شریعہ اینڈ بزنس مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے تو عوام الناس آپ سے خوب متعارف ہیں، اسلامی بینکاری کے حوالے سے اپنا تعارف کروائیں کہ کس کس مالیاتی ادارے کو آپ شریعہ ایڈوائزنگ فراہم کر رہے ہیں؟مفتی منیب الرحمن میں برج بینک اور داؤد فیملی تکافل کا شریعہ ایڈوئزر اور حکومت کی ابھی جو اسٹینڈنگ کمیٹی بنی ہے اس کا ممبر بھی ہوں۔


شریعہ ایڈوائزر کی مہارت یہ نہیں کہ کوئی گاہک کہے حبیب بینک والے گیارہ فیصد سود دیتے ہیں اور آپ اس کو ساڑھے گیارہ یا پونے بارہ پر راضی کر کے روک لیں، بلکہ آپ کی مہارت تو یہ ہے کہ آپ اسے بتائیں وہ حرام ہے، آپ حلال کام کریں، اگرچہ تھوڑا ہو گا


شریعہ اینڈ بزنس
اسٹینڈنگ کمیٹی اسلامک بینکنگ کے حوالے سے بنائی گئی ہے یا لون اسکیم کے لیے؟

مفتی منیب الرحمن
بنیادی طور پر اس کمیٹی کا مقصد اسلامائزیشن اِن اکنامک ہے۔ یہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ اصل مقصد پوری معیشت کو اسلامائز کرنا ہے۔

شریعہ اینڈ بزنس
اس کا کرائیٹریا کیا ہے؟

مفتی منیب الرحمن
ڈپٹی گورنر سعید انور اس کمیٹی کے چیئرمین ہیں اور ممبران میں، میں (مفتی منیب الرحمان)، ڈاکٹر عمران اشرف عثمانی اور کچھ صنعت کار جیسے ستارہ والے اور چند بینکار شامل ہیں۔

شریعہ اینڈ بزنس
اسٹیٹ بینک کا یہ کہنا کہ اسلامی بینکاری کو 20 فیصد تک لے جائیں گے، یہ اسی کمیٹی کے تھرو ہو گا یا کسی اور طرح؟

مفتی منیب الرحمن
ابھی تک اسٹیٹ بینک کی دیگر بینکوں کے لیے جو کم از کم کیپیٹل ریکوائر منٹ ہوتی ہے وہ سب کے لیے یکساں ہے۔ میں نے بار ہا کہا کہ جب آپ اسلامی بینکوں کے لیے بھی وہی ریکوائر منٹ رکھیں گے جو دوسروں کے لیے تو وہ کیپٹل پورا کرنے کے لیے دوڑیں گے۔ ان کو کچھ رعایت دینی چاہیے۔ اسی طرح ابھی تک قوانین میں FBR کے توسط سے کوئی ترامیم بھی نہیں ہوسکیں، لیکن چیئرمین صاحب اچھے آدمی ہیں اور انہوں نے اپنے نیک مقصد کا اظہار کیا ہے، اللہ کرے پورا ہو جائے۔

شریعہ اینڈ بزنس
اس کمیٹی کا مقصد صرف قانون سازی کی حد تک کام کرنے کا ہے یا مختلف شعبوں میں پراجیکٹ شروع کرنے کا ارادہ ہے یا صرف روڈ میپ تیار کرکے دیں گے کہ اسلامی بینک اس طرح ہو؟

مفتی منیب الرحمن
ہماری کوشش تو یہی ہے کہ یہ کمیٹی چھوٹے چھوٹے کاموں میں الجھنے کے بجائے پورے نظام کی اصلاح کے لیے عملی اقدام کرے۔ باقی پروڈکٹ پر بحث کرنا کہ میزان بینک کی یہ پروڈکٹ ٹھیک نہیں، فلاں کا وہ ٹھیک نہیں، اس کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے لیے اسٹیٹ بینک کا شریعہ بورڈ اور اسی طرح ان کے اپنے شریعہ بورڈ موجود ہیں۔ ایک میٹنگ میں فنانشل بینکوں اور اسلامی بینکوں کے ایگریمنٹس میں فرق پیش کیا گیا تو میں نے کہا: آپ نے اس پر اتنی محنت کی، آخر اس کا کیا فائدہ یا تو تمام بینکوں کو یہ بھجوادیں اور انہیں کہیں کہ دو، چار سالوں میں آپ اسلامک بینکنگ میں تبدیل ہونا چاہیں تو ہو جائیں، میزان بینک والے کہنے لگے: جی، یک دم نہیں ہونا چاہیے، ہم کسی پر جبر نہیں کرنا چاہتے۔ اس میں بڑی بد نامی ہو گی۔ میں نے کہا: آپ بینکوں کے پروڈکٹ بنانے تو بیٹھے نہیں، آپ نظام درست کرنے بیٹھے ہیں تو کریں۔ بد نام تو ویسے بھی ہیں۔

شریعہ اینڈ بزنس
کہیں ایسا تو نہیں کہ ایک دم پورے ملک کے لیے ہمارے پاس پروڈکٹ کی تیاری نہیں ہے کہ ہر چیز کا ’’شریعہ سولوشن‘‘ دے سکیں؟

مفتی منیب الرحمن
نہیں! ایسا نہیں ہے۔ جب آپ بزنس کرنے بیٹھیں گے، آپ کے پاس ریکوائر منٹ آئے گی تو آپ شریعہ بورڈ پروڈکٹ بنائے۔ عرفان صدیقی صاحب نے ایک دفعہ کہا کہ ہمیں کارپوریٹ گاہک کو ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے، وہ کہتا ہے کہ فلاں مجھے اتنا دے رہا ہے۔ میں نے کہا:ہم کون سا اسلامی بینکنگ کر رہے ہیں۔ ٹھیک ہے وہ کہے گا کہ مجھے لون اتنے پرسنٹ پر دو ہم دے دیں گے۔

اصل میں جب تک ہم ذہن میں یہ نہیں سوچیں گے کہ ہم حرام سے حلال کی طرف آ رہے ہیں تو اس میں کچھ نفع کم لے لیں، کچھ نقصان برداشت کر لیں اس وقت تک معاملہ یوں ہی رہے گا۔ میں نے کسی دین دار کو اسلامک بینک کی طرف نقصان برداشت کرکے آتے نہیں دیکھا کہ وہ محض حرام سے بچنے کے لیے اسلامی بینک کی طرف آیا ہو۔ آپ کی مہارت یہ نہیں ہے کہ کوئی گاہک کہے حبیب بینک والے گیارہ فیصد سود دیتے ہیں اور آپ اس کو ساڑھے گیارہ یا پونے بارہ پر راضی کر کے روک لیں، بلکہ آپ کی مہارت تو یہ ہے کہ آپ اسے بتائیں وہ حرام ہے، آپ حلال کام کریں، اگرچہ تھوڑا ہو گا۔ اس میں اللہ برکت ڈالے گا، لیکن ناجائز نہ کریں۔ ایک رکاوٹ یہ بھی ہے کہ اسلامی بینکنگ میں جو لوگ ہیں وہ زیادہ تر دوسرے بینکوں سے آئے ہوئے ہیں، وہاں بھاری تنخواہ تھی تو یہاں اس سے بھی زیادہ ہے۔ نظریاتی لوگ اس میں کم ہیں۔

شریعہ اینڈ بزنس
اسلامی بینکاری کے بارے میں شکوک و شبہات کی وضاحت اور صکوک (پرائز بانڈ) کی خرید و فروخت کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کریں؟

مفتی منیب الرحمن
اسلام ایک دین کامل ہے۔ اس کی ہدایات زندگی کے تمام شعبوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ جس کے بارے میں اصولی ہدایات قرآن، حدیث اور فقہی کتب میں موجود ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے دور میں زندگی سادہ تھی، اس میں کوئی پیچیدگی نہیں تھی، اسی وجہ سے صرف اصولی احکام دیے گئے تھے۔ ریاست کو ان کے نفاذ میں بھی کوئی کسی قسم کی دشواری پیش نہیں آتی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی رہنمائی بھی حاصل تھی۔ مثلاً اگر کوئی مجاہد جہاد کرنا چاہتا، لیکن اس کے پاس زاد راہ ہے، سواری اور نہ ہی گھر کی کفالت کے لیے پیسے۔ تو یہ شخص زکوۃ و صدقات کا مصرف ہوتا تھا، مگر آج کے دور میں فوج ہے اور اس کی تنخواہ حکومت دیتی ہے تو یہ مصرف باقی نہ رہا۔ فقہا کے دور میں بھی مسائل اتنے پیچیدہ و مشکل نہیں تھے۔ یہ تو ان کا امت پر احسان ہے کہ انہوں نے فرض کیے ہوئے مسائل پر گفتگو کر کے ان کو حل کر دیا، لیکن کافی عرصے سے مسلمانوں کے پاس ایسی حکومت نہیں ہے جس کو مکمل شریعت کے تحت چلایا جا رہا ہو اور اس کے لیے معیشت و تجارت سے متعلق شریعت کی رہنمائی لی جائے۔ یہی وجہ ہے دینی اداروں میں پڑھائی جانے والی فقہ ایک نظریاتی چیز بن کر رہ گئی ہے۔

جب پاکستان میں اسلامی بینکنگ کی اجازت ملی تو اس کے لیے پہلے پیپرورک ’’اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان‘‘ میں ہوا۔ پھر اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ایک شعبہ اسی کے لیے قائم ہوا۔ اس کے بعد بینکوں کو اسلامی بینکنگ کی اجازت دی گئی، لیکن اسلامی بینکوں کو کام کرنے کے لیے کھلا میدان نہیں ملا، بلکہ سودی بینکوں کے نظام کے درمیان کام کا موقع فراہم کیا گیا۔ اسی وجہ سے لوگوں کو غلط فہمی ہوئی یا یوں کہیں کہ انہیں غلط فہمی میں مبتلا کر دیا جاتا ہے یہ کہہ کرکہ ’’یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں۔‘‘ جیسے کہ دونوں نظاموں کی شرح نفع ایک یا قریب قریب ہے۔ حالاں کہ ظاہری صورت ایک ہونے سے حکم ایک نہیں ہو جاتا، جیسے: ایک کاٹن کا کپڑا ہو اور بالکل ویسا ریشم کا، اب دونوں کا حکم ایک نہیں ہو گا، بلکہ ریشم پہننا مرد کے لیے حرام جب کہ کاٹن پہننا جائز ہے۔ اسی طرح اسلامی بینکوں میں آمدنی مرابحہ، مشارکہ اور مضاربہ وغیرہ شرعی طریقوں سے آتی ہے جب کہ دوسرے بینکوں میں سودی لین دین سے۔

اس مسئلے میں ہمارے بعض علما بھی غلط فہمی کا شکار ہو گئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ علما کے پاس اس کو سمجھنے کے لیے وقت نہیں ہے یا وہ وقت دینا نہیں چاہتے، کیونکہ اس کے لیے پڑھنا پڑے گا اور پڑھنے کے لیے ہم تیار نہیں۔ اس کے لیے ایک شعبہ قائم کرنا چاہیے۔ پھر اس پر فقہی دلائل کی روشنی میں بحث کی جائے تاکہ جو شق شرعاً جائز نہیں ہے، اسے علما رد کریں اور اس کا متبادل بھی بتائیں تاکہ ’’تعاون علی البر‘‘ ہو، لیکن بات یہاں تک پہنچی کہ کراچی کے بعض علما نے کہہ دیا، اسلامی بینکوں کے ساتھ کاروبار کرنا جائز نہیںاور کبھی میں نے یہ نہیں سنا کہ سودی بینکوں کے ساتھ کاروبار مت کریں،دوسری طرف انہیں علما کے اپنے اداروں کے بینک اکاؤنٹس سودی بینکوں میں ہیں۔ یوں بھی تو ہو سکتا ہے کہ جہاں میسر ہو، اکاؤنٹ اسلامی بینک میں کھلوایا جائے۔

حلال و حرام کے فرق کو ایک مثال سے سمجھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس جب خیبر کی عمدہ کھجوریں لائی گئیں، آپ علیہ السلام نے فرمایا: ’’کیا وہاں کی ساری کھجوریں ایسی ہی ہیں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: نہیں، بلکہ ہم نے ردی کھجوروں کے 2 صاع کے بدلے ایک صاع خریدا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یہ درست نہیں ہے۔ اسے واپس کرو اور اپنی ردی کھجوریں بازار میں فروخت کر کے ان پیسوں کی عمدہ کھجوریں خریدو۔‘‘ اب عقل پر پرکھنے والا کہے گا کہ دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے، ایک ہی بات ہے، لیکن وحی کے شارح کہہ رہے ہیں یہ درست نہیں ہے، جنہیں وحی کی حقانیت پر ایمان ہو گا وہ تو مانے گا اور جنہیں نہیں ہو گا وہ اعتراض کریں گے، کیڑے نکالیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ بینکوں کو بھی بعض مسائل کا سامنا ہے، مثلاً، جیسے مرابحہ کا طریق کار یوں ہے کہ چیز ڈائریکٹ پارٹی کے نام پر لی جاتی ہے، ہونا یوں چاہیے کہ بینک کے نام پر ہو پھر بینک ملکیت کے شرعی اور قانونی تقاضے پورے کر کے جس کو چاہے بیچے۔ اس طریق کار سے گورنمنٹ کا ٹیکس زیادہ لگتا ہے، جب ٹیکس زیادہ ہوں گے تو قیمت زیادہ ہو جائے گی۔ اس سے بچنے کے لیے یہ حیلہ نکالا گیا کہ پارٹی اپنی پسند کی چیز دیکھ لے۔ قیمت کا تعین کرے پھر بینک بائع کے نام سے پیسے جاری کرے نہ کہ پارٹی کے نام سے۔ اس کا ریکارڈ موجود ہو تاکہ سرمایہ کار اسٹاک میں موجود مال کو فنڈریزنگ کا ذریعہ نہ بنا لیں۔