شریعہ اینڈ بزنس آپ نے ذکر کیا کہ اسلامی بینکاری کے حوالے سے لوگوں میں Awarenessکی کمی ہے۔ لوگ اصل میں پریشان اس وقت ہوتے ہیں جب کنونشنل بینکوں کے ساتھ اسلامک ونڈوز کھل جاتی ہیں۔

 

شریعہ اینڈ بزنس   آپ نے ذکر کیا کہ اسلامی بینکاری کے حوالے سے لوگوں میں Awarenessکی کمی ہے۔ لوگ اصل میں پریشان اس وقت ہوتے ہیں جب کنونشنل بینکوں کے ساتھ اسلامک ونڈوز کھل جاتی ہیں۔مفتی احسان وقار  یہ اشکال واقعتا ہوتا ہے کہ جوبرانچ مکمل اسلامی ہو، عوام اسے تو صحیح سمجھتے ہیں، لیکن اگر کسی کنونشنل بینک کی اسلامک برانچز ہوں تو اس پر ان کو اشکال رہتا ہے، جس سے وہ پریشان ہو جاتے ہیں۔تاہم سمجھنے کی بات یہ ہے کہ آج ITکا سسٹم بہت ترقی کر چکا ہے۔

سوال ہمدرد لیبارٹریز (وقف) کی تاریخ اور کچھ پس منظر سے نئی نسل کو آگاہ کیجیے۔
ڈاکٹر نوید الظفر
یہ ادارہ 1906 ء میں دہلی میں قائم ہوا۔ کسی ادارے کا ایک صدی سے زیادہ قائم اور رواں رہنا بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔ ایک ایسے حکیم نے قائم کیا، جن کا نام حکیم محمد عبد الحمید تھا۔یہ شہید حکیم محمد سعید صاحب کے والد تھے۔ جس وقت حکیم عبد الحمید صاحب کا انتقال ہوا اس وقت حکیم محمد سعید صاحب کی عمر صرف 2 سال تھی۔ بڑے بھائی کی عمر 14 سال تھی۔ اس کٹھن وقت میں اس ادارے کو مرحوم کی بیوہ نے سنبھالا۔ اس زمانے میں کیا عورت کا مقام ہو گا، کیا پردہ ہو گا، کیا سسٹم ہو گا، اس کا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔

شریعہ اینڈ بزنس بلدیہ عظمیٰ کراچی کے علاوہ بھی سلاٹر ہاؤس ہیں یا صرف یہی ایک ہے؟ ڈاکٹر تاج محمد قائم خانی حکومت کی طرف سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کا ایک سلاٹر ہاؤس ہے جہاں سے گوشت خرید سکتے ہیں۔ پرائیویٹ سلاٹر ہاؤس آٹھ ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت اسلام آباد سے اجازت (Permission) لے رکھی ہے، بلدیہ عظمیٰ کراچی کی طرف سے نہیں۔ ان کو وفاقی حکومت سے اجازت حاصل ہوتی ہے۔ یہ لوگ گوشت ایکسپورٹ کرتے ہیں۔ اگر ان کا گوشت بچ جائے تو بڑے اسٹورز جیسے میکرو اور میٹرو وغیرہ میں لے آتے ہیں۔

شریعہ اینڈ بزنس مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے تو عوام الناس آپ سے خوب متعارف ہیں، اسلامی بینکاری کے حوالے سے اپنا تعارف کروائیں کہ کس کس مالیاتی ادارے کو آپ شریعہ ایڈوائزنگ فراہم کر رہے ہیں؟مفتی منیب الرحمن میں برج بینک اور داؤد فیملی تکافل کا شریعہ ایڈوئزر اور حکومت کی ابھی جو اسٹینڈنگ کمیٹی بنی ہے اس کا ممبر بھی ہوں۔

سعود الفضل مراکش کے ایک بلند ہمت اور جفاکش تاجرہیں۔ آپ مراکش کے بہت بڑے اور مشہورصحرائی شہر ’’عیون‘‘ کے رہائشی ہیں۔ آپ نے ٹھیکیداری اور عوامی خدمات فراہم کرنے والی مشہور کمپنی ’’سعود الفضل للمقاولات والخدمات العامہ‘‘کی داغ بیل اس وقت ڈالی جب آپ کالج میں بارہویں جماعت کے طالب علم تھے۔ کاروبار کے آغاز پر مختلف پریشانیوں اور چیلنجوں نے آپ کا استقبال کیا، لیکن اللہ کے فضل اور عزم وہمت کی مضبوطی سے آپ کو مثالی کامیابی ملی۔ کاروبار کی روز افزوں ترقی کے ساتھ آپ اپنے شہر کے باسیوں اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور ہر موقع و محل کی مناسبت سے ان کی مدد اور خدمت میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔