قواعد،آداب، مسائل
کلیم اور سلیم دونوں دوست ہیں۔ دونوں کا کپڑے کا ہو ل سیل کا کاروبار ہے۔ کلیم اپنے دوست سلیم کو فون کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے ـسامان مارکیٹ لے جانے کے لئے تمہاری لوڈنگ سوزوکی چاہیے ہو گی، میری سوزوکی کام کے لئے گیراج میں کھڑی ہے۔ سلیم کہتا ہے کہ ٹھیک ہے ، آپ کو جب ضرورت ہو لے جائیے گا، آپ کی اپنی ہی گاڑی ہے۔ کلیم گاڑی لے جاتا ہے ۔ تین دن کے استعمال کے بعد سوزوکی واپس کردیتا ہے۔ سلیم گاڑی کی حالت دیکھتا ہے اور دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔

’’یہ کیا!؟ اس کی ہیڈ لائٹس ٹوٹی ہوئی ہیں، اس کو بری طرح استعمال کیا گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کلیم نے سوزوکی گھر کے باہر کھڑی کی ،شرارتی بچوں نے اس کی ہیڈ لائٹس توڑ دیں۔ حفاظت کے لئے اس پر کپڑا بھی نہیں چڑھایا۔ یوں لگ رہا ہے کلیم نے اس سوزوکی کو کپڑوںکے تھا نوں کے علاوہ کسی اور کے لیے بھی استعمال کیا ہے۔ ہاں! وہ اپنا گھر شفٹ کرنے کی بات کررہا تھا۔ شاید گھر کا سامان، فرنیچر وغیرہ شفٹ کیا ہو؟ یا کوئی اور لوہے کا سامان…‘‘ سلیم سوچتا رہ جاتا ہے۔ پھر کلیم کو فون کرتا ہے اور کلیم سے پوچھتا ہے: ’’کیا تم نے گاڑی پر حفاظتی کپڑا نہیں چڑھایا تھا۔ کیا تم نے کسی اور کام میں سوزوکی استعمال کی ہے؟‘‘ کلیم کہتا ہے: ’’ہاں یار، وہ میں نے اپنے گھر کا سامان اس سوزوکی میں شفٹ کیا ہے۔وہ میں کپڑا چڑھانا بھول گیا تھا، بچوں نے اس کی ہیڈ لائٹس توڑ دیں۔‘‘ سلیم باتیں سن کر خاموش ہوجاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ کیا اگر یہ اس کی اپنی گاڑی ہوتی تو یہ اتنی لاپروائی دکھاتا؟ میں نے تو اسے گاڑی کپڑوں کی لوڈنگ کے لئے دی تھی، اگر مجھے پتا ہوتا کہ یہ اپنے گھر کی شفٹنگ میں استعمال کرے گا تو میں ہر گز نہ دیتا۔ وہ بھاڑے کی لے لیتا، لیکن اب کیا کروں؟ دوست ہے، مارکیٹ میں ساتھ ہے، اسے میں کچھ کہہ بھی نہیں سکتا! لیکن اسے بھی کچھ خیال کرنا چاہیے تھا، یہ تو نیکی گلے آگئی۔

ذرا سوچیے
ایسی صورت حال ہمارے ساتھ بھی پیش آجاتی ہے۔ ہم سامان استعمال کے لیے دیتے ہیں۔ استعمال کے لیے لینے والا اس کو مالِ مفت سمجھتا ہے۔ بے رحمی کے ساتھ اسے استعمال کرتا ہے۔نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ دل میں خلش پیدا ہوتی ہے۔ بدگمانی دلوں میں جم جاتی ہے۔ بعض اوقات یہ باتیں لڑائی جھگڑوںتک پہنچ جاتی ہیں۔ گہری دوستی، دشمنی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ کیوں؟؟ کبھی سوچا ہم نے؟ نہیں سوچا ۔ اب سوچئے، ہمارا رویہ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے کیا ہونا چاہئے۔ ایک چیز دوسرے کو استعمال کے لیے دینے کی حیثیت سے اور ایک چیز استعمال کے لیے لینے کی حیثیت سے شریعت ہم سے کیا کہتی ہے؟ شاید ہمیں علم ہو لیکن علم و عمل میں دوریاں ہیں۔ اس لیے ہماری کاروباری معاشرت بھی خراب ہے، ہماری گھریلوں معاشرت بھی خراب ہے، لوگ ہم سے بدظن ہیں۔ کیا ایسا ہوتا ہے مسلمان؟ یہ سوال ہوتا ہے۔ علم کے مطابق عمل سیکھنے کا طریقہ تو یہ ہے کہ عمل والوں کے ساتھ تعلق مضبوط کریں۔ وہ ہمیں مل جائیں گے۔ پہلے قدم پر آئیے! علم دین کا ایک سبق سیکھتے ہیں۔ ہم کوئی چیز کسی کو استعمال کے لئے دیں تو شریعت ہم سے کیا تقاضا کرتی ہے، اگر ہم کسی سے چیز استعمال کے لیے لیں تو شریعت ہم سے کیا تقاضا کرتی ہے؟ کس چیز کو استعمال کے لیے دیا جاسکتا ہے؟ استعمال کے لیے کون دے سکتا ہے؟ استعمال پر چیز لینے والے کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟ آئیے سیکھتے ہیں۔

عاریت کا مفہوم:
وہ چیزیں جن کو ختم کیے بغیر استعمال کے ذریعے فائدہ اٹھا یا جا سکتا ہے، ان چیزوں کو بلامعاوضہ دوسرے کو استعمال کے لیے دینا ’’عاریت‘‘ کہلاتا ہے۔

ہمیں اپنی زندگی میںاس قسم کے معاملے سے واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ کاروباری زندگی میں بھی مارکیٹ میں اپنے دوست، پڑوسی کے ساتھ معمولی چیزوں کو باقاعدہ کرایہ پر نہیں لیا جاتا، بلکہ جانبین بغیر کسی معاوضے کے ہی استعمال کے لیے دینے پر راضی ہوتے ہیں۔ شریعت میں اس معاملے کو عاریت کہتے ہیں، مثلاً: اوازار، گاڑی، چھوٹی مشین ایک آدھ دفعہ استعمال کے لئے، انہیں عاریت پر ہی استعمال کیا جارہا ہوتاہے۔

عاریت کے اس معاملے کی بنیاد ہمدردی، بھائی چارے پر ہے، جس میں عموماً دینے والا صرف اپنے بھائی کے ساتھ اچھا معاملہ کرتے ہوئے، آخرت کے ثواب کی خاطراپنا سامان استعمال کے لئے دے رہا ہوتا ہے، لیکن بہر حال کاروباری زندگی میں اس سے واسطہ رہتا ہے، ہمیں اس کے بارے میں شرعی معلومات ہونا ضروری ہیں۔

عاریت پر دی جانے والی چیز
پہلے تو یہ سمجھیںکہ ’’استعمال‘‘ کے لحاظ سے ہمارے پاس دوقسم کی چیزیں ہوتی ہیں۔

پہلی قسم
وہ چیزیں جنہیں فائدے کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ استعمال ہوتے ہی ختم ہوجائیں، مثلاً: کھانے پینے کی چیز یں ہیں،سی این جی ہے،پٹرول ہے۔ ان سے فائدہ انہیں خرچ کرکے ہی ہوتا ہے۔

دوسری قسم
دوسری قسم وہ چیزیں ہیں جن کا فائدہ ان کے استعمال میں ہے، اس طرح کہ وہ چیزیں خود بھی باقی رہتی ہیں، مثلاً: گاڑی ہے، گھر ہے، مشینیں ہیں۔ ان کے استعمال سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اور یہ چیزیں اپنی جگہ باقی ر ہتی ہیں۔

کرایہ داری اور عاریت میں فرق
وہ چیزیں جو باقی رکھ کر استعمال ہوسکتی ہیں، ان کو استعمال پر دینے کی دو صورتیں ہیں: پہلی صورت یہ ہے کہ میں وہ چیزاستعمال کروں اور اس استعمال کے پیسے دے دوں۔ یہ صورت کرایہ داری کی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ میں وہ چیز استعمال کرلوں، دوسرا ہمدردی کے جذبے کے ساتھ مجھے وہ چیز استعمال کرنے دے، اس کا معاوضہ نہ لے۔ یہ صورت عاریت کی ہے۔

عاریت اور قرض میں فرق
وہ چیزیں جن کا فائدہ ان کے صَرف کرنے سے ہی ممکن ہے، مثلاً: پٹرول ،کھانے پینے کی اشیا وغیرہ، ان چیزوں کو اگر بلا معاوضہ دیا جائے اس شرط پر کہ اس جیسی چیز واپس کردینا تو یہ معاملہ قرض کہلاتا ہے۔ یہ معاملہ باہمی ہمدردی کی بنیاد پر ہوگا، لہذا جتنا استعمال کیا ہے، اتنا ہی واپس کرنا ہوگا۔ دینے والا اس میں اضافہ نہیں مانگ سکتا۔ و ہ چیزیں جنہیں باقی رکھتے ہوئے ان کے استعمال کے ذریعے فائدہ اٹھایا جاتا ہے، انہیں بلا معاوضہ استعمال کرنا عاریت ہے۔

خلاصہ یہ کہ عاریت پر صرف وہ چیزیں دی جاسکتی ہیں جن کا استعمال کے ذریعے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہو، اس استعمال سے وہ ختم نہ ہوتی ہوں۔

عاریت پر سامان دینا، اجر و ثواب کا باعث
دوسرے شخص کی ضرورت پوری کرنے کے لئے اسے بغیر کسی معاوضے کے سامان دے دینا، ایک باعث اجر و ثواب معاملہ ہے۔ حدیث میں آتا ہے: جب ایک شخص دوسرے کی ضرورت پوری کرنے کے لئے لگا ہوتا ہے تو اللہ پاک اس کی ضرورت پورا کرنے میں لگا رہتا ہے۔ لہذا عاریت کا معاملہ کرنا مستحب ہے۔ اگر نیک نیتی کے ساتھ کرے گا تو ان شاء اللہ خوب اجر وثواب کا مستحق ہوگا۔

ایک بات ذہن میں رہے کہ بچہ کوئی چیز نہ خود عاریت پر دے سکتا ہے، نہ ہی اس کے سرپرست بچے کی چیز عاریت پر دے سکتے ہیں۔

سامان استعمال کے لیے لینا، امانت کا متقاضی
دوسرے سے سامان عاریت پر لینا ایک ذمہ داری کا معاملہ ہے۔ دوسرے کا سامان لے کر ہمیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اگر یہ بات کہی جائے تو غلط نہ ہوگی کہ اپنی چیز سے زیادہ حفاظت اور فکر دوسرے کی چیز کی کرنی چاہئے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے کچھ بنیادی قواعد عاریت کے آپ کی خدمت میں پیش کیے جاتے ہیں:

عاریت کے بنیادی قواعد کا جائزہ
1 عاریت پر لی جانے والی چیز ضرورت پوری ہونے پر خود واپس کردیں: جب آپ کوئی چیز کسی خاص ضرورت کے لئے لیں تو جب ضرورت پوری ہوجائے توچیز کو واپس کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ مثال کے طورپر میں نے اپنے دوست سے گاڑی لی کہ میں صدر سے ہوکر آتا ہوں۔ جب میں اپناکام کرچکا تو اب یہ میری ذمہ داری ہے کہ میںگاڑی فوراً دوست کو پہنچا دوں۔

لمحۂ فکریہ
اس معاملہ میں ہمارے یہاں بڑی غفلت ہوتی ہے۔ چیز لی اور استعمال کی، لیکن جب تک مالک خود تقاضا نہ کرے، واپس نہیں کرتے۔ جس کام کے لئے چیز لی یا جتنے وقت کے لئے چیز لی ہے، اس کام کے پورا ہونے کے بعد واپس کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جتنے دنوں کے لئے چیز لی تھی، اس وقت کے بعد چیز اپنے پاس رکھنا ایسا ہے جیسے اس سے چھین کر رکھی ہوئی ہو۔ اب اگر اس چیز میں کوئی بھی نقصان ہوا تو استعمال کے لیے لینے والا اس کا ذمہ دار ہوگا۔

2 اس چیز کی حفاظت کرنا استعمال کرنے والے کی ذمہ داری ہے: دوسری اہم بات یہ کہ جب کوئی چیز عاریت پر لی جائے تو اس کی حفاظت کرنا، استعمال کرنے والے کی ذمہ داری ہے۔ چیز کی اس طرح حفاظت کرے جس طرح اس قسم کی چیز کی کی جاتی ہے۔ مثال کے طورپر گاڑی استعمال کے لیے لی تو مناسب جگہ پر اسے کھڑا کرنا، اس کا لاک لگانا ضروری ہو گا۔ اگر اس میں لاپروائی کی اور گاڑی کو نقصان ہوگیا تو اس استعمال کرنے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ نقصان پورا کرکے دے۔ ہاں، اگر حفاظت کی لیکن پھر بھی کوئی نقصان ہوگیا تو یہ ذمہ دار نہیں ہے۔ اگر نقصان کی تلافی کردے تو یہ اس کی جانب سے ہمدردی کامعاملہ ہوگا۔ اگر حفاظت کا خیال رکھا اور نقصان ہوگیا تو مالک تاوان کا مطالبہ نہیں کرسکتا، بلکہ اگر اس شرط پر گاڑی دی کہ اگر نقصان ہوا تو تم بھرو گے تب بھی استعمال کرنے والا ذمہ دار نہیں ہوگا۔ صرف غفلت کی صورت میں ہی اس سے نقصان کی تلافی کروانا درست ہوگا۔

3 عاریت پر دی ہوئی چیز کو واپس لینا: یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ جب دوسرے کی چیز بلامعاوضہ استعمال کر رہے ہیں تو اس کا مالک دینے والا ہی ہے۔ اسے اس بات کا اختیار ہے کہ وہ جب چاہے، اس چیز کو واپس لے لے۔ جب آپ نے اس سے چیز مانگی تھی اس وقت اس کو اختیار تھا کہ نہ دیتا، آپ کے استعمال کے دوران وہ اگر لینا چاہے تو آپ کیسے منع نہیں کرسکتے؟ بلکہ اسے اسی وقت واپس کرنا ضروری ہو گا۔

مالک نے اپنی چیز کا سوال کیا کہ واپس کرو۔ اب آپ نے واپس نہیں کی تو یہ بالکل ایسا ہے کہ آپ نے وہ چیز اس سے چھین لی ہو۔ اب اگر وہ چیز ضائع ہو جائے یا اس چیز میں نقصان آجائے تو آپ کو اس نقصان کی تلافی کرنا پڑے گی۔

4 مالک کی مرضی کے مطابق استعمال: چیز لیتے وقت بتا دینا چاہیے کہ کس استعمال کے لیے چیز لے رہے ہیں۔ مثال کے طورپر گاڑی لی تو بتا دیںکہ میں یا میری فیملی گارڈن تک جائیں گے یا ہم لیاری جائیں گے، وغیرہ۔ اگر کچھ نہ بتایا تو نارمل استعمال کی اجازت مالک کی جانب سے سمجھی جائے گی، جیسے گاڑی، کار یا موٹر سائیکل عموماً شہر کے اندر سفر کے لئے استعمال کی جاتی ہیں، اب کسی کے لیے یہ درست نہیں ہوگا کہ وہ دوسرے کی موٹر سائیکل یا کار لے کر دوسرے شہر چلا جائے، یہ اس کا نارمل استعمال نہیں ہے۔ اگر کسی نے نارمل سے ہٹ کر استعمال کیا اور کوئی نقصان ہوگیا تو اس کی ذمہ داری اس استعمال کرنے والے پر ہوگی۔

ایک اور بات یہ کہ اگر کسی نے چیز لی استعمال کے لئے، لیکن لیتے وقت ہی نیت تھی کہ واپس نہیں دوں گا، یہ ایسا ہے جیسے اس نے وہ چیز مالک سے چھین لی ہو۔ اب اگر کوئی بھی نقصان اس چیز میں آیا، وہ اس کا ذمہ دار ہوگا۔ باقی نیت کی خرابی کی وجہ سے گناہ الگ ہوگا۔

اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اگر مالک نے آپ کو استعمال کے لئے ایسی چیز دی ہے جس پر مختلف لوگوں کے استعمال سے مختلف اثر پڑتا ہے، تو اسے دوسرے کو استعمال کے لیے نہیں دے سکتے۔ مالک اگر راضی ہو تو حرج نہیں ۔

اللہ پاک ہمیں باتوں کو سمجھنے اورعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!