شریعہ اینڈ بزنس افانکا اور اس کے مقاصد و خدمات کی طرف جانے سے پہلے آنجناب کا تعارف سامنے آ جائے۔ ڈاکٹر محمد منیر چوہدری میں اصلاً پاکستانی ہوں۔ شہر سرگودھا سے تعلق ہے۔ فیصل آباد یونیورسٹی سے فوڈ سائنس میں ایف ایس سی اور ایم ایس سی کیا۔ اس کے بعد دو سال تک فوڈ سائنس میں ہی ریسرچ کا کام کیا۔ بعد ازاں حکومت نے مجھے بیروت جانے کا وظیفہ دیا۔

شریعہ اینڈ بزنس آپ نے ’’عمیر پیٹروکیمیکلز‘‘ نامی کمپنی قائم کی، اپنے تجربات کی روشنی میں بتائیے اس کا آغاز کیسے کیا؟ کن مراحل سے گزرتے ہوئے کامیابیوں سے ہم کنار ہوئے؟
ابراہیم کسُمبی تعلیم حاصل کرنے کے بعد میں کچھ عرصہ ملک سے باہر رہا۔ وہاں میں نے کام کیا، نوکریاں کیں۔ اس طرح میرے پاس کچھ رقم جمع ہو گئی۔ اسے لے کر میں پاکستان آیا۔ میری خواہش تھی کہ کاروبار کروں۔ پھر بہت چھوٹے پیمانے پر میں نے اس کا آغاز کیا۔

شریعہ اینڈ بزنس آغاز آپ کے تعارف اور تعلیمی و تجارتی پس منظر سے کرتے ہیں۔ ابراہیم کسمبی مجھے کاروبار سے منسلک ہوئے 24 سال ہو گئے ہیں۔ تعلیم ملک و بیرون ملک دونوں جگہ حاصل کی ہے۔ پاکستان میں بی کام تک کی تعلیم حاصل کی۔ اسی طرح IBA کراچی سے کچھ کورسز بھی کیے۔ میرا کاروبار پلاسٹک کا خام مال یعنی پلاسٹک کا دانہ اور کیمیکلز وغیرہ کی در آمد ہے۔ میں اس کا ڈسٹری بیوٹر بھی ہوں، کچھ غیر ملکی کمپنیوں کو سپلائی کرتا ہوں۔ خام مال کا تعلق ’’پٹرولیم‘‘ سے ہے۔

٭…کویتی بینک ہمارے منصوبہ جات میں خصوصی دلچسپی لینے لگے جو کسی بھی تاجر کے لیے بڑی اہمیت کی بات ہوتی ہے۔ 2003 ء میں جب ہمارا گروپ خوب مشہور ہو گیا تو ہم نے کویتی دار الحکومت تک اپنے پَر پھیلا دیے ٭…یہ دنیا مقابلے کی ہے، یہاں پر ہر دوسرا شخص آپ کی ٹانگیں کھینچنے کی کوشش کرے گا۔ اپنے عملے اور ٹیم پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے اگر خود بھی کام میں شریک اور نگرانی کرتے رہیں گے تو بہت جلد ترقی کی منازل طے کر لیں گے

ملک کے لیے حالاتِ جنگ سے بھی زیادہ سنگین وقت کون سا ہوتا ہے؟ جب معیشت کا پہیہ رک جاتا ہے۔ جب تجارت کا پہیہ رکتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟ بس یوں سمجھو کہ ملک اس مریض کی مانند ہو جاتا ہے جو آخری سانسیں گن رہا ہو۔ ایسا کب ہوتا ہے؟ جب تاجر پریشان ہوتا ہے۔ تاجر کب الجھن کا شکار ہوتا ہے؟ جب وطن بدامنی کے کینسر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔جی ہاں! یہ سچ ہے ملک کا اندرونی خلفشار سب سے بڑی آفت ہوتا ہے۔ معاصر حالات میں وطن عزیز کا تاجر ایسے ہی کرب کا شکار ہے۔

چائنا نے حال ہی میں ’’ایشین ڈویلپمنٹ بینک‘‘ قائم کر کے امریکا کی معاشی اجارہ داری کو بلاشبہ چیلنج کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے عالمی طور پر یہ بینک غور و خوض کا ایک اہم موضوع بن گیا ہے۔ کیا ’’ایشیائی ترقیاتی بینک‘‘ اپنے تئیں براعظم ایشیائی ممالک بالخصوص پڑوسی ممالک کے لیے آئی ایم ایف ودیگر سرمایہ دارانہ طاقتوں کی اندھی بہری غلامی سے نجات دہندہ ثابت ہو گا؟ بالخصوص اپنے قریبی ترین دوست ملک وطن عزیز پاکستان کے لیے کس حد تک معاشی طور پر مفید ثابت ہو سکے گا؟ یہ اور اس قسم کے سوالوں کے ساتھ شریعہ اینڈ بزنس نے مختلف ماہرین معیشت کے در پر دستک دی۔ آیا ان کی فکر و نظر اور وسیع تجربہ اس حوالے سے کیا کہتا ہے؟ نتیجتاً حوصلہ افزا حقائق سامنے آئے۔ آئیے! تفصیل سے ملاحظہ کرتے ہیں۔