ایک بزرگ کے پاس ایک شخص حاضر ہوا۔ اپنی تنگ دستی کا شکوہ کرتے ہوئے کہا: ’’حضرت! گھر کے خرچے پورے نہیں ہو رہے، قرض بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ کوئی وظیفہ بتا دیجیے، تاکہ اس مشکل سے چھٹکارا ملے۔‘‘ بزرگ نے پوچھا: گھر میں روزانہ کیا سالن پک رہا ہے؟ اس نے جواب دیا: الحمد للہ! معمول کے مطابق پک رہا ہے۔ بزرگ نے پوچھا: معمول کا کیا مطلب! جواب دیا: عام طور پر سادہ سالن ہوتا ہے جبکہ تین، چار دن کے بعد گوشت بھی پک جاتا ہے۔


٭…یہ بھی ایک بڑی حقیقت ہے کہ جتنا زیادہ مال دار گھرانہ ہو، عیاشی اور فضول خرچی بھی اتنی زیادہ کی جاتی ہے۔ قرضے، بیماریاں اور پریشانیاں بھی اتنی زیادہ ہوتی ہیں ٭

بزرگ کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا اور اس شخص کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ’’آپ وظیفے کی بات کر رہے ہو۔ زندگی میں اعتدال نہیں ہے۔ خرچ کرنے میں میانہ روی نہیں۔ ارے خدا کے بندے! سالن نمک کے بغیر کھا سکتے ہو تو کھانا گوارا کرو۔ جب تک آپ تیرے ذمے قرض ہے اس وقت تک ہلکی اشیا پر کفایت کر اور خرچ کرنے میں میانہ روی کر۔ بے اعتدالی سے اپنے کو بچا!‘‘ یہ تھے مولانا محمد امین شہید رحمہ اللہ کے الفاظ۔

ایک طرف مہنگائی نے لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے تو دوسری طرف عوام اپنی زندگی میں میانہ روی سے محروم اور بے اعتدالی کا شکار ہیں۔ عیاشی کا سامان زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ ’’اسٹیٹس‘‘ برقرار رکھنے کی ہوس زور پکڑنے لگی ہے۔ جبکہ افراط و تفریط، انتہاپسندی اور بے اعتدالی وہ معاشرتی اور اخلاقی خامیاں ہیں، جنہیں کبھی اور کہیں بھی پسندیدہ قرار نہیں دیا گیا۔ اس کے برعکس میانہ روی اور اعتدال کو ہمیشہ قابل تعریف قرار دیا گیا ہے۔ افراط و تفریط اور بے اعتدالی چاہے زندگی کے کسی بھی شعبے میں ہو اور کسی بھی کام میں ہو، اس کے نتائج اور اثرات نقصان دہ اور مایوس کن ہوتے ہیں۔ برے اعمال تو ایک طرف رہے اچھے اعمال میں بھی بے اعتدالی پسندیدہ نہیں ہے۔

اسلام میانہ روی و اعتدال کی تعلیم دیتا ہے۔ باری تعالی کا ارشاد ہے: ’’اور نہ تو (ایسے کنجوس بنو کہ) اپنے ہاتھ کو گردن سے باندھ کر رکھو، اور نہ (ایسے فضول خرچ کہ) ہاتھ کو بالکل ہی کھلا چھوڑ دو جس کے نتیجے میں تمہیں قابل ملامت اور قلاش ہو کر بیٹھنا پڑے۔‘‘ (بنی اسرائیل: 29) یعنی خرچ کرنے میں ایسے کنجوس بھی نہ بنو کہ اپنے گھر والوں کو بھی جائز نفقے سے محروم رکھو اور اتنے سخی بھی نہ ہو کہ سارا مال ایک دن میں خرچ کر ڈالو اور پھر سوال کرتے پھرو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے: ’’خرچ کرنے میں میانہ روی کرنا نصف معیشت ہے۔‘‘ اسی بے اعتدالی اور افراط و تفریط سے انسان طرح طرح کے گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اگر انسان کے پاس مال بھی نہ ہو۔ خود مقروض بھی ہو تو قرض خواہ کے سامنے جھوٹ بولنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ امانت میں خیانت کرنے لگتا ہے۔

میانہ روی سے اخلاق مضبوط ہوتے ہیں۔ حقوق کا احساس ہوتا ہے۔ اگر کمائے گا بھی تو رزق حلال کمائے گا۔ وہ مال کمانے میں اخلاقِ فاضلہ کا خیال رکھتا ہے۔ وہ رزق کمانے میں یہ کوشش کرتا ہے کہ رزقِ حلال کمایا جائے۔ اس میں کسی کی حق تلفی نہ ہو۔ ایسے ذرائع سے کمائے گا جس میں مسلمانوں کا مفاد عامہ ہو اور کسی مخلوق خدا کے لیے ذریعہ رزق بنے۔ اعتدال پسند شخص اخراجات میں بھی تدبیر سے کام لیتا ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ راحت و سکون اس بات کا نام نہیں کہ زیادہ لذیذ کھانا کھایا جائے، بلکہ وہ یہ جانتا ہے کہ راحت و سکون میانہ روی اور کفایت شعاری میں ہے۔ وہ صرف ضروریاتِ زندگی پر فوکس کرتا ہے۔ خواہشات سے بچتا ہے۔ کیوں کہ خواہشات کو جتنا بڑھانا چاہو تو بڑھتی چلی جائیں گی اور اگر اپنے نفس کو تھوڑے اور کفایت شعاری کا عادی بنالیا جائے تو ہزار مصیبتوں اور تکالیف سے نجات مل جائے گی۔

بلاشبہ مہنگائی ایک بڑا مسئلہ ہے، مگر اس سے زیادہ سنگین ہماری فضول خرچیاں اور غیرضروری اخراجات ہیں۔ اگر اپنے معاش اور گزر اوقات کے سلسلے میں صرف اسی ایک اصول کو جزوِ زندگی بنا لیں تو آدھے سے زیادہ مسائل خود بخود حل ہو جائیں۔ اپنے اہل و عیال کو بھی اسی کی تعلیم اور تلقین کیجیے۔ اپنا معمول بنانے اور ان کی تربیت کو مسلسل جاری رکھنے سے اس وصف کی فضا اپنے گھر میں پیدا کر کے اس کے ثمرات سے فائدہ اٹھا یا جا سکتا ہے۔ یہ بھی ایک بڑی حقیقت ہے کہ جتنا زیادہ مال دار گھرانہ ہو، عیاشی اور فضول خرچی بھی اتنی زیادہ کی جاتی ہے۔ قرضے، بیماریاں اور پریشانیاں بھی اتنی زیادہ ہوتی ہیں۔ اس سب کے پیچھے اسی ایک وصف میانہ روی اور کفایت شعاری کی کمی کارفرما ہے۔

آپ معیشت اور معاشرت کے نبوی اصولوں کو اپناتے ہوئے میانہ روی، کفایت شعاری کاطریقہ اپنائیے۔ بے اعتدالی اور افراط و تفریط سے بچیے۔ ان شاء اللہ راحتوں بھری زندگی گزارنے کا موقع ملے گا۔