سوال ہمدرد لیبارٹریز (وقف) کی تاریخ اور کچھ پس منظر سے نئی نسل کو آگاہ کیجیے۔
ڈاکٹر نوید الظفر
یہ ادارہ 1906 ء میں دہلی میں قائم ہوا۔ کسی ادارے کا ایک صدی سے زیادہ قائم اور رواں رہنا بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔ ایک ایسے حکیم نے قائم کیا، جن کا نام حکیم محمد عبد الحمید تھا۔یہ شہید حکیم محمد سعید صاحب کے والد تھے۔ جس وقت حکیم عبد الحمید صاحب کا انتقال ہوا اس وقت حکیم محمد سعید صاحب کی عمر صرف 2 سال تھی۔ بڑے بھائی کی عمر 14 سال تھی۔ اس کٹھن وقت میں اس ادارے کو مرحوم کی بیوہ نے سنبھالا۔ اس زمانے میں کیا عورت کا مقام ہو گا، کیا پردہ ہو گا، کیا سسٹم ہو گا، اس کا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔


٭…کاروبار کو اس نیت کے ساتھ کرنا کہ اس میں اخلاص ہو، عوام الناس کی خدمت ہو، نیز اس کی آمدنی کے مصارف صحت اور تعلیم پر خرچ ہوںگے،بانی شہید کی وصیت کے مطابق ہمدرد وقف لیبارٹریز انہی بنیادوں پر کاربند ہے ٭…جدت اور نئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے میں نے حکیم سعید شہید کوایک عام پاکستانی سے بہت آگے پایا۔ وہ بہت فیوچرسٹک تھے اور کوشش یہ کرتے تھے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ضروری تبدیلیاں لے کر آئیں

اس کے باوجود انہوں نے اس پورے نظام کو سنبھالا اور اس قابل کیا کہ جب حکیم صاحب جوان ہوئے، ان کے بڑے بھائی بھی بڑے ہوئے، تو یہ ادارہ مستحکم ہو کر اپنے پاؤں پر کھڑا ہو چکا تھا۔ 1947 ء میں جب پاکستان آزاد ہوا تو بڑے بھائی نے فیصلہ کیا کہ وہ ہندوستان میں رکیں گے اور چھوٹے بھائی نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ پاکستان جا کر ہمدرد کی بنیاد ڈالیں گے۔ یوں ہمدرد کی بنیاد پاکستان میں جون 1948 ء میں کراچی میں رکھی گئی۔ اتفاق دیکھیے کہ کراچی میں اس جگہ قائم ہوا جس جگہ پر 1998 ء میں حکیم محمد سعید کی شہادت ہوئی۔ یہ شہادت ہماری قوم کے لیے ایک بڑا سانحہ تھا جس میں ایک قومی شخصیت ہم سے جدا ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے!
سوال
حکیم صاحب کی ذات کے کچھ پہلوؤں پر روشنی ڈالیے؟
ڈاکٹر نوید الظفر
شہید حکیم محمد سعید کی شخصیت ہمہ جہت تھی۔ میں تین الفاظ میں ان کی زندگی کا احاطہ کروں گا۔ میرے زاویہ نگاہ سے وہ ایک اچھے اور سادہ مسلمان تھے۔ ایک پکے پاکستانی تھے جو پاکستان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ وہ وقت کی قدر کرنے والے محنتی انسان تھے، جن کی زندگی کا نصب العین خدمت خلق تھا۔ یہ تین چیزیں حکیم صاحب کی زندگی کا احاطہ کرتی ہیں۔ بہرحال! وہ ایک مثالی انسان تھے۔یہ تینوں بڑی خوبیاں سچا مسلمان، پکا پاکستانی اورجذبہ خدمت خلق سے سرشاری ایک ہی وقت میں ایک شخص میں جمع ہو گئی تھیں۔
سوال
ہمدرد لیبارٹیز (وقف) اور ایک عام کمرشل ادارے میں آپ کیا فرق دیکھتے ہیں؟
ڈاکٹر نوید الظفر
ایک بنیادی فرق، جسے ایک لفظ سے define کرنا چاہیں تو وہ ہے: ’’خدمت‘‘ یعنی جو بھی آمدنی اس کاروبار سے ہمدرد کو حاصل ہوتی ہے اس کو وقف کر کے یہ طے کر دیا جائے کہ یہ رقم کن مقاصد کے لیے خرچ ہو سکتی ہے اور وہ خود بھی اس کے ملازم ہوں گے۔ ایک تو یہ سب سے بڑا فرق ہے ایک عام ادارے میں اور ہمدرد میں، اسی لیے اس کا نام ’’ہمدرد لیبارٹیز (وقف) پاکستان‘‘ ہے۔ وقف کرنے کا کام حکیم صاحب نے اپنی زندگی میں ہی کر دیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ہماری تربیت کی، وہ بھی اس انداز میں کہ کاروبار کو اس نیت کے ساتھ کرنا ہے کہ اس میں اخلاص ہونا شرط اول ہے۔ اس میں عوام الناس کی خدمت ہونا ضروری ہے اور اس کی آمدنی کے مصارف ہیلتھ اورایجوکیشن ہے،یہ دو بنیادی مقاصد ہیں۔ ان ہی دو مقاصد پر ہمدرد کی آمدنی خرچ ہو سکتی ہے۔ اس میں کوئی بھی تبدیلی نہیں کر سکتا۔

’’وقف‘‘ کا تصور شریعت میں موجود ہے۔ جو شخص اللہ کے نام وقف کرتا ہے، وہ اس کی آمدنی میں سے 25 فیصد حصہ اپنے اور اپنے خاندان کے لیے رکھ سکتا ہے، لیکن حکیم صاحب نے یہ ہمت کی کہ وہ 25 فیصد بھی چھوڑ دیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اے کے بروہی صاحب ہمارے وکیل ہوا کرتے تھے۔ ان کے علاوہ خالد اسحاق صاحب ہمارے وکیل تھے تو جب حکیم صاحب یہ فیصلہ فرما رہے تھے کہ 25 فیصد چھوڑ دیا جائے تو انہوں نے مشورہ دیا آپ اپنے طور پر شریعت میں تبدیلی کر رہے ہیں تو اس پر حکیم صاحب کا جواب تھا: ’’یہ میرا اختیار ہے کہ میں اپنے ایک ایک پیسے کو اللہ کے نام وقف کر دوں، میری اولاد کو اختیار نہیں ہے۔ میرے مرنے کے بعد میری اولاد کو اگر پیسے کی حرص ہوئی تو وہ جا کر کہہ سکتی ہے کہ یہ پیسہ انہیں دیا جائے، لیکن میری ہدایت یہ ہے کہ میری اولاد نے اگر اس ادارے میں کام نہیں کیا تو اس وقف کے ایک پیسے کا بھی انہیں حق نہیں ہے۔‘‘
سوال
شہید حکیم محمد سعید کی صاحبزادی سعدیہ راشد صدر ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان اور حکیم صاحب میں کاموں کے حوالے سے کوئی تبدیلی دیکھتے ہیں؟
ڈاکٹر نوید الظفر
دیکھیے! تبدیلی تو ہے۔ حکیم صاحب جس طرح کی شخصیت کے مالک تھے اور وہ جس طرح کام کرتے تھے یقیناً کسی اور آدمی سے توقع کرنا کہ وہ ان کے کام کو ڈلیور کر سکے گا، یہ کسی کے لیے بھی بہت مشکل ہے، لیکن میرا خیال ہے اگر کوئی کر سکتا ہے تو وہ صرف ان کی اولاد ہے اور ان کی ایک اولاد محترمہ سعدیہ راشد ہیں۔ اس وقت ہمدرد لیبارٹیز (وقف) کی چیئر پرسن ہیں، ہمدرد فاؤنڈیشن کی صدر ہیں اور ہمدرد یونیورسٹی کی چانسلر ہیں۔ کسی ایک خاتون خانہ کے لیے جس کا شوہر اور بچے بھی ہوں، وہ گھر کا حساب بھی دیکھتی ہو، دفتر بھی دیکھتی ہو اور یونیورسٹی کو بھی دیکھتی ہو … یوں وہ متعدد ذمہ داریاں بخوبی نبھا رہی ہو تو آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں،یہ تمام خصوصایت ان کے ’’ڈی این اے‘‘ میں ان کے والد سے آئی ہیں۔ کامیابی تو اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ آپ کی نیت دیکھتا ہے، جدوجہد دیکھتا ہے پھر آپ کو آگے لے کر چلتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اللہ کا ان پر بہت کرم ہے۔
سوال
1948 ء میں ایک انسٹی ٹیوٹ بنا اور اب ہم 2013 ء میں کھڑے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ تقاضے تبدیل ہوئے، ٹیکنالوجی تبدیل ہوئی، کیا زمانے کے ساتھ چلتے ہوئے یہ تمام تر ڈیولپمنٹ آپ بھی اپنے ادارے میں لے آئے یا نہیں؟
ڈاکٹر نوید الظفر
ہمدرد نے کافی کاوشیں کی ہیں اور منصوبہ بندی کے ساتھ کوششیں کی ہیں۔ آپ صرف اس بات سے ہی اندازہ لگائیے کہ بلسٹرپیک مشین پاکستان میں پہلی مرتبہ ہمدرد میں آئی اور 1981 ء میں حکیم صاحب کے دور میں ہی آئی۔ اس سے آپ حکیم صاحب کی اپروچ کا اندازہ لگائیے۔ وہ اتنی دنیا دیکھتے تھے اور معلومات جمع کرتے تھے۔ ان کی خواہش ہوتی تھی کہ اپنے فن کو( جس کو آپ طب یا حکمت کہہ سکتے ہیں) قائم رکھ سکیں اور جدید تقاضوں کے مطابق ڈلیور کر یں کہ ایک عام آدمی بھی اس کو قبول کر سکے۔

جدت اور نئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے میں نے حکیم صاحب کو ایک عام پاکستانی سے بہت آگے پایا۔ وہ بہت فیوچرسٹک تھے اور کوشش یہ کرتے تھے کہ ضروری تبدیلیاں لے آئیں اور ایسی پروڈکٹس ریسرچ کر کے سامنے لائیں جو ان کے فن کو بھی مطمئن کر سکے اور ماڈرن ٹیکنالوجی کے حوالے سے جدید تعلیم یافتگان کو بھی۔
سوال
آپ یہ بتائیے کہ اس وقت آپ کی کیا ذمہ داریاں ہیں؟
ڈاکٹر نوید الظفر
میں سمجھتا ہوں کہ میری صرف ایک ہی ذمہ داری ہے اور وہ یہ کہ ’’تجارت بطور عبادت‘‘ کے جس فلسفے پر حکیم صاحب نے ہمیں شہادت کے وقت چھوڑا تھا، میں اسی پر قائم رہوں، اسے آگے بڑھاتا رہوں۔ اس کے علاوہ میرا کوئی مقصد نہیں ہے۔ ہمدردسے میرا خاندانی تعلق پہلے بھی تھا اور آج بھی ہے۔ میں جب امریکا سے پڑھ کر آیا تو حکیم صاحب نے ہی مجھ سے کہا کہ ملازمت کی تلاش میں پھرو گے، گھر میں کیوں کام نہیں کرتے؟ چونکہ اس وقت میں نوجوان تھا، امریکا سے تازہ تازہ آیا تھا تو میں نے کہا آپ مجھے مطمئن بھی کر سکیں گے، بڑی خالص دنیاوی بات کی میں نے۔ انہوں نے کہا: کام دیکھو، کام کو سمجھو اور پھر ہمارے مزاج کو سمجھو، پھر تم دیکھو۔
سوال
آپ اپنے تعلیمی سفر کے حوالے سے بھی بتائیے۔ آپ امریکا بھی گئے، تعلیم میں بڑا مقام حاصل کیا۔ آپ کو اس دوران کیا کیا دشواریاں پیش آئیں، ہمارے نوجوانوں کو ان سب باتوں کی ضرورت ہے، سب چیزیں اتنی آسانی سے نہیں مل جاتیں؟
ڈاکٹر نوید الظفر
دو باتیں ہیں: دشواریاں تو ہوتی ہیں، اگر انسان ہمت کرے تو اللہ دشواریاں آسان کر دیتا ہے۔ میں ایک متوسط طالب علم تھا اور اب بھی ہوں۔ میں نے میٹرک فرسٹ ڈویژن سے کیا، میں نے انٹرمیڈیٹ فرسٹ ڈویژن سے کیا۔ اس کے بعد میرا داخلہ میڈیکل میں نہیں ہوا تو بہت دلبرداشتہہوا،میں ڈاکٹر بننا چاہتا تھا۔ پھر میں فارمیسی میں چلا گیا، لیکن اس سے مجھے فائدہ یہ ہوا کہ میں نے کراچی یونیورسٹی میں اپنی فارمیسی کلاس میں ٹاپ کیا اور قائد اعظم گولڈ میڈل حاصل کیا۔

اس کے بعد کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا۔ بعد ازاں میرا اسکالرشپ پر ایڈمیشن ہوا اور میں امریکا چلا گیا۔ وہاں میں نے ماسٹرز کیا اور جب میں وہاں پی ایچ ڈی پروگرام کر رہا تھا تو اس وقت میری والدہ کا فون آیا کہ واپس آ جاؤ تم نے کافی پڑھ لیا ہے۔ ہم نے تو اپنے گھر میں یہی سیکھا تھا کہ جب تک ماں باپ ہیں ان کی خدمت کر لو اور میں پی ایچ ڈی چھوڑ کر پاکستان واپس آ گیا۔ پی ایچ ڈی میں نے یہاں آ کر کی۔ یہاں نوکری کی تلاش کر رہا تھا کہ ایک دن حکیم صاحب نے مجھ سے کہا کہ تم کہاں مارے مارے پھر رہے ہو، یہاں آؤ۔ یوںمیں نے ہمدرد جوائن کر لیا۔ انہوں نے مجھے 6 مہینے دیے اور مجھ سے کہا کہ ہماری ایک چھوٹی سی دیسی کمپنی ہے، تم باہر سے پڑھ کر آئے ہو، تمہاری اپروچ کچھ اور ہے اور ہم کسی اور طرح سے کام کر رہے ہیں۔ تم دو مہینوں میں فیصلہ کرو کیا تم میں یہ صلاحیت ہے کہ تم ہمیں تبدیل کر سکو؟ پھر میں نے سوچا کہ اب میں آ گیا ہوں تو کچھ کرنا ہے۔ چنانچہ میں نے ان دو مہینوں کے بعد پلٹ کر نہیں دیکھا کہ فیصلہ صحیح تھا یا غلط؟ میں یقیناً مطمئن ہوں۔ مجھ میں جتنی صلاحیت ہے اس کے مطابق کام کر رہا ہوں۔

لیکن یہ اعتراف ہے کہ حکیم صاحب کی تقلید کرنا بہت مشکل ہے۔ وہ آدمی جس کی نیند 5 گھنٹے پر مشتمل ہو، وہ آدمی جس نے اپنی زندگی میں 50 لاکھ مریض دیکھے ہوں، وہ آدمی جو کراچی میں ہوتے تو ہفتہ اور اتوار کو صبح نماز کے بعد سے عصر تک مریض دیکھتے تھے، وہ آدمی جس نے زندگی میں شاید ما سوائے کچھ وجوہ کے اس ہفتہ اور اتوار کے دن کا روزہ نہ چھوڑا ہو تو اگر ایسے آدمی کے پیچھے کھڑا ہونا اور اس کی تقلید کرنا ہو تو یہ خود ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ ہم شروع سے ہی اس مشکل میں رہے کہ جتنا بھی کریں حکیم صاحب کے مقابلے میں وہ کم ہی ٹھہرے گا۔ (جاری ہے)