سوال:آپ کا تجارتی سفرکیسے شروع ہوا؟
جواب:میں نے سن 1932 کو ’’ابورقبہ‘‘ نامی بستی کے ایک غریب دیہاتی خاندان میں جنم لیا۔ یہ علاقہ مصر کے صوبہ ’’منوفیہ‘‘ کے ضلع ’’شمعون‘‘ میں پڑتا ہے۔ میرے والد بچپن ہی میں اللہ کو پیارے ہو گئے تھے۔ تلاش معاش کے لیے مجھے چاروناچار ہاتھ پاؤں ہلانا پڑے۔ میں 10 سال کا تھا جب اسٹیشنری کی دکان پر کام کے سلسلے میں قاہرہ جا کر ملازم ہو گیا۔ 1954ء کو فوج میں ملازمت اختیار کر لی،مگر 3 سال بعدہی ملازمت کوالوداع کہہ دیا۔

تجارت میں قدم رکھا تو اپنے کاروبار کا آغاز رنگ اور سیاہی بنانے والے ایک چھوٹے سے کارخانے سے کیا۔ جب مجھیکامیابیوں ملنے لگیں تو میرا شوق اور بڑھا اور میں نے اسٹیشنری کی تجارت کو چھوڑ کر بجلی کے ساز و سامان کو اپنی تجارت کا میدان بنایا۔ کامیابیوں کا سفر آگے بڑھا تو میں نے جاپان کی ایک بڑی الیکٹرانکس کمپنی سے فرنچائز حاصل کی۔ آگے چل کر مصر میں الیکٹرک آلات تیار کرنے والی کمپنی توشیباالعربی کی بنیاد رکھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ کمپنی ملک کی صف اول کی کمپنیوں میں شمار کی جانے لگی۔ میں نے چیمبر آف کامرس یونین کے انتخابات میں حصہ لیا تو 12 سال کے لیے یونین کا صدر منتخب کیا گیا۔
میرے اس تجارتی سفر میں ایک ناخوشگوار موڑ اس وقت آیا جب میں نے کارزارِ سیاست میں قدم رکھا۔ ’’سیدہ زینب‘‘ اور ’’قصرنیل‘‘ کے حلقے سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوا۔ مگر میں نے جلد محسوس کر لیا کہ میں سیاست کی دنیا کا آدمی نہیں۔ سو، میں نے اپنے دامنِ مخمل کو کیل کانٹوں میں الجھنے سے بچانے کی فکر میں ہمیشہ کے لیے کارزارِ سیاست کو خیر آباد کہہ دیا۔
سوال :بہت مناسب ہو اگر اپنے بالکل ابتدائی احوال سے پردہ اٹھائیں؟


٭…میں اپنی زندگی بھر کی کامیابیوں کا سبب قرآن پاک کو ہی سمجھتا ہوں ٭…میں سمجھتا ہوں دیانت و امانت میری کامیابیوں کا بے مثال راز ہے ٭…جب تک فلسطین کی مقبوضہ اراضی کا مسئلہ حل نہیں ہو پاتا، میں کسی بھی اسرائیلی تاجر کے ساتھ لین دین نہیں کروں گا

جواب:سچ یہ ہے کہ میں ایک ایسے غریب گھرانے میں پیدا ہوئے، جن کے نصیب میں بالشت بھر زمین بھی نہ تھی۔ میرے خاندان والوں کے بس میں اتنا ہی کچھ تھا کہ انہوں نے مجھے 3 سال کی عمر میں مکتب میں داخل کرایا، جہاں میں حفظِ قرآن کی عظیم دولت سے مالامال ہوا۔ اس عظیم کتاب کے طفیل اللہ نے مجھے صدق وصفا، امانت ودیانت حلال کا شوق اور حرام سے اجتناب کی توفیق بخشی۔ میں اپنی زندگی بھر کی کامیابیوں کا سبب اسی قرآن پاک کو ہی سمجھتا ہوں۔
میں نے اپنے بڑے بھائی کے تعاون سے نہایت کم عمری میں تجارت کا آغاز کیا۔ گھریلو حالات اور اللہ کی توفیق کی برکت سے میں بچپن میں ہی بزنس سے منسلک ہو گیا تھا۔ میرے بڑے بھائی قاہرہ میں کام کرتے تھے۔ میں عید سے پہلے اپنے بھائی کو 30 یا 40 قرش دے دیتا، وہ میرے لیے قاہرہ سے غبارے اور آتش بازی کا سامان لاتے، جسے میں اپنے گھرکے سامنے بنے ایک چبوترے پر بیٹھ کر اپنے دوستوں کو فروخت کرتا۔ اس سے مجھے تقریباً 15 قرش کا نفع ہوتا۔ اصل رقم بمع نفع کے میںبھائی کو پھر دے دیتا، تاکہ وہ بقر عید پر دوبارہ اس طرح کا سازوسامان میرے لیے لے کرآئے۔ یہ معاملہ اس طرح چلتا رہا، یہاں تک میری عمر 10 سال کی ہو گئی اور مجھے اپنے بڑے بھائی جان کے مشورے سے عطر اور پرفیوم بنانے والی ایک فیکٹری میں کام کے سلسلے میں قاہرہ جانا پڑا۔ یہ 1942 ء کی بات ہے۔ میں نے اس فیکٹری میں تقریباً ایک مہینہ کام کیا، لیکن پھر فیکٹری جانا چھوڑ دیا، کیونکہ مجھے بند جگہیں اور روایتیکام کی جکڑبندیاں پسند نہیں تھیں۔ بعد ازاں میں نے 120 قرش کے معاوضے پر ایک خردہ فروش کی دکان پر ملازمت اختیار کر لی۔1949 ء تک میں یہیں کام کرتا رہا، اس دوران میرا مشاہرہ تقریباً 320 قرش تک جا پہنچا۔
الحمد للہ! میری بلند پرواز طبیعت نے اسی پر قناعت کر کے بیٹھ جانا پسند نہیں کیا، بلکہ اپنے تجارتی تجربے کوبڑھانے اور اسے پروان چڑھانے کی غرض سے میں نے خردہ فروش کی دکان پر کام کرنے کے بجائے ایک ہول سیل اسٹور میں کام کرنے کو ترجیح دی۔ اس نئے اسٹور میں میرامشاہرہ تقریبا 4 مصری پونڈ ٹھہرا۔ تقریبا 15 سال تک میں مسلسل یہاں کام کرتا رہا۔ اس دوران میری تنخواہ پندرہ پونڈ تک جا پہنچی، جو اس وقت کے حساب سے ایک بڑی رقم ہے۔ اسی تنخواہ سے میںنے شادی بیاہ کے اخراجات کو بھی برداشت کیا۔
سوال :آپ نے ذاتی کاروبار کب اور کن حالات میں شروع کیا؟
جواب:1963ء میں میں نے سوچا کہ اب اپنا الگ سے کوئی کاروبار شروع کرنا چاہیے، لیکن اپنا الگ سے کاروبار کریں کیسے؟ اتنا سرمایہ تو ہے نہیں، جو ایک نئے کاروبار کو تشکیل دینے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ اپنے دوست کے ساتھ مل کر اس معاملے پر بڑی سوچ وبچار کی۔ بالآخر ایک ترکیب سوجھی، وہ یہ کہ کسی بڑے سرمایہ دار کے ساتھ مل کر کاروبار کا آغاز کروں۔ اُس سرمایہ کار کی طرف سے سرمایہ، جب کہ ہم دونوں کی طرف سے محنت ہو گی۔ (اصطلاح شریعت میں اس کو مضاربت کہا جاتا ہے) چنانچہ قاہرہ کے موسکی نامی زون میں 5 ہزار مصری پونڈ سے ایک اسٹور حاصل کیا۔ ترقی کے بام ِ عروج پر پہنچانے میں اہم کردار ادا کرنے والے اس اسٹور کو ابھی تک اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ اپنے اس نئے کاروبار کا آغاز کیے ابھی 3 دن بھی نہ گزرے تھے کہ میرا دوسرا دوست اورشریک کار بیمارپڑ گیا۔ تقریبا 2 سال تک وہ بیمار رہا۔ اس دوران تمام تر کاروبار کو تنِ تنہامیں خود ہی سنبھالے رہا۔اللہ کے فضل وکرم سے اس دوران کاروبار نے بڑی برق رفتار ترقی کی۔ 2 سال کے اس عرصے میں میرے ایک اسٹور نے جتنا نفع دیا، وہ 10 اسٹوروں کی اجتماعی نفع سے بھی زیادہ تھا۔
میں سمجھتا ہوں دیانت و امانت میری کامیابیوں کا بے مثال راز ہے۔ یہ کاروبار 2 سال تک تو مشترکہ رہا، لیکن پھر اختلافات ہونے کی بنا پر تیسرے شریک کو کاروبار سے علیحدہ کر دیا گیا۔ یو ں یہ اسٹور باقی 2 شریکوں کے حصے میں آیا۔ کچھ مدت بعد ایک نئے اسٹور کو بھی خریدااور سابقہ تیسرے شریک کو بھی دوبارہ اپنے ساتھ ملا لیا۔ اب کی بار نہ صرف بیمار شریک کے بیٹے آپ کے ساتھ کام میں ہاتھ بٹھانے لگے، بلکہ تجارت کے وسیع ہونے اور کاروباری ذمہ داریوں کے بڑھ جانے کی وجہ سے میرے تمام بھائی بھی میرے دست و بازو بن گئے۔ اب میں نے اپنے کاروبار کو ایک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کیا۔
سوال :اس قدر وسیع تر کاروبار میں کبھی آپ کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا؟
جواب:میرا بنیادی کاروبار اسٹیشنری کے سازوسامان کا تھا۔میرے اس کاروبار کو اُس وقت دھچکا لگا،جب 60 کی دہائی میں حکومت نے سکول کے طلبہ کومفت سازوسامان فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کا مطلب تھا کہ محمود کے کاروبار کا اب وجود باقی نہیں رہا۔ میںنے اس غیر متوقع دھچکے سے خود کو سنبھالتے ہوئے بجلی، ٹیلیفون اور ریڈیوکے سازوسامان (الیکٹرونکس) کو اپنی تجارتی سرگرمیوں کا میدان بنا لیا۔70 کی دہائی میں جب حکومت کی طرف سے آزادانہ تجارتی سرگرمیوں کی اجازت ملی تومیں نے اپنے کاروبار کو بالکل الیکٹرونکس مارکیٹ کی طرف پھیر دیا۔ میں نے سوچا کہ کاروبار کو مزید بڑھانے اور بلندیوں تک پہنچانے کے لیے کسی ملٹی نیشنل کمپنی سے فرنچائز حاصل کرنا چاہیے۔ اسی اثنا میں قاہرہ کی الجامعۃ الامریکیۃ میں ایک جاپانی ریسرچ اسکالر سے میرے مراسم قائم ہوئے۔ یہ اسکالر جاپانی کمپنی توشیبا کے لیے کام کرتے تھے۔ وہ میری محنت اور جانفشانی کے ساتھ کام کرنے سے بہت متاثر ہوا۔جس پر اُس نے کمپنی کے نام رپورٹ لکھتے ہوئے اس بات کو واضح کیا کہ محمود عربی ہی مصر میں توشیبا کی بہترین نمائندگی کر سکتاہے، لہذا اسے ہی مصر میں اپنا فرنچائزر بنانا چاہیے۔ اس رپورٹ سے اتفاق کرتے ہوئے کمپنی نے مجھے اپنا نمائندہ مقرر کیا۔
سوال:آپ ’’توشیبا العربی‘‘ قائم کرنے میں کیسے کامیاب ہوئے؟
جواب: 1975ء میں میں نے جاپان جا کر کمپنی کے مختلف پلانٹوں اور ورکشاپوں کو دیکھا۔ وہاں جا کر میںنے کمپنی کے ذمہ داروں سے درخواست کی کہ وہ مصر میں بھی اس کمپنی کا ایک پلانٹ لگائے۔ کمپنی نے میری اس درخواست سے اتفاق کرتے ہوئے مصر میں یہ بڑا پلانٹ لگایا، جہاں مقامی سطح پر تقریباً چالیس فیصد پیداوار تیار ہونے لگی۔ اس پلانٹ کی پیداواری صلاحیت بڑھتے بڑھتے جب95 فیصد تک جا پہنچی تومیں نے1978ء میں ’’توشیباالعربی‘‘ کے نام سے ایک مستقل کمپنی قائم کی۔ 1980ء میںمیں قاہرہ کے چیمبر آف کامرس کے انتظامی بورڈ کے رکن اور کیشیر اور 1995ء مصرکے چیمبر آف کامرس یونین کا صدر منتخب ہوگیا۔
سوال:آپ ذاتی تجربے کی روشنی میں بتلائیے کہ تجارت اور سیاست ایک ساتھ کیوں نہیں چل سکتے؟
جواب:ہر میدان کے لیے الگ لوگ پیدا کیے گئے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ اللہ نے مجھ میں تجارت کی صلاحیت ودیعت کی ہے اور میں اسے ہی بخوبی نبھانے پر قدرت رکھتا ہوں۔ میں صنعت کے میدان میں تجارت کے اُس راستے سے داخل ہوا، جس کو میں خوب جانتا اور سمجھتا ہوں۔ اسی80ء کی دہائی میں قاہرہ کے اُس وقت کے ڈپٹی کمشنر نے مجھ سے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے درخوست کی۔ اس سلسلے میں اُنہوں نے بڑا اصرار بھی کیا، لیکن میں نے اُن کی درخواست بالکل نظر انداز کر دیا۔ اُن کے بعد دوسرے ڈپٹی کمشنر نے بھی یہی درخواست کی۔ پُرزور اصرار کے بعد میں نے اُن کی درخواست کو منظور کیا، انتخابات میں کامیابی کے بعد پارلیمنٹ کے ایک آدھے اجلاس میں شریک بھی ہوا، لیکن بہت جلد ہی مجھ پر یہ حقیقت آشکارا ہوئی کہ میرے لیے پارلیمنٹ کی رکنیت کو برقرار رکھنا محض وقت کا ضیاع ہے۔ میرے لیے میری صنعت و تجارت ہی زیادہ مناسب ہے۔ میدانِ سیاست کے اپنے ہی آدمی ہیں، جن میں سے میں نہیں۔
سوال:آپ بے روزگاری کے خاتمے کا کیا حل پیش کرتے ہیں؟
جواب:میں نے جس وقت اپنی تجارت کا آغاز کیا تھا، اُس وقت میرے ساتھ صرف ایک ملازم کام کرتا تھا، لیکن آج میرے ہاں تقریباً بیس20 ہزار سے زیادہ ملازم ہیں۔ جاپانی کمپنی الام میں تقریباً ایک لاکھ اسی ہزار ملازم کام کرتے ہیں اور میری یہ خواہش ہے کہ مستقبل میں میری کمپنی میں کام کرنے والے ملازمین کی تعداد بھی اتنی ہی ہو، تاکہ نوجوانوں کو روزگار کے سلسلے میں سپورٹ کرنے اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ملازمتیں دے کر مصر سے بے روزگاری کو ختم کرنے میں اپنا حصہ ڈال سکوں۔میرے نزدیک ایک بزنس مین کی حیثیت سے بے روزگاری کے خاتمے کا یہ کامیاب حل ہے۔
میری کمپنیوں کے ملازمین صلاحیت، لیاقت (کوالیفکیشن) اور تجربے کے حساب سے مختلف تنخواہیں وصول کر رہے ہیں۔ میں اپنے کمپنیوں میں کسی کو تمباکو نوشی کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ملازم کی تقرری کے حوالے سے میری مخصوص شرائط ہیں۔ میں کسی بھی اسرائیلی تاجر کے ساتھ بالکل لین دین نہیں کرتا۔ اس حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ جب تک فلسطین کی مقبوضہ اراضی کا مسئلہ حل نہیں ہو پاتا، میں کسی بھی اسرائیلی تاجر کے ساتھ لین دین نہیں کروں گا۔ اسی وجہ سے جن دنوں میں چیمبر آف یونین کا صدر تھا، میں نے اسرائیل کے ایک تجارتی وفد سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے سراسر خلاف ہوں۔