دورِ جدید میں قدرت نے بہت سی نعمتیں عطا کی ہیں، مگر ساتھ ہی ہم نے کچھ زحمتوں بھی اختیار کر لیا ہے۔ ادویات کی پیداوار میں بے شمار اضافہ ہوا ہے۔ خود کار مشینوں اور جدید اقسام کی بھاری مشینوں کے استعمال سے پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے وجود سے عالمی تجارت (Global Trade) کو فروغ حاصل ہوا ہے اور سرد جنگ (Cold War) کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ آج کا انسان دنیا سے بھوک اور وبائی امراض کو مٹانے کی طاقت حاصل کر چکا ہے۔


٭…کمپنی کے سربراہان کو مستقبل میں بہت بڑے چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے اور ایسا راستہ تلاش کرنا ہے جس میں معقولیت بھی ہو اور بھر پور افادیت بھی

مگر ان نعمتوں کے ساتھ ساتھ پائیدار اور پیچ دار مسائل، مثلاً: غربت، مذہبی تنازعات، ماحول کی آلودگی، آمرانہ سیاست اور بدعنوانیاں، نیز دہشت گردی اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار بھی ہیں۔

مذکورہ زمینی حقائق کے پیش نظر کمپنی کے سربراہان کو مستقبل میں بہت بڑے چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے اور ایسا راستہ تلاش کرنا ہے کہ جس میں معقولیت بھی ہو اور بھر پور افادیت بھی۔ آج کی حکمت عملی میں رِسک ہے اور اسے نئی حکمت عملی میں بدلنا ضروری ہے۔چند ایسے حقائق ہیں جن پر توجہ دینا ناگزیر ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ عالمی طاقتیں (Global Forces) زور پکڑتی جائیں گی جن سے ہر فرد کے کاروبار پر اثر پڑے گا۔ ہر فرد کی ذاتی زندگی متاثر ہو گی۔ انڈسٹریاں مزید منافع بخش صورت اختیار کر لیں گی، ان کی راہ میں تادیبی کارروائیاں (Protections) کی جائیں گی جن کا بار (Cost) ہر شخص کو اٹھانا پڑے گا۔

دوسری بات یہ ہے کہ ٹیکنالوجی روز افزوں حیرت انگیز طور پر بڑھتی جا رہی ہے۔ ڈیجیٹل انقلاب سے ایسے چپس (Chips) برآمد ہو رہے ہیں جن سے دلکش مکانات، دیدہ زیب پوشاک اور نفیس گاڑیاں تیار کی جا رہی ہیں۔ ہمیں اس صبح کا انتظار ہے جب ’’ذہین مشینی آدمی‘‘ (Robots) ہمارے سارے کام لیا کریں گے۔ کچھ لوگ خلا کی سیر کریں گے۔ بلکہ خلا کے جہاز میں اقامت پذیر ہوں گے۔

تیسری بات یہ ہے کہ ہمارے معاشی شعبوں کی روایات ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ آج کا خریدار فیصلہ کرنے میں آزاد ہے کہ کون سی چیز کہاں سے خریدی جائے۔ اسی طرح کمپنیاں بھی خود مختار ہیں کہ کون سی چیز بنائی اور بیچی جائے۔ یہ سہ رخی ترقی جس میں عالمگیریت (Globalization)، اعلیٰ معیار کی ٹیکنالوجی اور آزاد معاشی جدوجہد شامل ہیں، بے انتہا مواقع کی نشان دہی کرتی ہے۔ جیسا کہ جان گارڈنر (Gohn Gardener) نے بہت عرصہ پہلے کہا تھا:’’ہر مسئلے کے پیچھے ایک چھپا ہوا تابندہ موقع ہوتا ہے۔‘‘

عالمگیریت کے اس وسیع تر تناظر میں مارکیٹنگ کی اہمیت کئی چند ہو گئی ہے۔ مارکیٹنگ مینجمنٹ سے متعلق چند اہم باتوں کو پیش نظر رکھنا چاہیے:

صارف کی تسکین (Customer Satisfaction)
جو چیز یا خدمات فروخت کی جا رہی ہوں ان میں سو فیصد خریدار کی ضرورت کو پورا کرنے کی اہلیت ہونی چاہیے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مارکیٹرز کی تمام تر توجہ صارف کی ضرورت پر ہونی چاہیے۔

فلپ کوٹلر کا کہنا ہے: ’’مارکیٹنگ کا عمل خریدار کو تسکین دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اسے فرحت اور مسرت پہنچانا بھی ضروری ہے۔‘‘ کمپنیوں کو اپنی مارکیٹنگ سسٹم کا معیار بہت اعلیٰ رکھنا چاہیے۔ میکڈونلڈ کی مثال لیں۔ میکڈونلڈ کے 119 ممالک میں 3,5000 ریستوران میں اوسطاً 68 ملین افراد روزانہ آتے ہیں۔ یہ لوگ صرف اس لیے نہیں آتے کہ وہ ’’ہیم برگر‘‘ پسند کرتے ہیں۔ بعض کمپنیاں میکڈونلڈ کے مقابلے میں زیادہ مزیدار ہم برگر بناتی ہیں۔ خریدار میکڈونلڈ کے نظام سے متاثر ہو کر اس کے ریستوران میں آتے ہیں۔ ساری دنیا میں یہ آواز سنائی دیتی ہے کہ میکڈونلڈ اعلیٰ معیار کی کمپنی ہے جو کوالٹی، سروس، صفائی اور ویلیو پر زور دیتی ہے جس کا مخفف ’’QSCV‘‘ ہے۔

قدر (Vaule)
پروڈکٹ کی اپنی بھی کوئی ویلیو ہونی چاہیے یعنی صارف کی تسکین کے علاوہ اشیا و خدمات سے اس کی شخصیت میں اضافہ بھی ہونا چاہیے۔ ماہرین کی رائے ہے کہ خریدار یہ غور کرتا ہے کہ کس کمپنی کی پیشکش میں زیادہ ویلیو ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ ویلیو چاہتا ہے اور اسے اپنے محدود علم، نقل و حمل اور آمدنی کی حدود میں رہ کر حاصل کرنا چاہتا ہے۔ خریدار اپنے لکھنے کی ضرورت تو پنسل، بال پوائنٹ، پین یا مارکر سے بھی پوری کر سکتا ہے، لیکن اگر کوئی خریدار پارکر پین خریدتا ہے تو اس سے اس کی شخصیت ممتاز ہو جاتی ہے۔ پنسل یا بال پوائنٹ کے مقابلے میں ’’پارکر قلم‘‘ کی قدر زیادہ ہے جب کہ لکھنے کی ضرورت تو دونوں ہی اقسام کے پروڈکٹ سے پوری کی جا سکتی ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ پروڈکٹ کی ری سیل ویلیو (Resale Value) بھی ہونی چاہیے۔

معیار (Quality)
مال کی کوالٹی اعلیٰ ہونی چاہیے۔ مال کو نفیس اور اطمینان بخش ہونا چاہیے۔ اگر دوسری کمپنیوں سے مقابلے کا سامنا ہے تو مال میں کوئی اضافی خوبی بھی ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی رابطے کی معاونت بھی حاصل ہونی چاہیے۔

قیمت (Price)
قیمت مناسب اور معقول ہونی چاہیے۔ نیز خریدار کی قوت خرید کے مطابق ہونی چاہیے۔