بھی کبھی کرنا پڑا؟

شیخ عوض العدنی:
الحمدللہ! کبھی پریشان کن صورتحال کا سامنا تو نہیں کرنا پڑا، البتہ نقل و حمل کے حوالے سے مسائل کا سامنا رہا۔ میں جہاں قہوہ اور دیگر لوازمات لے جایا کرتا تھا اُس کے لیے گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتی تھیں۔ جس زمانہ میں جدہ کے بجائے مکہ کا بازار مرکزی حیثیت کا حامل تھا اُس وقت ’’بللسمر‘‘ تک اول تو گاڑیاں نہیں ملتی تھیں۔ اگر مل بھی جاتی تو ’’بللسمر‘‘ تک پختہ سڑک بنی ہوئی نہ تھی، جس کی وجہ سے کافی وقت ضائع ہو جاتا تھا۔ اسی طرح مکہ سے طائف تک اور وہاں سے ’’وادی بن ہشبل‘‘ تک گاڑی کرایہ پر حاصل کی جاتی تھی۔ پھر ’’وادی بن ہشبل‘‘ سے ’’بللسمر‘‘ تک اونٹوں کو نقل و حمل کے لیے استعمال کرتے تھے۔

سوال:
آپ ابھی تک دو پلڑوں والے پرانے ترازو کو استعمال کرتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟

شیخ عوض العدنی:
یہ ایک بہترین ترازو ہے جو جدید ترازؤوں کی بہ نسبت بہت خوبی سے تولنے کے عمل کو سرانجام دیتا ہے، جبکہ جدید ترازو میں بڑے پیمانے پر دھوکہ دیا جا سکتا ہے، کیونکہ جدید ترازو میں ہندسہ کو بدلنا بائع کے بس میں ہوتا ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک مرتبہ میں نے 3 کلو مالٹے خریدے۔ جب میں نے دکان آ کر اُسے دو پلڑوں والے پرانے ترازو میں تولاتو وہ 3 کلو مالٹے ڈھائی کلو نکلے۔ یہی وجہ ہے کہ میں پرانے ترازو کے استعمال کو ترجیح دیتا ہوں۔

سوال:
کیا آپ سارا وقت دکان پر گزارتے ہیں؟

شیخ عوض العدنی:
شروع میں بلکہ قریبی زمانہ تک تقریباً سارا وقت ہی دکان پر گزارتا تھا، لیکن اب معمول بدل گیا۔ روز بروز گر تی ہوئی صحت کے پیشِ نظر میں نے مزدور رکھ لیے ہیںجو کاروبار میں میرا ہاتھ بٹاتے رہتے ہیں۔ پھر موسمِ سرما کی آمد پر میں ’’دیرہ‘‘ کو چھوڑ کر ’’محایل‘‘ میں سکونت پذیر ہو جاتا ہوں۔ سارا موسمِ سرما وہیں گزارتا ہوں۔ بیچ میں کبھی کبھار دکان پرآ تا رہتا ہوں۔ میرے بااعتماد ملازمین کاروبار کو عمدہ طریقے سے چلاتے رہتے ہیں۔

سوال:
قہوہ کو آنچ دینے کے قدیم و جدید طریقوں کا آپ کو پتہ ہے۔ آپ کے تجربے کے مطابق قہوہ ذائقہ دار بنانے کے لیے کو ن سا طریقہ اچھا ہے؟

شیخ عوض العدنی:
میں قہوہ کوآ نچ دینے کے لیے پرانے طریقے کو ہی بہتر سمجھتا ہوں جوکہ آگ پر پکانے کا طریقہ ہے، لیکن آج کل جدید آلا ت کی وجہ سے اس پرانے طریقہ سے ایک گونہ استغنا حاصل ہو گیا ہے۔

سوال:
میرا آپ سے آخری سوال یہ ہے کہ آپ کا تعلق ان تا جروں سے ہے جنہوں ماضی کی مارکیٹ کو اپنی آنکھوں دیکھا اور حال کی مارکیٹ کو بھی، تو آپ تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے مارکیٹ کی مو جودہ صورت حال کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

شیخ عوض العدنی:
ہماری مارکیٹ کے گزشتہ اور موجودہ صورت حال میں بہت بڑا فرق پایا جاتا ہے۔ مارکیٹ اپنی سابقہ سرگرمی اور تیزی کو برقرار نہ رکھ سکی۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ہفتہ کے تقریباً تمام دنوں میں بکثرت بازار لگتے ہیں۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگ یہ علاقہ چھوڑ چکے ہیں۔