شریعہ اینڈ بزنس بلدیہ عظمیٰ کراچی کے علاوہ بھی سلاٹر ہاؤس ہیں یا صرف یہی ایک ہے؟ ڈاکٹر تاج محمد قائم خانی حکومت کی طرف سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کا ایک سلاٹر ہاؤس ہے جہاں سے گوشت خرید سکتے ہیں۔ پرائیویٹ سلاٹر ہاؤس آٹھ ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت اسلام آباد سے اجازت (Permission) لے رکھی ہے، بلدیہ عظمیٰ کراچی کی طرف سے نہیں۔ ان کو وفاقی حکومت سے اجازت حاصل ہوتی ہے۔ یہ لوگ گوشت ایکسپورٹ کرتے ہیں۔ اگر ان کا گوشت بچ جائے تو بڑے اسٹورز جیسے میکرو اور میٹرو وغیرہ میں لے آتے ہیں۔


شریعہ اینڈ بزنس
ہمارے ہاں جانور پر اتنی زیادہ توجہ کیوں نہیں دی جاتی؟
ڈاکٹر تاج محمد قائم خانی
یہ بات آپ کی بالکل ٹھیک ہے کہ ہمارے ہاں جانور پر توجہ نہیں دی جاتی۔ اگر ایک کسان جانور پر توجہ دیتا، اس کی صحیح طریقے سے دیکھ بھال کرتا تو ہمارے ہاں آج یہ حالت نہ ہوتی۔ آپ دیکھتے ہیں کہ اتنے بڑے شہر کراچی کی دودھ کی ضرورت یہی جانور پوری کرتے ہیں۔ گوشت کی ضرورت بھی ان ہی سے پوری ہوتی ہے۔ آج ہمارے جانوروں کے گوشت میں ذائقہ نہیں ہے۔ دودھ کی وہ مقدار حاصل نہیں ہو پا رہی جو بیس ، پچیس سال پہلے ہوتی تھی۔ ہم نے نئی نسل کو کراس کر دیا ہے جس کی وجہ سے ان مسائل سے دوچار ہیں۔ ہمیں وہ ذائقے والا گوشت حاصل نہیں ہو رہا۔ وہ دودھ کی مقدار حاصل نہیں ہو پا رہی۔ جو ہونی چاہیے تھی۔
شریعہ اینڈ بزنس
کیا صرف ہمارے ملک میں ٹیوب کے ذریعے جانوروں کی نسل بڑھائی جا رہی ہے یا دوسرے ممالک میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے؟
ڈاکٹر تاج محمد قائم خانی
ایشیا کے علاوہ تمام ممالک میں فارمنگ پر ایک مستقل محنت اور تحقیق ہو رہی ہے۔ امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور نیدر لینڈ وغیرہ میں بڑے پیمانے پر فارمنگ ہوتی ہے۔ نئی سے نئی فیڈ لانے کے لیے ریسرچ کی جاتی ہے۔ وہ اپنے مقصد یعنی گوشت اور دودھ حاصل کرنے کے لیے فارمنگ پر بھر پور توجہ دے رہے ہیں۔ ہمارے ہاں جو گائے دو چار سیر دودھ چوبیس گھنٹے میں دے رہی ہے وہ امریکا میں 85 کلو گرام تک دودھ دے رہی ہے۔
مگر یہ حقیقت ہے کہ دیگر ممالک کے جانوروں میں ’’Taste‘‘ نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں تو پکے ہوئے گوشت میں چھوٹے اور بڑے کا فرق محسوس کر لیا جاتا ہے، مگر وہاں کچھ بھی اندازہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ان سب کا ذائقہ بالکل یکساں لگتا ہے۔ اس کی ایک حقیقی سائنسی وجہ ہے۔ وہ یہ کہ اگر ایک جانور کو اس کی اصلی نسل کے ذریعے ہی آگے بڑھایا جا رہا ہے تو اس کی فطر ی لذتیں نصیب ہوں گی۔ جب کہ سائنسی طریقوں کو اپنا کر دیگر نسلوں کو خلط کر کے جانور پیدا کرنے سے گوشت کے اندر سے لذت ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔ یہ بات آپ مزید واضح طور پر ہمارے ہاں پائے جانے والے دیسی اور برائلر انڈے کے ذائقے اور فائدے کے فرق سے سمجھ سکتے ہیں۔
شریعہ اینڈ بزنس
آپ کی KMC کی کوئی ایسی ٹیم بھی ہے، جو مسلسل گشت کر کے دیکھتی رہے، سلاٹر ہاؤسز کا چکر لگائے، وغیرہ؟
ڈاکٹر تاج محمد قائم خانی
ہماری ’’بلدیہ عظمیٰ کراچی‘‘ کی دو ٹیمیں مسلسل گشت پر مامور ہیں۔ ایک ٹیم گوشت کے ناغے والے دن چکر لگاتی ہے۔ تاکہ گوشت کا ناغہ یقینی بنیادوں پر کیا جا سکے۔ یعنی منگل اور بدھ کے دن۔ اس دن کسی دکان پر کوئی زندہ جانور نظر آجائے تو اسے بھی اٹھا لیتی ہیں۔ ایک دوسری ٹیم جو باقی دنوں میں مختلف مقامات پر جا جا کر ’’اسٹمپ‘‘ چیک کرتی ہے۔ کہیں غیر قانونی یا غیر شرعی انداز میں ’’سلاٹرنگ‘‘ ہو رہی ہو تو اس کی روک تھام کا بندوبست کرتی ہے۔
شریعہ اینڈ بزنس
اسٹمپ تو گوشت کے اوپر لگتی ہے، اگر کوئی قصاب چیک کرنے والوں سے کہے میں تو وہ حصہ بیچ چکا ہوں، جس پر اسٹمپ لگی ہوئی تھی، تب آپ لوگ کیا کریں گے؟
ڈاکٹر تاج محمد قائم خانی
وہ اس حصے کو یقینی طور پر بالکل آخر میں فروخت کرنے کی کوشش کرتا ہے، کیونکہ سارا قصہ ہی اسی اسٹمپ کا ہے، وہ اسی مہر کے لیے ہی تو سلاٹر ہاؤس سے جانور لے کر آتا ہے، پھر چیکنگ بھی ہونا ہوتی ہے، اسی طرح گاہک بھی اسی سے مطمئن ہوتا ہے۔ لہذا کوئی بھی قصاب ایسا کر سکتا اور نہ ہی کہہ سکتا ہے۔

پھر یہ بات بھی کہ اسٹمپ گوشت کے اوپر موجود چربی کے اوپر لگائی جاتی ہے۔ پانی وغیرہ لگانے سے بھی نہیں مٹتی۔ یہ بہت خاص مہر ہوتی ہے، ایک سیل پانچ سے سات لاکھ روپے میں بنتی ہے۔ اس کے روزانہ کوڈ بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ کبھی ’’دو ستارہ‘‘ ہوتی ہے اور کبھی ’’سات ستارہ‘‘ ہوتی ہے۔ وہ ہوتی بھی بہت مخصوص ہاتھوں میں ہے، وہی اس کو لگا سکتے ہیں۔ اس اسٹمپ کی سیاہی بھی خاص ہوتی ہے۔ جس طرح نوٹ چھاپنے کی سیاہی خاص ہوتی ہے۔
شریعہ اینڈ بزنس
گوشت کو بطور ایک انڈسٹری کے، ہماری تاجر برادری عالمی منڈی میں پہنچا رہی ہے یا نہیں؟
ڈاکٹر تاج محمد قائم خانی:
گوشت دراصل ایگریکلچر کا حصہ ہے، پھر اس ایگریکلچر کا حصہ ہے: لائیو اسٹاک اور لائیو اسٹاک کا حصہ ہے پولٹری۔ پورا ملک اسی زراعت کے ذریعے ہی چل رہا ہے۔ ہمارے ملک کے 70 فیصد لوگ ایگریکلچر سے ہی وابستہ ہیں۔ اب اسی ستر فیصد میں لائیو اسٹاک شامل ہے اور پولٹری بھی۔ اس وقت پولٹری پاکستان کی دوسرے نمبر کی انڈسٹری بن چکی ہے۔ اس کا پورا نظام وجود میں آ چکا ہے۔ انڈا لانے سے چوزہ تیار کرنے اور اس کی پرورش تک ہر چیز کو بہت منظم کیا گیا ہے۔ ایک وقت میں ایک، ایک لاکھ چوزہ نکلتا ہے۔ جو صرف 35 سے 40 دن میں مکمل مرغی بن جاتی ہے۔ لائیو اسٹاک یعنی مرغی کے علاوہ دیگر حلال جانور، اس سے بھی بے شمار لوگ وابستہ ہیں۔ کوئی دودھ کی ڈیری کے لیے اور کچھ گوشت کے لیے جانور پال رہے ہیں۔ تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو عید کے لیے جانور پالتے ہیں۔ جنگل میں چری ہوئی بچھیا 60، 70 ہزار کی، جب کہ فارمی طور پر پلا ہوا جانور 2 لاکھ کا ہوتا ہے۔ یہ لوگ زیادہ منافع کماتے ہیں۔ ان کا خرچہ سال کا زیادہ سے زیادہ 20 سے 25 ہزار روپے ہوتا ہے۔ بڑی سطح پر فارمنگ کرنے والوں کو روزانہ 2 ڈھائی سو کا خرچ فی جانور پڑتا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ کاروبار 2 سو فیصد منافع والا ہے۔
شریعہ اینڈ بزنس
یہ اگر اس قدر منافع بخش بزنس ہے تو کیا حکومتی سطح پر اس کی بھر پور سرپرستی اور تعاون کیا جا رہا ہے یا نہیں؟
ڈاکٹر تاج محمد قائم خانی
حکومت اور این جی اوز اس پر توجہ دے رہے ہیں، مگر صحیح بات یہ ہے کہ حکومت کو جتنی دلچسپی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا، اس میں بہت کمی ہے۔ دیگر ممالک کو دیکھتے ہوئے ہماری حکومت کی توجہ بہت کم ہے۔ دیگر ممالک میں حکومتی سرپرستی کا یہ حال ہے کہ انہوں نے ایک ایک جانور کا ریکارڈ رکھا ہوتا ہے۔ اگر ڈیری فارمنگ کو ایجوکیشن کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ انقلاب آ جائے گا۔ کیونکہ اس وقت دودھ اور گوشت کا کام ایسے لوگوں کے پاس ہے جو بالکل ان پڑھ اور لوئر کلاس کے لوگ سمجھے جاتے ہیں۔ انہیں اس کام کے فوائد اور منافع کا صحیح طور پر اندازہ بھی نہیں۔ اگر ہم لوگ اس کو پڑھنا، پڑھانا شروع کر دیں تو اس کام کو بے حد اہمیت ملے گی۔
آپ کراچی کی بھینس کالونی، بلال کالونی اور ناگوری کالونی میں جا کر دیکھ لیجیے۔ صاف ان پڑھ لوگ اس اہم ترین کام کو لے کر چل رہے ہیں۔ بزنس کمیونٹی اس کام کو اچھی طرح اپنا لے، اس میں خاطر خواہ انویسٹمنٹ کرے تو ملکی معیشت دنوں میں ترقی کر لے۔ سیدھی بات ہے کہ ہم اپنے گھر کی چیز پر توجہ نہیں دے رہے، یہ تو گویا ہمارا گھریلو کاروبار اور اپنی ذاتی انڈسٹری ہے۔ آج بزنس مین بے تحاشا نقصان اس وجہ سے اٹھا رہا ہوتا ہے کہ فلاں چیز کی ویلیو انٹرنیشنل مارکیٹ میں گر گئی۔ آج ہم نے اس گھر کی چیز پر توجہ دے کر اس میں انویسٹمنٹ کی ہوتی تو یوں ہر وقت بیرونی طاقتوں کے رحم و کرم پر نہ ہوتے۔

میں تو کہا کرتا ہوں چار ٹانگوں والا جانور پرافٹ بھی چار سو فیصد دیتا ہے۔ آپ دیکھتے ہیں صرف ایک ہی جانور کبھی پورا گھر چلا رہا ہوتا ہے۔ اب آپ خود بتائیے، اگر کچھ اور پڑھے لکھے لوگ اس طرف آ جائیں، جدید سائنسی اصولوں کو سامنے رکھ کر اس شعبے کو ترقی دیں تو ملکی معیشت کو کتنا فائدہ ہو گا؟ جو گائے، بھینس ایک وقت میں 4 کلو دودھ دیتی ہے یا پورے دن میں 8 کلو دودھ دیتی ہے تو ہم جدید سائنسی طریقے اپنا کر یہی مقدار کئی گنا کر سکتے ہیں۔ امریکا میں ایک ریسرچ کے نتیجے میں 70، 80 لیٹر دودھ ایک جانور سے حاصل کیا جا رہا ہے۔ آج اس پیشے کو نہایت حقیر سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ہم اتنی بڑی منافع بخش چیز سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔
شریعہ اینڈ بزنس
آپ نے کہا پولٹری میں پاکستان دوسرے نمبر پر ہے، باقی لائیو اسٹاک میں کتنی یوٹینشل ہے کہ اس کے ذریعے پاکستان آگے بڑھ سکے؟
ڈاکٹر تاج محمد قائم خانی
پاکستان جانوروں کے لحاظ سے دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے۔ اس میں گائے، بھینس، بکری، بھیڑ تمام دودھ دینے والے جانور اس میں پائے جاتے ہیں۔ پھر لائیو اسٹاک سے ہم گوشت، دودھ، اون اور چمڑے کی شکل میں بے شمار فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ آپ کا پڑوسی ملک ’’چائنا‘‘ ہر چیز کی طرح ’’جانوروں‘‘ میں سرمایہ کاری میں بھی ہم سے بہت آگے ہے۔ وجہ صرف یہی ہے ان ممالک نے اس شعبے میں بھی ٹیکنالوجی کو اپنایا ہے۔ ہم سالوں پہلے جس طرح اس میں چل رہے تھے، آج بھی انہیں دیسی طریقوں کے ساتھ چمٹے رہتے ہیں۔ کسی قدر ہمارے ہاں انویسٹمنٹ ہے تو وہ ذاتی بنیادوں پر ہے، سرکار اس طرف متوجہ نہیں ہے۔ جب تک یہ شعبہ حکومت کی اولین ترجیح نہیں بنے گا، ہم اس میں ہرگز ترقی نہیں کر سکتے۔
شریعہ اینڈ بزنس
ہمارا میگزین تاجر برادری کا میگزین ہے، آپ اس انٹرویو کے توسط سے اپنے تاجر بھائیوں کو لائیو اسٹاک میں انوسٹمنٹ سے متعلق کیا رہنمائی اور مشورہ دینا چاہیں گے؟
ڈاکٹر تاج محمد قائم خانی
میرا پہلا مشورہ تو یہ ہے کہ اگر اس شعبے میں بزنس کرنے کا ارادہ ہو تو ڈیری فارمنگ میں انویسٹمنٹ کریں۔ کیونکہ ہمارے ہاں Latest ٹیکنالوجی کے ڈیری فارم بن چکے ہیں۔ جانوروں کے لیے خصوصی فیڈ (غذا) تیار کی جانے لگی ہے۔ دوسری انویسٹمنٹ، فارم کا اسٹرکچر تیار کرنے میں ہو سکتی ہے۔ مرغیوں اور جانوروں کا شیڈ، اس کے گوبر کو گیس بنانے کی مشین، دودھ دوہنے کی آٹومیٹک مشینری، آلات وغیرہ۔ ان چیزوں کی ہمارے ملک میں ضرورت ہے۔ تاجر حضرات اس میں انویسٹمنٹ کر سکتے ہیں۔ دودھ فروخت کرنے والا اپنے ہاں ایک گھنٹے کے لیے بھی دودھ روک نہیں سکتا حتی کہ اگر گھر میں میت رکھی ہے تو جنازہ روک لے گا، پہلے دودھ نکالے گا۔ لہذا لوگوں کو معاون آلات فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمارا ملک جانوروں کا ساتواں بڑا ملک ہے تو خود سوچیے اس کو جدید ٹیکنالوجی اور آلات کی کتنی ضرورت ہے۔

برطانیہ میں جس کے پاس سو بھینسیں ہوں، اس کو ایوارڈ دیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں ایسے لوگ بھی ہیں، جن کے پاس 10 ہزار تک جانور موجود ہیں۔ اس سے جتنا فائدہ اٹھایا جا سکتا تھا، ہم نہیں اٹھا رہے۔ 20 ہزار چوزے کا ایک شیڈ، ایک کروڑ روپے کی لاگت سے بنتا ہے۔ چنانچہ ’’کنٹرول شیڈ‘‘ کے نام سے بہت بڑی انویسٹمنٹ اس میں بھی کی جا سکتی ہے۔