عوام غیرقانونی مضاربہ کمپنیوں سے ہوشیار رہیں

حال ہی میں مضاربہ اسکینڈل نے سر اٹھایا۔ بے شمار افراد کنگال ہو گئے اور بہت سے چہرے بے نقاب ہو ئے۔ مگر اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اسلامی ہدایات کے مطابق سرمایہ کاری سے لوگوں کا اعتماد اٹھ گیا۔ لوگ سمجھنے لگے کہ مضاربہ کو پیسہ تو ڈوبے گا ہی۔ ملکی سطح پر SECP کی یہ ذمہ داری ہے کہ مضاربہ کمپنیوں کو لائسنس جاری کرے، ان کی نگرانی کرے۔ اگر کوئی مضاربہ کمپنی شرعی یا اخلاقی طور پر درست کام نہیں کر رہی تو اس کے خلاف اقدامات کرے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

حلال کے پھیلاو اور حرام سے بچاو کے لیے اپنا کردار ادا کریں

شریعہ اینڈ بزنس
جانور خریدنے سے ذبح اور پھر گاہک کو پہنچانے تک آپ نے کن امتیازی چیزوں کا اہتمام کیا ہے؟
مفتی محمد ذکاء اللہ
ہم جانور خریدنے کے لیے جس پارٹی سے رابطہ کرتے ہیں، وہ وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ اکثر تاجر یہ جانور ادھار خریدتے ہیں، جبکہ ہم نقد خریدتے ہیں۔ نقد خریدنے سے قیمت میں بھی ذرا کمی ہو جاتی ہے۔ مگر چونکہ یہ ریٹ حکومت کی طرف سے متعین ہوتا ہے، لہذا عام طور پر ریٹ فکس ہی ہوتے ہیں۔ لیکن اگر آدمی فارم سے براہ راست خریدے تو بیچ کے کمیشن وغیرہ سے جان چھوٹ جاتی اور نقد کی وجہ سے کچھ رعایت ہو کر مناسب قیمت میں جانور مل جاتا ہے۔ اگر یہ کاروبار وسیع پیمانے پر ہو تو کافی فائدہ ہو جاتا ہے، ورنہ تھوڑی مقدار میں خریدنے پر اوپر کے اخراجات کے باعث کچھ زیادہ فائدہ نہیں ہو پاتا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تھرکول ایران اور سعودی عرب کے تیل سے زیادہ قیمتی ہے

پاکستان میں جب بزنس پالیٹکس کا ذکر ہوتا ہے تو ایک نام سب سے نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ ذکر کراچی چیمبر آف کامرس کا ہو، تجارتی وفود کے تبادلے کا ہو، تجارتی وفود کا ہو یا سرمایہ کاری بورڈ کا، جناب زبیر موتی والا سب جگہوں پر نمایاں ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو درد مند دل، ان تھک حوصلہ اور ہر دم جواں تڑپ عطا کی ہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

مارکیٹنگ کے نت نئے طریقوں نے کمپنی کو دنوں میں کامیاب کیا

سوال:  کون سی حکمت عملی اختیار کی جس کی وجہ سے کسٹمرز آپ کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں؟ محمد عقیل میری کمپنی ’’جریر کمپنی گروپ‘‘ نے مارکیٹنگ کے لیے جو طریقہ اختیا ر کیا، وہ ایک اہم اور بالخصوص کتب فروشوں کے لیے اچھوتا طریقہ تھا۔ میں نے ایک لائحہ عمل بنایا جوعام کسٹمرز کے لیے اور بڑے پیمانے کی تجارت کے لیے موزوں تھا، اسے دو حصوں میں تقسیم کیا۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

کتب فروشی کاروبار بھی ہے اور قوم کی خدمت بھی

سوال: آپ کا تعلیمی پس منظر کیا ہے؟ محمد عقیل:میری پیدا ئش ریاض میں ہو ئی۔ سیکنڈری تک تعلیم ریاض میں ہی حاصل کی۔ سیکنڈری کے بعد ’’شاہ فہد یو نیورسٹی‘‘ کے شعبہ انجینئرنگ میں داخلہ لے کر وہاں سے ڈگری حاصل کی۔ پھر امریکا جا کر ’’جامعۃ بروکلی‘‘ سے ماسٹرز بھی کیا۔ بعد ازاں واپس ریاض لوٹ آیا۔ یہ تقریباً اُنتالیس، چالیس سال پہلے کی بات ہے۔ اس وقت علم و فن کی وہ اہمیت نہیں تھی جیسی اہمیت آج کے دور میں ہے۔ تعلیم کے بعد ملازمت اور روزگار کا مسئلہ درپیش تھا۔ اس کے لیے میں عبداللہ ابو الخیل کے انجینئرنگ کے مشاورتی دفتر سے وابستہ ہوا اور تین سال تک وہاں کام کرتا رہا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

پاکستان حلال مصنوعات کا مرکز ہے

شریعہ اینڈ بزنس:
تاجر برادری یہ سوال کرتی ہے کہ اگر آپ اسلامک بینک کے پاس پرافٹ لینے جائیں (مضاربہ یا مشارکہ کے طور پر) تو اسلامک بینک کے ریٹ دوسرے بینکوں کے برابر ہوتے ہیں زیادہ نہیں ہوتے، کوئی بڑا فر ق نہیں ہوتا۔ لیکن جب آپ اسی اسلامک بینک سے قرض لینے جائیں یا اجارہ وغیرہ کرنے جائیں تو وہی اسلامک بینک آپ سے دوسروں کی بنسبت کئی گنا زیادہ چارج کرتا ہے، اس کی بنیادی وجہ کیا ہے؟

مزید پڑھیے۔۔۔