حکومت سودی نظام کو جلدازجلد ختم کرے

شریعہ اینڈ بزنس :  جسٹس صاحب! اپنا تعارف کروائیں، کیا کیا خدمات انجام دے رہے ہیں؟ جسٹس خلیل الرحمن خان:  وکالت کی تعلیم میں نے اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی۔ اس کا امتحان پاس کرنے کے بعد 24 سال لاء کی پریکٹس کی۔ پھر 1981 ء میں ہائی کورٹ کا جج بنا ۔ 94 19ء میں حکومت نے مجھے شریعت کورٹ بھجوا دیا۔96ء میں پھر میں واپس چیف جسٹس آف لاہور ہائی کورٹ بنااور دسمبر 96ء تک اسی منصب پر رہا۔ پھر 99ء میںشریعت اپیلٹ بینچ کا چیئرمین رہا ۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان اپنی صلاحیتیں تجارت میں آزمائیں

سوال:اپنے بارے میں کچھ بتائیے جواب:میرا نام امین ہے، میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا۔ ہمارا تعلق مصر کے پسماندہ علاقے بنی سویف کے ایک گاؤں سے ہے۔ والدین کی شفقت اور ان کی محنت کے بدولت میرا تعلیمی سلسلہ جاری رہا۔ میں نے جامعہ اسکندریہ سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

علما اور تاجر برادری مل کر سود کے خلاف کوشش کرے

جناب محمود رنگون والا ’’نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسڑی‘‘ کے صدر ہیں۔ ’’ٹیری ورلڈ ٹیکسٹائلز‘‘ نامی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ آپ گزشتہ 20 سال سے کاروبار کی منصوبہ بندی، مارکیٹنگ اور بزنس آئیڈیاز میں مہارت کے ذریعے مختلف کمپنیز اور ایکسپورٹ کے معاملات کو کامیابی سے چلا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں آپ ’’ٹاولز مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن‘‘ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر ہیں۔ ’’کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری‘‘ کی ایکسپورٹ کمیٹی کے ممبر ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تجارت کا مقصد عوامی فلاح و بہبود ہے

بے شک تجارت میں اللہ نے برکت رکھی ہے۔ حدیث پاک کے مطابق برکت کے 100حصوں میں سے 90حصے صرف تجارت میں رکھے گئے ہیں۔ اس کا عملی مشاہدہ آپ کو ایتھوپیا کے محمد حسین العمودی کاحیران کن حد تک بزنس کا پھیلاؤ پڑھ کر ہو گا۔ العمودی تجارتی دنیا کی وہ شخصیت ہیں جن کا شمار 2006 ء میں پہلے 100 امیر ترین لوگوں میں ہوا۔ 2011 ء میں امریکی مجلہ فوربس کی تحقیق کے مطابق العمودی عرب دنیا کا دوسرا امیر ترین شخص تھا۔اس مسلمان تاجر کا بزنس کسی ایک ملک تک محدود نہیں، بلکہ ممالک اور ممالک کی حکومتوں تک دراز نظر آتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مقامی صنعت کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا

سوال  کاروبار کے فروغ کی راہ میں کیا کیا رکاوٹیں پیش آئیں؟  جواب  فرنیچر سازی کے میدان میں قدم رکھنے کے بعد میں نے ابھی سُکھ کا سانس نہیں لیا تھاکہ فلسطینی ’’تحریکِ انتفاضہ‘‘ شروع ہوئی۔ اسرائیل نے نابلس کی سخت ناکہ بندی کی، جس سے نابلس کا صنعتی شعبہ بھی تلپٹ ہو کر رہ گیا۔ فرنیچر سازی کا پو را شعبہ ، اُس کے مزدور، مشینری اور ورکشاپیں … سب کچھ رام اللہ ، عیزریہ اور اُردن منتقل ہوگیا۔اس تجارتی اور اقتصادی بحران کی لپیٹ میں ہمارا ادارہ بھی آیا، لیکن ہم نے نابلس میں ثابت قدم رہنے اور وہاں سے کو چ نہ کرنے اور نابلس ہی اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہر سال اربوں ڈالر کا شہد بِکتا ہے

سوال: اپنے بارے میں بتائیے؟ جواب: میرا نام عبد المحسن المیمونی ہے۔ سعودی عرب کے جنوب مغرب میں واقع باحۃ شہر سے میرا تعلق ہے۔
سوال
آپ شہد کے معروف و ممتاز تاجر ہیں، اللہ تعالی کی اس نعمت سے متعلق کیا فرمائیں گے؟

مزید پڑھیے۔۔۔