سوال:اپنے بارے میں کچھ بتائیے جواب:میرا نام امین ہے، میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا۔ ہمارا تعلق مصر کے پسماندہ علاقے بنی سویف کے ایک گاؤں سے ہے۔ والدین کی شفقت اور ان کی محنت کے بدولت میرا تعلیمی سلسلہ جاری رہا۔ میں نے جامعہ اسکندریہ سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔


مجھے گھر چلانے اور بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے بڑی مشکلات کا سامنا رہا۔ اس کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانا پڑیں۔ رزق کی تلاش میں کئی عرب ممالک کا سفر بھی کرنا پڑا۔ بالآخر خدا کے فضل سے کویت کی ایک کمپنی میں مجھے معقول تنخواہ پر نوکری مل گئی۔ جہاں میں 16 سال تک ملازم رہا۔


٭… میری ترقی کا راز یہ ہے کہ ہم نے ملازمین کی سہولیات کی طرف سے بڑی توجہ دی، ان کے تحفظ کا خیال رکھا ٭… آپ کے پاس اگر تھوڑی رقم بھی ہے تو اسے کام پر لگائیں ،ایک جگہ پڑے رہنے سے آپ کو کچھ فائدہ نہ دے گی ٭…چند سال پہلے میں ملازمت ڈھونڈ رہا تھا اب لوگوں کو ملازم رکھتا ہوں ٭


سوال:
آپ نے تجارت کا آغاز کب کیا؟

جواب:
کویت سے واپس لوٹا تو میرے پاس خاصا مال جمع ہو چکا تھا۔ جسے میں نے فضول ضائع کرنے کے بجائے تجارت پر لگانے کا فیصلہ کیا۔ میں نے ابتدا میں ذاتی دکانیں اور مختلف جگہوں پر پلاٹس خریدے۔ ایک کنٹریکٹ کمپنی بنائی۔ ان سے حاصل ہونے والا نفع اور کرایہ جمع کرتا رہا۔ اس سے میری زندگی متوسط حالت سے بہتر ہو گئی۔اس دوران میرا رابطہ معروف تاجر محمود عمارہ اور اسامہ سے ہو گیا۔ ہم جلد ہی گہرے دوست بن گئے۔ کچھ عرصے میں ہم نے تجارت میں شراکت داری سے 12 ملین پاؤنڈ مالیت سے گاڑیوں کا ایک شوروم خرید لیا۔ وزیر اراحل کمال الشاذلی کی مدد سے ہمیں کئی ہزار ایکڑ زمین پر مچھلی فارم بنانے کا منصوبہ بھی مل گیا۔ اس سے ہمارے قدم کافی مضبوط ہو گئے۔

سوال:
آپ کی شہرت میڈیا کے حوالے سے بہت ہے، اس کی کیا تفصیل ہے؟

جواب:
جی ہاں! مجھے زمانہ طالب علمی سے ہی اس فیلڈ میں آنے کا بہت شوق تھا۔ زندگی کی ابتدائی مشکلات گزارنے کے بعد خدا نے جب کاروبار میں پاؤں جما دیے تو میں اپنا شوق پورا کرنے کی طرف راغب ہوا۔ 2011 میں مصری انقلاب کے بعد ہم نے CBC کے نام سے مصر میں ایک میڈیا گروپ بنایا، جو اپنے ضمن میں کئی چینل اور روزنامے سموئے ہوئے ہے۔ Modren Sports کے نام سے بھی ہمارا ایک الگ گروپ کام کر رہا ہے۔ CBC نے دن دگنی رات چوگنی ترقی کی۔ ستمبر 2011 میں ہم نے ’’نہار‘‘ چینل کے 58 فیصد حصص خرید لیے۔ ہمارے گروپ کی ترقی کا راز بڑے سادہ الفاظ میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ ہم نے اپنے ملازمین کی سہولیات کی طرف سے ابتدا سے ہی بڑی توجہ دی، ان کے تحفظ کا خیال رکھا، ہمارے ملازمین کی تنخواہ باقی میڈیا میں کام کرنے والے لوگوں کی بہ نسبت دگنی تھی۔ ہم نے 130 ہزار پاؤنڈ نائب ایڈیٹر کو دے رہے تھے جبکہ عموماً 75 ہزار پاؤنڈ تنخواہ پر نائب ایڈیٹر کام کرتے ہیں۔ اس سے ہمارے ملازمین کا گروپ کے ساتھ دلی لگاؤ پیدا ہو گیا۔ ہمارا مزاج کام بطور نوکری نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھ کے کرنے لگا۔ ہمارے 3 روزنامے اخبار بھی چل رہے ہیں۔ جو اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ ہمارے اگلے منصوبوں میں ’’الجزیرہ قطر‘‘ طرز کا چینل قائم کرنے کا ارادہ ہے۔ اس وقت میرے 14 ٹی وی چینل اور 3 اخبارات کامیابی سے چل رہے ہیں۔ سوال:

میڈیا کے شعبے کا کاروبار بڑا پیچیدہ ہے، اس بارے میں کیا کہیں گے؟

جواب:

جی ہاں! اس معاملے میں مختلف الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں ایک بیروزگار شخص کی ترقی حاسدین سے برداشت نہیں ہوتی۔ ہم نے ادھر ادھر دیکھنے کے بجائے اپنا راستہ اور ہدف سامنے رکھا۔ راستے میں آنے والی کسی آڑ کو خاطر میں نہ لائے۔ اس کے لیے میں اپنے دوستوں اور خصوصاً گروپ ملازمین کا شکر گزار ہوں۔

سوال:
آپ کو انجینئرنگ کے بعد بھی مشکلات کا سامنا رہا، پڑھے لکھے بیروزگار طبقے کے لیے کیا پیغام دیں گے؟

جواب:
میرے والدین نے خود بھوکا رہ کر مجھے تعلیم دلائی۔ وہ مجھے پڑھا کر اپنے کسی بڑے خواب کی تعبیردیکھنا چاہتے تھے۔ جو ابتدا میں پوری ہوتی نظر نہ آئی۔ میں انجینئرنگ کر چکا تھا لیکن بیروزگار تھا۔ میں ملازمت کی تلاش میں سرگرداں رہا۔ کئی سال کی محنت کے باوجود روزگار نہ ملا لیکن میں مایوس نہ ہوا۔ مجھے یقین تھا کہ میر ی محنت رائیگاں نہیں جائے گی۔ میں بیروزگار نوجوانوں کو مشورہ دوں گا کہ روزگار کی تلاش میں مایوس ہرگز نہ ہوں۔ محنت سے منہ نہ موڑیں۔ قدرت نے آپ کے اندر بے پناہ صلاحیتیں رکھی ہیں۔ ان کو بروئے کار لائیں۔ آپ دنیا کے بہترین تاجر بن سکتے ہیں۔ چند سال پہلے میں ملازمت ڈھونڈ رہا تھا اب لوگوں کو ملازم رکھتا ہوں۔ آپ کے پاس اگر تھوڑی رقم بھی ہے تو اسے کام پر لگائیں، ایک جگہ پڑے رہنے سے وہ آپ کو کچھ فائدہ نہ دے گی۔

سوال:
آپ نے عوام کے لیے کافی رفاہی کام کیے، کچھ تفصیل بتائیں گے؟

جواب:
ہمارے گروپ نے مصری عوام کی سہولت اور فائدے کی غرض سے 100 ملین پاؤنڈ Porto مصنوعات کے لیے دیے تاکہ عوام کو مناسب ریٹ پر مصنوعات پہنچ سکیں اور غریب لوگ متاثر نہ ہوں۔ شام میں ایک سیاحی بستی قائم کی ہے جس پر 600 ملین پاؤنڈ لاگت آئی ہے۔ ہمارا گروپ مختلف مواقع پر عوام کی خدمت کرنا باعث سعادت سمجھتا ہے۔ اس میدان میں ہم کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔

سوال:
اس وقت آپ کے کاروبار کا حجم کیا ہے؟

جواب:
جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ ہماری کمپنی دن بہ دن ترقی کر رہی ہے۔ ہمارا کیپٹل تقریباً 3 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ دنیا کے مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری جاری ہے۔