پوری دنیا میں مرغیوں کے فارم موجود ہیں جن کی کھپت کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔ کیونکہ دنیا میں ہر طرز کے لوگ مرغی کا استعمال کرتے ہیں۔ اگرچہ خوراک کے بے شمار ذرائع موجود ہیں مگر مرغی کے مقابلے میں ہر طرح کے پروٹین مہیا کرنے والے عوامل نسبتاً زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔ مرغی کا استعمال عام سطح کے افراد بھی بآسانی کر لیتے ہیں۔ اس کی وجہ مرغی کے گوشت کا سستا ہونا ہی ہے۔


مرغی کا گوشت سفید بھی ہوتا ہے جو اکثر لوگوں کے لیے مفید ہے۔ جس میں کم چربی ہوتی ہے۔ بوڑھے اور مریض حضرات بھی مرغی کھانا پسند کرتے ہیں۔ بڑے بڑے ہوٹلوں میں مرغی کی بے شمار ڈشز پیش کی جاتی ہیں۔ کے ایف سی اورمکڈونلڈ وغیرہ کے زیادہ تر کھانے بھی مرغی پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ گھروں میں بھی مرغی کو عمومی کھانے کی حیثیت حاصل ہے۔ پاکستان میں بکرے، گائے اور مچھلی بھی خوراک کے طور پر استعمال میں لائی جاتی ہیں، مگر یہ چیزیں اس طوفان آمیز مہنگائی میں عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور ہو گئی ہیں۔ انہیں بس دور ہی سے دیکھا جا سکتا ہے، بلکہ اب تو غریب کے کھانے سے مرغی بھی عنقا ہوتی نظر آ رہی ہے۔

ہمارے بچپن میں جب بھی گھر میں مرغی کا سالن تیار ہوتا تھا تو وہ دیسی مرغی ہی ہوتی تھی۔ فارم کی مرغی کو کوئی بھی پسند نہیں کرتا تھا، مگر اب دیسی مرغی عام مارکیٹوں سے ایسے غائب ہو گئی ہے جیسے مشین بالوں کا صفایا کر دیتی ہے۔ اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کے بے شمار ممالک فارم کی مرغی بیرون ممالک سے درآمد کر رہے ہیں جن میں اسلامی ممالک سر فہرست ہیں، جیسے: سعودی عرب، قطر، ایران، دبئی اور ابوظہبی وغیرہ۔ اسلام کی رو سے مسلمان کو حلال کھانے کی ترغیب اور حرام سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے: ’’حرام کھانے سے پلنے والا گوشت دوزخ کے قابل ہے۔ ‘‘

ہم الحمد للہ! مسلمان ہیں اور ہمیں حلال کھانا ہی استعمال کرنا ہوتا ہے۔ ہمیں اور ہمارے تاجر حضرات کو یہ فکر لاحق ہونی چاہیے کہ جو مال خوراک کے طور پر بیرونی ممالک سے پاکستان یا اسلامی ممالک میں درآمد ہوتا ہے، ان میں ایسی چیزوں کی ملاوٹ نہ ہو جن کو اسلام کی رو سے حرام قرار دیا گیا ہے۔ خوراک میں ایسے مادے شامل کیے جاتے ہیں جن کے مخصوص نمبر ہوتے ہیں اور ان کی وضاحتیں ہر تاجر کے ذہن میں رہنی چاہییں۔ ایسا نہ ہو کہ کل کو تاجر برادری درآمد برآمد کے کاروبار میں منافع تو خوب حاصل کرے، مگر وہ اس کی طرف دھیان نہ دے کہ وہ مسلمانوں کو حرام اشیا سے تیار کردہ چیزیں کھلانے کا سبب بن رہے ہوں۔

مرغیوں سے متعلق سب سے زیادہ قابل غور بات یہ ہے کہ مرغی کا فیڈ بیرونی ممالک سے آتا ہے۔ اس فیڈ کو بنانے میں بے شمار اشیا استعمال میں لائی جاتی ہیں۔ کیا یہ فیڈ حرام اشیا پر مشتمل تو نہیں ہوتا؟ کیا درآمد کرنے والے حضرات کو حلال فیڈ کے بارے میں پہچان ہوتی ہے؟ کیا فیڈ کو تیار کرنے والے مادے میں کوئی ایسا مواد تو شامل نہیں کیا جاتا جو حرام اشیا سے بنایا گیا ہو؟ قران پاک میں بھی حرام اشیا کا ذکر ہے۔ خنزیر کا گوشت، خون، مردہ جانور اور ایسا ذبیحہ جو اللہ کا نام لے کر حلال نہ کیا گیا ہو۔ ہمیں مسلمان ہونے کے ناطے ان اشیا سے بچنا ہو گا جو ہمارے دین اور دنیا کو تباہ کر دیں۔ دیکھنا چاہیے کیا فیڈ یعنی مرغیوں یا دوسرے حلال پرندوں کو پالنے والے یہ بات اپنی نظر میں رکھتے ہیں کہ حلال پرندوں یا جانوروں کو حلال کھانے سے ہی پالا جائے، تاکہ حلال سے پلنے والا گوشت مسلمانوں کے استعمال میں جب آئے تو وہ ہر قسم کے شک سے پاک ہو۔ یہ بھی خبر ہے کہ بیرونی ممالک میں فیڈ کو تیار کرنے کے لیے ایسی احتیاط نہیں برتی جاتی۔ ان کی نظر میں حرام یا حلال کی اشیا کی اتنی فکر نہیں ہوتی جتنی ایک مسلمان کو ہونی چاہیے کیونکہ مسلمان کا کھانا حلال نہ ہو گا تو اس کا کوئی عمل اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہو گا۔

بیرونی ممالک میں سور کی چربی یا گوشت کا استعمال عام ہے، فیڈ کے لیے وہ مردہ مچھلیوں کو بھی استعمال میں لاتے ہیں۔ خون اور دوسری مردہ چیزوں کو فیڈ میں ڈالاجانا کچھ بعید نہیں۔ ایک مسلمان تاجر جو اس شعبے سے وابستہ ہے، اس کی نظر میں یہ بات اگر آ جائے تو امید ہے ایسا تاجر اپنا فرض سمجھتے ہوئے ایسی فیڈ سے ضرور اجتنا ب کرے گا اور عنداللہ ثواب کا مستحق ہو گا، ان شاء اللہ۔ کیونکہ اس نے اپنے فرض کو نبھایا اور لاکھوں مسلمانوں کو ایسی خوراک سے بچایا جو حرام جزویات سے بنی ہوتی ہے۔ ایسی صورت حال میں تاجروں کے لیے مفتیان کرام کی مشاورت بھی بہت ضروری ہے۔