کسی بھی چیز کے عملی پہلوؤں پر غور کرنے سے قبل اس کے بنیادی تصورات سے آگہی ضروری ہوتی ہے۔ کسی بھی پریکٹیکل کام سے پہلے نظریہ اور Concept ضرور ہوتا ہے اور بلاشبہ نظریہ کی وضاحت پریکٹیکل سے پہلے ہوتی ہے۔ اسی طرح اقتصادی نظام اور اس کی راہ میں پیش آمدہ مشکلات کا جو حل اسلام نے پیش کیا ہے اس کی جانکاری سے پہلے ذہن میں اسلامی معیشت و اقتصاد کا تصور واضح ہونا اور یہ بات معلوم ہونا از حد ضروری ہے کہ اسلامی اقتصاد و معیشت کس چیز کا نام ہے؟ اس کی کیا بنیادی خصوصیات ہیں؟


اسلام، ایک مکمل نظام زندگی
اسلامی معیشت یا بالفاظ دیگر اسلام کے اقتصادی نظام کے حوالے سے سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اسلام کیپٹل ازم (سرمایہ دارانہ نظام) یا سوشلزم (اشتراکیت) کی طرح ایک معاشی نظام کا نام نہیں، بلکہ وہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ چنانچہ قوانینِ اسلام کے مجموعے میں وہ بنیادی تصورات تو ہیں جن پر بنیاد رکھ کر معیشت کو استوار کیا جا سکتا ہے، لیکن معیشت کے ایسے نظریات جو آدم ’’اسمتھ‘‘ اور ’’مارشل‘‘ وغیرہ کی کتابوں میں ہیں، اسلامی شریعت میں وہ اس طرح موجود نہیں۔ وجہ وہی ہے کہ اسلام اپنی ذات اور اصل میں معاشی نظام نہیں، بلکہ وہ ایک مکمل نظام زندگی ہے، جس کا ایک شعبہ معیشت و اقتصاد بھی ہے۔

اصل منزل، آخرت کی منزل
بلاشبہ اسلام نے معیشت کے شعبے کو بھی اہمیت دی ہے۔ دنیاوی منافع کو قرآن میں فضل اور خیر کہا گیا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حلال طریقے سے رزق کے حصول کو دوسرے درجے کا ’’اہم فریضہ‘‘ قرار دیا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی ایک ناقابلِ انکارحقیقت ہے کہ اسلام نے اسے دوسرے معاشی نظاموں کی طرح مقصد زندگی قرار نہیں دیا کہ انسان اپنی ساری کوششیں اسی میں صرف کر دے اور یہی اس کی سب سے بڑی فکر اور مطمع نظر قرار پائے۔

اسلام، رہبانیت کا مخالف
اسلام کے معاشی نظام کی طرف قدم بڑھانے سے پہلے یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ عقیدہ آخرت کا یہ تقاضا ہرگز نہیںکہ انسان صرف آخرت کی سوچ لے کر بیٹھ جائے، معیشت کو غیر کار آمد اور فضول سمجھنے لگے اور زندگی بہتر بنانے کی سعی کو ناجائز سمجھ بیٹھے۔ اس لیے کہ دین محمدی علی صَاحبِہٖ الصلاۃ والسلام کے امتیازات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان معیشت اور اقتصاد کو اعتدال کے ساتھ اختیار کرے۔ اس کے حصول میں اللہ کی قائم کردہ حدود کا خیال رکھے۔

اسلامی معاشی نظام کی حدود
1 انفرادی ملکیت کا تصور
قرآن کا یہ اعلان ہے کہ دنیا کی ہر چیز زمین، کار خانہ، روپے، سونے اور چاندی، ان سب کا مالک اللہ ہے، اصل ملکیت اسی کی ہے: ’’للہ مافی السموات و ما فی الارض‘‘ (القرآن)۔ ہاں! وہ اپنی ملکیت اپنے بندوں کو نفع اٹھانے کے لیے اس شرط پر دیتا ہے کہ وہ اس کے استعمال میں اس کی مرضی کے پابند رہیں۔ ارشاد ربانی ہے: ’’اور اللہ نے تمہیں جو کچھ دے رکھا ہے، اس کے ذریعے آخرت والا گھر بنانے کی کوشش کرو، اور دنیا میں سے بھی اپنے حصے کو نظر انداز نہ کرو، اور جس طرح اللہ نے تم پر احسان کیا ہے، تم بھی دوسروں پر احسان کرو، اور زمین میں فساد مچانے کی کوشش نہ کرو۔‘‘ (قصص: 77)

2 ملکیت کے حقوق
ملکیت عطا کرنے کے ساتھ بندے کو سرمایہ داری نظام کی طرح ایسا خود مختار نہیں بنایا کہ وہ جیسے چاہے کرتا پھرے، بلکہ حدودکے تعین کے لیے سود، قمار، سٹہ اور اکتناز ان کے اسباب و عوامل کو حرام قرار دیا اور اعلان کر دیا: ’’اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور بت وغیرہ اور قرعہ کے تیر یہ سب گندی باتیں شیطانی کام ہیں، سو ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم کو فلاح حاصل ہو۔‘‘

3 تجارت میں نقصان دہ عوامل
پھر حصول رزق کے تمام جائز طریقوں کی اجازت دے کر نقصان دہ عوامل کی نشاندہی فرما کر ان سے منع بھی کر دیا۔ قرآن میں ہے: ’’اللہ نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے۔‘‘ دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زبانی یہ اعلان کر دیا: ’’بیع جلب‘‘ اور ’’بیع حاضر لباد‘‘ منع ہے۔ کیونکہ اس سے کاروبار کی سلاست میں فرق پڑتا ہے۔

4 معاشرے کا خیال
مزید یہ کہ معیشت کی حدود کو متعین کرنے کے ساتھ ساتھ غریبوں تک دولت پہنچانے کے لیے سرمایہ داروں پر زکوۃ جیسے بہت سے اخراجات اسلام نے واجب کر دیئے، جنہیں صرف احسان کے طور پر نہیں، بلکہ حق کے طور پر واجب قرار دیا۔ نیز زکوۃ کے علاوہ عشر، خراج، صدقات، کفارات، نفقات، وصیت اور میراث کے ذریعے مالداروں کے تالاب سے غریبوں کے کھیتوں کی طرف مختلف نہریں جاری کر دیں تاکہ پورا معاشرہ سرسبز و شاداب رہے اور آیت قرآنی (وابتغوا من فضل اللہ) اور (کلوا من الطیبات واعملوا صالحا) کے ذریعے حلال آمدنی کے حصول پر توجہ دلاتے ہوئے اس کو غریبوں پر خرچ کرنے کی تاکید بھی کر دی، چنانچہ قرآن و حدیث کی تعلیمات انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب سے بھری پڑی ہیں۔ غرض اسلام نے ایک طرف سرمایہ داری کی نا جائز آمدنی اور اشتراکیت کے ظلم و جور کو ختم کر کے انسان کو حق ملکیت دیا اور دوسری طرف اس کے اخرجات میں اضافہ کر کے دولت کے بہاؤ کا رخ عام معاشرے کی طرف پھیر دیا تاکہ خوشحالی ہی خوشحالی نظر آئے، معاشرے سے غربت دور ہو، انسان چین و سکون کے ساتھ زندگی بسر کرے۔ نہ امیر غریبوں کا خون چوسیں اور نہ ہی غرباء بقاء حیات اور سدرمق کے لیے قوت لایموت کو ترسیں۔

یہ ہے اسلام کے اقتصادی نظام کی ایک جھلک! جس نے اسے اپنایا، ترقی کرتا چلا گیا اور جس نے اس کے علاوہ کوئی دوسری راہ تلاش کی ابدی تنزلی اس کا مقدر بن گئی۔ یہ دستک یورپ کے ایوانوں میں اپنی صداقت کا سکہ منوا چکی ہے۔ تو پھر اسلامی پاکستان کی سرزمین اس سے کیوں تشنہ رہے؟