حکومت ٹیکس نیٹ تو بڑھائے ٹیکس بیس کو نہ چھیڑے

شریعہ اینڈ بزنس:
امپورٹر سمجھتا ہے حکومت کی طرف سے کڑی شرائط کاروباری ترقی میں رکاوٹ ہیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ واقعی ایسا ہے؟چیمبر کا اس معاملے میں کیا کردار ہے؟
شمیم احمد فرپو:
آپ جانتے ہیں کہ پاکستان اس وقت ’’مسائلستان‘‘ بنا ہوا ہے۔ چاہے امپورٹر ہو یا ایکسپورٹر، چھوٹا تاجر ہو یا بڑا، ہر ایک یکساں طور پر پریشانی سے دوچار ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

پیسے کی لالچ میں عزت کا سودہ گوارہ نہ کریں

شریعہ اینڈ بزنس:
سب سے پہلے آپ کا تفصیلی تعارف، خاندانی پس منظر اور تجارت میں آنے اور ترقی پانے کی روداد سننا چاہیں گے۔
شمیم احمد فرپو:
میں ایک تاجر پیشہ خاندان سے تعلق رکھتا ہوں۔ الحمد للہ! میرے والد صاحب ایک اچھے بزنس مین تھے۔ ان کا ’’گلاس ویئر‘‘ کا کاروبار تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مارکیٹ میں آگ لگی، زکوۃ کی برکت سے میرا کاروبار محفوظ رہا

شریعہ اینڈ بزنس کے محمد عزیز الرحمن تک پہنچنے کی دوسری بڑی وجہ آپ کاملازمت سے تجارت اور مزدوری سے مشہوری تک کا وہ سفر ہے جو ہر غریب کی آنکھوں میں امید کے دیے روشن کر دیتا ہے۔ آئیے! انہی کی زبانی وہ
کہانی سنتے ہیں۔ کہا:
’’اچھی زندگی، وسیع رزق کی خواہش کس کے دل میں نہیں ہوتی۔ بہت سے خوبصورت خواب آنکھوں میں سجا کر میں نے تجارت کی طرف قدم بڑھائے

مزید پڑھیے۔۔۔

پاکستان سب سے زیادہ چائے پینے والا ملک ہے

چوکھٹا
سرگودھا کے دوست مولانا زین العابدین نے مجھے تفصیلی تعارف کے بعد جس شخصیت کے سامنے لا بٹھایا، وہ کسی طرح بھی میرے تخیل پر پورے نہ اترتے تھے۔ وہ چائے فروش کم اور گوشہ نشین ولی اللہ زیادہ دکھائی پڑے۔ ’’الطیبات‘‘ چائے برانڈ کے مالک محمد عزیز الرحمن ممتاز خانقاہی شخصیت حضرت مولانا مفتی عصمت اللہ، خلیفہ مجاز حضرت مولانا صوفی محمد سرور مدظلہ کے حلقہ ارادت میں شامل ہیں۔ 12سال سے چائے کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ملک

مزید پڑھیے۔۔۔

مشکل پیش آئے تو مسنون اعمال کا اہتمام کرتے ہیں

آپ   کی ایڈورٹائزمنٹ کیسی ہوتی ہے؟
ہماری ایڈور ٹائزمنٹ میں خاتون وغیرہ کا کوئی تصویر نہیں ہوتا۔پھر بھی اے بی سی والوں کی طرف سے ایوارڈ ملے ہیں۔ ایڈورٹائزمنٹ، کسی جاندار کی تصویر نہ ہونے کے باوجود جاذب نظر ہوتی ہے۔ اصل میں ہماری پروڈکٹ ایڈ ہوتی ہے۔ ہماری ماڈل پروڈکٹ ہے۔شنگریلا ایڈ میں پہلے پروڈکٹ ہوتی ہے بعد میں دوسری چیزیں۔ہمارا اپنا میڈیا ہاؤس ہے۔ ہمارا اپنا کری ایٹو ہاؤس ہے۔ ہمارے ہاں اپنا سافٹ ویئر اور آئی ٹی ہاؤس ہے جوان معاملات کو دیکھتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

باہمی اتحاد واتفاق نے کامیابی سے ہمکنار کیا

لوگ سمجھتے ہیںبدامنی کی وجہ سے انشورنس کے سوا چارہ نہیں؟
اگر انسان یہ سوچ لے کہ نفع اللہ کے کی طرف سے ہے ،عزت ذلت کا مالک وہی ہے تو یہ سب چیزیں بہت سطحی اور ثانوی لگنے لگتی ہیں۔یہ انشورنس اور قرض وغیرہ لینا صرف ہمارے ایمان کی کمزوری کے باعث ہے۔ اگر یقین پختہ ہو توان کی ضرورت نہیں ۔چیزوں کی انشورنس اورلون اس لیے لیا جاتا ہے کہ حفاظت رہے اور کاروبار آگے بڑھے۔ اصل محافظ اللہ تعالی ہے اور کاوربار میں ترقی دینے والا بھی وہی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔