٭٭آج کل ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پھلوں کی خرید و فروخت بہت بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے کچھ ممالک اس دولت سے مالا مال ہیں اور کچھ تہی دامن، پھر اندرونِ ملک بھی کچھ علاقوں میں ان کی فراوانی ہے اور بعض جگہوں میں بہت قلت۔ چنانچہ اس فطری تقسیم کی وجہ سے مختلف علاقوں اور ممالک کے تاجر دیگر جگہوں سے اس کی خرید و فروخت پر مجبور ہیں۔


٭…آج کل پھلوں کی خرید و فروخت کی جتنی صورتیں بھی بازاروں میں رائج ہیں، وہ سب مندرجہ بالا اقسام میں سے کسی نہ کسی میں داخل ہیں۔ اس لیے اگر تاجر حضرات اس تفصیل کو ذہن نشین کر لیں تو نہ صرف ناجائز امور سے بچ سکتے ہیں، بلکہ شریعت کی دی گئی گنجائش سے بھی مستفید ہو سکتے ہیں


اس تجارت میں شرعی نقطہ نظر سے بعض صورتیں درست نہیں ہیں، کچھ تاجر انجانے میں ان ناجائز صورتوں میں مبتلا ہیں اور بعض تاجر اتنے محتاط ہیں کہ اس کی جائز صورتوں کو بھی ناجائز سمجھ کر چھوڑ بیٹھے ہیں! اس لیے ضروری معلوم ہوا کہ اس تجارت کی جائز و نا جائز صورتوں کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جائے، تاکہ تاجر حضرات شرعی حدود میں رہتے ہوئے اس نفع بخش کاروبار سے فائدہ اٹھا سکیں۔

باغات میں پھلوں کی خرید و فروخت مختلف مراحل میں مختلف شرائط کے تحت ہوتی ہے، اس کی اکثر صورتیں جائز اور چند ایک ناجائز ہیں، جن کی تفصیل حسب ذیل ہے:

1 جو پھل درختوں پر ایک ساتھ لگتے ہیں، جب تک پھول کی شکل میں ظاہر نہ ہوں، ان کی خرید و فروخت جائز نہیں، کیونکہ اس صورت میں جس چیز کو بیچا جا رہا ہے، اس کا فی الحال کوئی وجود نہیں ہے اور جو چیز موجود نہ ہو اس کی خرید و فروخت کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔

آج کل باغات کئی سالوں کے لیے ٹھیکے پر دے دیے جاتے ہیں، اس میں آنے والے کئی سالوں کے پھل ابھی سے فروخت کر دیے جاتے ہیں، چونکہ اس میں ایک غیر موجود چیز کو بیچا جاتا ہے، لہذا یسی خرید و فروخت جائز نہیں ہے۔ واضح رہے کہ ادھار پر پھل صرف اس صورت میں بیچنا جائز ہے جب یہ تمام شرائط پائی جائیں:

٭ بیچی گئی چیز کا سودے کے وقت سے لے کر حوالگی کے وقت تک فروخت کرنے والے کی دسترس میں ہونا
٭ سودے کی مجلس کے اختتام سے پہلے پوری قیمت ادا کرنا
٭ اوصاف وغیرہ کے ذریعے اس کی تعیین ممکن ہونا
٭ اس کی نوعیت کا معلوم ہونا
٭ اس کی مقدار کا معلوم ہونا
٭ اوصاف کا معلوم ہونا
٭ حوالگی کی مدت کا معلوم ہونا
٭ حوالگی کی جگہ کا معلوم ہونا

2 پھل کے درخت پر ظاہر ہو جانے کے بعد اگراس کی حالت ایسی ہو کہ اس کو انسانی استعمال میں لایا جا سکتا ہو، نہ ہی جانوروں کو کھلایا جا سکتا ہو تو بھی اس کی خرید و فروخت جائز ہے، کیونکہ فی الحال اگرچہ یہ ایک بے فائدہ چیز ہے لیکن آگے چل کر ایک مفید چیز بن سکتی ہے اور شریعت کا اصول ہے جو چیز فی الحال کارآمد ہو یا مستقبل میں مفید بن سکتی ہو، اس کی خرید و فروخت جائز ہے۔

3 اگر درختوں پر پھل کی ابتدائی شکل ’’پھول‘‘ لگ چکے ہوں یا پھل ایسے ہوں کہ ان کا کوئی مفید استعمال ہو اور اس شرط پر بیچے جائیں کہ خریدار فوراً درختوں سے اتار لے گا یا بغیر کسی شرط کے بیچے جائیں تو ایسی خرید و فروخت بھی جائز ہے۔ پھولوں کی یہ خرید و فروخت اس لیے جائز ہے کہ یہ جانوروں وغیرہ کے کھانے کے کام آ سکتے ہیں۔

4 اگر پھل درخت پر لگ گئے، لیکن تیار نہیں ہوئے اور خریدار نے بغیر کسی شرط کے خرید لیے، تو یہ خرید و فروخت بھی جائز ہے اور اگر سودا کرتے وقت یہ طے ہوا کہ خریدار پھل فوراً اتارے گا اور اب مالک نے فورا پھل اتارنے کا کہا، تو خریدار پر لازم ہو گا کہ یہ پھل فوراً درختوں سے اتار لے۔

5 اگر پھل درخت پر لگ گئے، لیکن تیار نہیں ہوئے اور خریدار نے خریدتے وقت کوئی شرط نہیں لگائی، بلکہ خود مالک نے اس کو اجازت دے دی کہ آپ یہ پھل کچھ مدت کے لیے میرے درختوں پر چھوڑ سکتے ہیں تو یہ صورت بھی جائز ہے۔

6 اگر پھل تیار ہو چکے ہوں اور سودے میں یہ طے پائے کہ خریدار، پھل درختوں سے فورا اتارے گا اور خریدار نے درختوں کے مالک کی اجازت کے بغیر کچھ مدت کے لیے پھل اس کے درختوں پر ہی رہنے دیے تو چونکہ اس مدت میں پھلوں میں کسی قسم کا کوئی اضافہ نہیں ہوا، اس لیے خریدار ان پھلوںکا مالک ہو گا،البتہ مالک کی رضا مندی کے برخلاف اس کے درخت استعمال کرنے کا گناہ ہو گا۔

7 اگر پھل تیار ہو چکے ہوں اور خریدار نے اس شرط پر خریدے ہوں کہ وہ انہیں درختوں پر نہیں چھوڑے گا یا بغیر کسی شرط کے خریدے ہوں تو یہ دونوں صورتیں بھی جائز ہیں۔

8 اگر پھل تیار ہو چکے ہوں اور خریدار نے اس شرط پر خریدے ہوں کہ وہ انہیں درختوں پر ہی چھوڑے گا، اس کی بھی اجازت ہے۔

9 اگر ایک باغ میں مختلف اقسام کے پھلوں، مثلاً: سیب، امرود اور ناشپاتی وغیرہ کے درخت ہوں اور سودا کرتے وقت کچھ اقسام کے درختوں پر پھل لگ چکے ہوں اور کچھ پر ابھی تک پھول بھی نہ لگے ہوں اور خریدار ایک ہی سودے میں فی الحال موجود اور غیر موجود تمام اقسام کے پھل خرید لے تو یہ بھی جائز ہے۔ اس صورت میں غیر موجود پھل موجودہ پھلوں کے تابع ہو کر اس خریدار کے ہوں گے۔

10 اگر درختوں پر کچھ پھل لگ چکے ہوں اور کچھ آئندہ لگنے والے ہوں اور خریدار ان سب کا سودا کر لے تو یہ صورت بھی جائز ہے،اس صورت میں غیر موجود پھل، موجودہ پھلوں کے تابع بن کر خریدار کی ملکیت ہوں گے۔

11 اگر درختوں پر پھل لگ چکے ہوں لیکن تیار نہ ہوئے ہوں اور خریدار موجودہ پھل خرید لے اور مالک کی اجازت سے کچھ مدت کے لیے انہیں ان درختوں پر ہی رہنے دے، تو یہ بھی جائز ہے۔ اس مدت میں موجودہ پھلوں میں جو بڑھوتری ہو گی وہ خریدار کی ہو گی اور اگر سودا کرتے وقت طے یہ پایا کہ پھل درختوں سے فوراً اتارے جائیں گے، لیکن مالک کی اجازت کے بغیر اس کے درختوں پر رہنے دیے اور اس مدت میں ان کے حجم میں اضافہ ہو گیا، تو یہ اضافہ اس کے لیے جائز نہیں ہو گا اور اس پر لازم ہو گا کہ یہ اس اضافے کی بقدر پیسے صدقہ کرے۔

12 اگر درخت پر کچھ پھل لگے ہوئے ہوں اور خریدار صرف یہی موجودہ پھل خریدے اور پھلوں پر اس کے قبضہ کرنے سے پہلے پہلے اس درخت پر کچھ مزید پھل بھی آ جائیں تو یہ پہلے والی خریداری فاسد ہو جائے گی، اس لیے کہ خریدے گئے پھلوں میں اضافہ ہو چکا ہے اور یہ زائد پھل درخت کے مالک کے ہیں اور یہاں ان دونوں کے پھلوںمیں امتیاز کر کے ان کو الگ الگ کرنا بہت مشکل ہے۔

13 اگر درخت پر کچھ پھل لگے ہوئے ہوں اور خریدار صرف یہی موجودہ پھل خریدے اور پھل پر اس کے قبضہ کرنے کے بعد اس درخت پر کچھ مزید پھل بھی آ جائیں تو اس نئے پیدا ہونے والے پھل میں یہ دونوں مشترک ہوں گے اور ان دونوں کی ملکیت کی مقدار کے تعین کا دار و مدار خریدار کے بیان پر ہو گا۔

14 اگر پھل درخت پر لگ تو گئے لیکن تیار نہیں ہوئے اور خریدار نے شرط لگائی کہ پھل اتنی مدت تک درختوں پر ہی رہیں گے، تو یہ صورت بھی جائز ہے۔

آج کل پھلوں کی خرید و فروخت کی جتنی صورتیں بھی بازاروں میں رائج ہیں، وہ سب مندرجہ بالا اقسام میں سے کسی نہ کسی میں داخل ہیں۔ اس لیے اگر تاجر حضرات اس تفصیل کو ذہن نشین کر لیں تو نہ صرف ناجائز امور سے بچ سکتے ہیں، بلکہ شریعت کی دی گئی گنجائش سے بھی مستفید ہو سکتے ہیں۔