تین فرائض، چار حقوق

ملازم کے ذمے اپنے مالکان کے لیے کیا فرائض ہیں؟ اس سلسلے میں پہلا فریضہ گزشتہ قسط میں ذکر کیا۔ یعنی ملازم پر ضروری ہے کہ وہ ایک کام پوری دیانتداری سے ادا کرے۔ اب بقیہ فرائض اور مالکان کے ذمے ملازم کے حقوق کا ذکر کیا جاتا ہے۔
2 ادارتی قواعد و ضوابط کی پابندی کرنا: جس طرح ملازم کے پاس ادارے کی اشیا، مثلاً: کمپیوٹر، ٹیلی فون، صاف کاغذات، فیکس،

ریکارڈ فائلز، ادارتی ڈاکومنٹس وغیرہ امانت ہوتی ہیں، اسی طرح ملازم کے طے شدہ اوقات بھی کمپنی / ادارے کی امانت ہوتے ہیں۔ لہذا ان کو ادارتی قواعد وضوابط کے مطابق ادارتی کاموں میں ہی استعمال کیاجائے، ذاتی اور غیر ادارتی مقاصد، مثلاً: دوستوں سے گپ شپ، غیرادارتی طویل فون کالز وغیرہ میں استعمال سے گریز کیاجائے ۔
3 نماز کے لیے بقدرضرورت وقت صرف کرنا: نماز ہر مسلمان پر ایک لازمی فریضہ ہے۔ یہ ایک ایسا شرعی تقاضا ہے جس کی بلاشبہ اوقات ملازمت میںبھی ادا کرنے کی اجاز ت ہے اورمالک کو اس سے روکنے کا حق نہیں، لیکن بعض دفعہ نماز کوکام چوری کا بہانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ اس بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ ملازمت کے اوقا ت میں صرف فرائض اور سنتیں ادا کرنے کی اجازت ہے نوافل یا بلاوجہ تاخیر درست نہیں ہے۔
4
سچائی اور راست گوئی اختیارکرنا: سچائی اور راست گوئی مؤمن کا زیور ہے۔ اسے ہر وقت اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور بطور ملازم یہ فریضہ اور شدت سے عائد ہو تا ہے۔ ادارتی کاموں میں ہمیشہ اس کو اختیار کریں۔ ایک کام کے لیے ایمانداری سے جتنا وقت مطلوب ہو اور جتنے وقت میں کام کا ہونا باآسانی ممکن ہو، اتنا ہی بتایا جائے ۔ 

ملازم کے حقوق
1 طاقت و اہلیت کے مطابق کا م لینا: کمپنی مالک کو اس بات کا خاص طورپر خیال رکھنا چاہیے کہ ملازم سے اس کی استطاعت، قابلیت اور لیاقت سے زیادہ کام نہ لیا جائے ،کہیں ایسا نہ ہو کہ ملازم پر ظلم کے زمرے میں آجائے ۔
2 عزت و تکریم کا معاملہ کرنا: کمپنی اور ادارے کے ذمہ داروں کو چاہیے کہ اپنے ملازم کے ساتھ عزت و تکریم کا معاملہ کریں، کسی بھی قسم کی بے عزتی اور ہتک عزت سے گریز کریں۔ عزت نفس کو مجروح نہ کریں کیونکہ انسان ایک قابل احترام ذات ہے۔
3 کام کے دورانیے کی وضاحت: ملازم کے ساتھ ملازمت کا معاہدہ کرتے وقت اوقات کار کی وضاحت کردینا بھی ملازم کا حق ہے۔ اس کے کئی فوائد ہیں۔ ا ن میں سے ایک یہ ہے کہ ملازم سوچ سمجھ کر معاہدہ کو قبول کرے گا تو دلجمعی اور اطمینا ن سے کام کرے گا، دوسرا فائدہ یہ ہے کہ متعلقہ وقت میںکام کو پورا کرنے کی کوشش کرے گا۔ لیکن بعض مرتبہ اس کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ اوقات کی تحدید میں ٹال مٹول سے کام لیا جا تا ہے اور ملازمین کو دیر تک بیٹھنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بات کرنے پر ملازمت سے چھٹی کروانے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ یہ اچھا رویہ نہیں۔ ہاں اگر کبھی کبھار کچھ تاخیر ہوتی ہے تو ملازم کو بھی اس میں تعاون کرنا چاہیے ۔


عمدہ کام کرنے پر تحسین: ملازمین کے عمدہ کام کرنے یا غیر معمولی کام کرنے پر ان کی تحسین بھی کی جانی چاہیے تاکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی ہو اور دیگر ملازمین کو بڑھ چڑھ کر کام کرنے کا جذبہ پیداہوجو یقینا ادارے کے لیے نفع مندعمل ہے''

4 کام کے لیے مطلوب ماحول فراہم کرنا: ملازم کودوران ملازمت ایسا ماحول فراہم کیاجائے جو اس کے کام کی نوعیت کے حساب سے بھی مناسب ہو اور صحت بھی متاثرنہ ہو، مثلاً: کمروں کا ہوادار ہونا، روشنی کا معقول انتظام ہونا، تحقیق و ریسرچ کا کام ہوتو خاموشی کا ماحول وغیرہ وغیرہ، اس سے کارکردگی(Effeciency) کافی حدتک بڑھ جائے گی ۔
5 تنخواہ کا معیار: کمپنی / ادارہ چھوٹاہویابڑا اس میں کام کرنے والے ملازمین کایہ حق ہے کہ اسٹاف ممبران کی تنخواہیں قابلیت اور صلاحیت کی بنیاد پر مقرر کی جائیں اور ہرسال اس میں اضافے کی گنجائش بھی رکھنی چاہیے تاکہ ملازمین کی سالانہ حوصلہ افزائی ہو اور وہ لگن کے ساتھ کام کرسکیں ۔
6 عمدہ کام کرنے پر تحسین: ملازمین کے عمدہ کام کرنے یا غیر معمولی کام کرنے پر ان کی تحسین بھی کی جانی چاہیے تاکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی ہو اور دیگر ملازمین کو بڑھ چڑھ کر کام کرنے کا جذبہ پیداہوجو یقینا ادارے کے لیے نفع مندعمل ہے ۔جبکہ اس کے ساتھ ساتھ معمولی کوتاہیوں کو نظرانداز کرنے کا طرز اپنانا بھی Productivity بڑھانے کے لیے کافی حدتک مفید ثابت ہوسکتاہے۔ بڑھانے کے لیے کافی حدتک مفید ثابت ہوسکتاہے۔