احسان یاد رکھیں ملازمین کے احسان کبھی نہیں بھولنے چاہییں۔ جوملازم مشکل وقت میں آپ کے ساتھ رہے، انہیں اچھے وقت میں نظر انداز نہ کیجئے۔ بہت سے ادارے جب ترقی حاصل کرجاتے ہیں اور ان کو اعلی تعلیم یافتہ افراد میسر آتے ہیں تو پھر وہ اپنے ان ملازمین کو بھول جاتے ہیں جنہوں نے مشکل حالات میں ادارے، کمپنی یا فرم کو سہارا دیا ہوتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے محسنین کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا۔


٭…اگر آپ کی مراعات سے کسی شخص نے غلط فائدہ اٹھایا ہے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ سب ملازمین کو سزا دیتے ہوئے مراعات ختم کردیں۔ ایسا کرنا کمزور انتظامی صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے ٭

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دن میں نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کچھ کہہ دیا۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان سے اچھی بیوی کوئی نہیں ملی۔ وہ اس وقت مجھ پر ایمان لائیں جب لوگوں نے انکار کردیا۔ جب لوگوں نے مجھے مال سے محروم کردیا تو انہوں نے مال کے دروازے کھول دیے۔(سیراعلام النبلائ) اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب طائف سے واپس لوٹے تو مطعم بن عدی نے انہیں پناہ دی اور مشرکین سے بچایا تھا۔ جب بدر کے قیدیوں کو سزا دینے کی بات آئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر آج مطعم بن عدی زندہ ہوتے اور مجھے کہتے کہ ان تمام قیدیوں کو معاف کردو تو میں ان کی خاطر سب قیدی آزاد کردیتا۔ (سنن ابی دائود، رقم:2689)

آپ اندازہ لگائیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے محسنوں کو فراموش نہیں کیا۔ نہ صرف ان کا احسان یاد رکھا بلکہ ان کے خلاف ایک لفظ تک برداشت نہیں کیا۔

ملازمین کے مسائل کا ادراک رکھیں
اکثر مالکان کو یہ کہتے ہوئے سنا جاتا ہے کہ آپ کے گھر میں جو مسائل ہیں مجھے ان سے کیا؟ مجھے تو یہ بتائیں کہ آپ نے دفتر کا کام کتنا کیا؟ اس کا مطلب ہوا کہ آپ بہت خود غرض ہیں۔ آپ کسی کے غم کو اپنا غم نہیں سمجھتے اور کسی کے مسئلے کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں۔ یہ طرز عمل ملازمین کو آپ سے بدظن کردیتا ہے۔ اچھا منیجر اور عمدہ باس وہ ہوتا ہے جو ملازمین کے درد کو کم کرے۔ ان کی مشکلات میں سہارا بنے۔ کسی کے درد کو اپنا درد اور کسی کی کڑھن کو اپنی کڑھن سمجھے۔

اگر کوئی ملازم دفتری کام کی وجہ سے دبائو کا شکار ہے تو اس کی دل جوئی کرے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ تبوک سے واپس تشریف لارہے تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک میں شریک ہونے والے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جمع کیا اور ارشاد فرمایا: ’’مدینہ میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ہر ہر قدم اور ہرہر منزل پر تمہارے ساتھ رہے ہیں۔‘‘ صحابہ کرام نے دریافت فرمایا: ’’وہ کون لوگ ہیں؟‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ وہ لوگ ہیں جو عذر اور مجبوری کی وجہ سے غزوہ تبوک میں شریک نہیں ہوسکے اور مدینہ منورہ میں ہی رہ گئے۔‘‘

آپ اندازہ لگائیں کہ یہ ایک ایسا رویہ ہے جس کی توقع اللہ کے نبی سے ہی رکھی جاسکتی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ غزوہ تبوک میں شرکت کرنے والے بہت مشقتیں برداشت کرکے آئے ہیں۔ اگر ان کے دل میں یہ بات آئی کہ ہم نے تو دین کی خاطر اتنی قربانی دی اور کچھ لوگ اپنے گھروں سے باہر نہیں نکلے تو اس کی وجہ سے تلخیاں بڑھیں گی۔ اسی طرح پیچھے رہ جانے والوں کی دل شکنی بھی ہو گی۔ قربانی دینے والوں کا ثواب بھی غارت ہونے کا خدشہ ہے۔

مشکلات میں کارکنوں کا ساتھ دیں
اچھا ادارہ اور کمپنی وہ ہے جو مشکل حالات میں اپنے کارکنوں کو فراموش نہیں کرتی۔ ان کا جو ملازم بیماری، مشکلات اور مجبوریوں میں گرفتار ہوتا ہے، وہ اس کی مدد کرتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج ملٹی نیشنل کمپنیاں اس اصول پر عمل کرتی ہیں مگر مقامی پاکستانی کمپنیاں اسے دردِ سر قرار دیتی ہیں۔

یاد رکھئے! اگر آپ کی مراعات سے کسی شخص نے غلط فائدہ اٹھایا ہے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ سب ملازمین کو سزا دیتے ہوئے مراعات ختم کردیں۔ ایسا کرنا کمزور انتظامی صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ملازمین کو میڈیکل الائونس دینا، ہنگامی چھٹیاں دینا، بیماری، شادی اور پیدائش کے مواقع پر مدد کرنا ایک اچھی کمپنی کی علامت ہے۔ اگر کوئی ملازم مشکل میں مبتلا ہے تو اس سے رعایت برتنی چاہیے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے اس فرمان پر غور کریں: ’’اللہ تعالی نے مسافر کو دورکعتیں، مقیم کو چار رکعتیں اور خوف کی حالت میں ایک رکعت پڑھنے کا حکم دیا ہے۔‘‘ (مسند احمد، ومن مسند بنی ھاشم، رقم: 2125) آپ ایک منیجر ہیں تو اپنے ملازمین کے مسائل کا ادراک کریں۔ ہر مسئلے کو منیجر کی نظر سے دیکھیں گے تو ملازمین کا اعتماد کھوتے چلے جائیں گے۔ کامیاب کمپنیاں وہ ہوتی ہیں جو ملازمین کا بھرپور خیال رکھتی ہیں۔