٭۔۔۔۔۔۔ پروفیشنل معلومات کے ساتھ ساتھ اگر تاجر اسلامی ہدایات کا بھی خیال رکھے تو دن بھر کی تجارت عبادت بن جائے گی۔
٭۔۔۔۔۔۔ پروڈکٹ ایسی ہونی چاہیے جو کسٹمر کی بنیادی ضروریات کو پوراکرسکے
کاروبار چھوٹا ہو یا بڑا، کامیابی کے لیے مارکیٹنگ بہت ضروری ہے۔ مارکیٹنگ میں بنیادی توجہ خریداروں کا اطمینان اور چیز کی کوالٹی

ہے۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے استعمال ہونے والے طریقہ کار کو مارکیٹنگ کی زبان میں ''مارکیٹنگ مکس'' کہا جاتا ہے۔ مارکیٹنگ مکس 4 بنیادی اجزا پر مشتمل ہے، جس کو Four P's کہا جاتا ہے۔ مارکیٹنگ مکس میں ان 4 اجزا کواس طرح ملایا جاتا ہے کہ اس کے نتیجے میں ''پروڈکٹ'' ٹارگٹ مارکیٹ میں مطلوبہ نتائج حاصل کرسکے۔ 4 بنیادی اجزا یہ ہیں:
1پروڈکٹ
2 مقام (Place)
3 پروموشن
4 قیمت(Price)
'' کسٹمر'' مارکیٹنگ ٹولز میں نہیں آتا، اس لیے کہ کسٹمر مارکیٹنگ مکس کے تمام ٹولز کا ہدف ہوتا ہے۔ تمام مارکیٹنگ ٹولز کسٹمر کے اردگرد گھومتے ہیں۔ اسی لیے جدید مارکیٹنگ کا نظریہ ہے کہ کسٹمر بادشاہ ہوتا ہے۔ ذیل میں 4P's کا مختصر تعارف قارئین کی خدمت میں:
1 پروڈکٹ
اس میں اشیا(Goods)، خدمات (Services) دونوں شامل ہیں۔ پروڈکٹ ایسی ہونی چاہیے جو کسٹمر کی خاص بنیادی ضروریات کو پوراکرسکے۔ اس میں ٹارگٹ مارکیٹ کے لیے بہتر سے بہتر کا انتخاب کرنا چاہیے۔
پروڈکٹ کے بارے اسلامی ہدایات : پروفیشنل معلومات کے ساتھ ساتھ اگر تاجر اسلامی ہدایات کا بھی خیال رکھے تو دن بھر کی تجارت عبادت بن جائے گی۔ اس بارے دین اسلام نے بھی چند ہدایات دی ہیں، جو مختصر ذکر کی جاتی ہیں:
ء مبیع (پروڈکٹ ): پروڈکٹ کو شرعی زبان میں مبیع کہا جاتا ہے۔ پروڈکٹ، بیچنے والے کی ملکیت میں ہونی ضروری ہے۔ اسلام کے قانون تجارت کے مطابق ایسی چیز کی خرید و فروخت درست نہیں جو بیچنے والے کی ملکیت میں نہ ہو۔
ء مبیع مال متقوم: یعنی ایسی چیز یا مال، جس کی قیمت ہو۔ وہ پاک، حلال اور شرعاً قابل قبول ہو۔ لہٰذا مردار، خون اور شراب کو اسلامی تجارت میں مبیع (پروڈکٹ) نہیں کہا جا سکتا۔
ء مبیع کا وجود: یعنی ایسی چیز جو آپ کے پاس ہے ہی نہیں، اس کی خرید و فروخت سے اجتناب کرناچاہیے۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے دکاندار کے پاس چیز نہیں ہوتی، لیکن وہ گاہک سے ریٹ وغیرہ سب طے کر لیتا ہے۔ ء مبیع کی صفت او رمقدار: اس کا بیان بھی ضروری ہے، تاکہ کسی بھی قسم کے جھگڑے سے بچا جا سکے۔
2 مقام (Place)
اس سے مراد پروڈکٹ کا ٹارگٹ مارکیٹ میں دستیاب ہونا ہے۔ پروڈکٹ اگر کسٹمر کے مطلوبہ مقام پر دستیاب نہ ہو تو وہ پروڈکٹ بے کار ہے۔ چاہے وہ جتنی بھی اچھی بنی ہوئی ہو، وہ مارکیٹ شیئر حاصل کرنے میں ناکام رہے گی۔ ٹارگٹ مارکیٹ میں کسٹمر کی پروڈکٹ کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ڈسٹری بیوشن چینل کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈسٹری بیوشن چینل پروڈکٹ کو کارخانہ (Manufecturer) سے صارفین تک پہنچانے کی سیریز کا نام ہے۔ یہ چینل سسٹم بعض اوقات بہت مختصر ہوتا ہے اور براہ راست صانع سے صارف تک پہنچ جاتا ہے۔ ایسا عام طور پر خدمات (Services ) میں ہوتا ہے۔ بعض اوقات اصل صارف تک پروڈکٹ کے پہنچنے میں کئی واسطے، مثلاً: ہول سیلر، فرنچائزر اور ریٹیلرز وغیرہ ہوتے ہیں۔ اگرمارکیٹنگ منیجر کئی مختلف ٹارگٹ مارکیٹس رکھتاہے تو اسے ڈسٹری بیوشن چینل بھی مختلف استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ ڈسٹری بیوشن چینل کا یہ نظام بھی مقام Place) (کی منصوبہ بندی کے تحت آتا ہے۔
3 پروموشن
اس کا مطلب ہے ٹارگٹ کسٹمر تک اپنی پروڈکٹ کی معلومات، فوائد اور خصوصیات ارسال کرنا۔ پروموشن میں پرسنل سیلنگ، ایڈورٹائزنگ، سیل پروموشن وغیرہ ٹولز شامل ہیں۔ اب مارکیٹر، کسٹمر اور پروڈکٹ کوسامنے رکھتے ہوئے ان ٹولز کو انفرادی اور اجتماعی طور پر استعمال کرنے کی ترتیب بناتا ہے اورمطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرتاہے۔
4 قیمت(Price)
درست پروڈکٹ، مقام اور پروموشن کا تعین بھی درست قیمت کے تعین پر منحصرہے۔ اس سے مارکیٹنگ میںقیمت کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ قیمت(Price) کا تعین کرتے وقت 2 باتوں کو سامنے رکھا جاتا ہے: 1 ٹارگٹ مارکیٹ میں رائج مقابلہ(Competition) کی اقسام
2 پوری مارکیٹنگ مکس کے اخراجات
اس کے ساتھ ساتھ قیمت پر خریداروں کے تاثرات، قیمتوں میں رائج مارک اپ، ڈسکاؤنٹ اور دیگر سیل پروموشنل ٹولز کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے، کیونکہ اگر کسٹمر آپ کی مقرر کردہ قیمت سے مطمئن نہیں ہو گا تو آپ کی تمام کوششیں رائیگاں چلی جائیں گی اور پروڈکٹ مارکیٹ میں ناکام ہوجائے گی۔ مسلمان تاجر کے لیے ضروری ہے وہ تجارت کے متعلق اسلامی احکامات سیکھے۔ جدید رائج الوقت جائز طریقوں کی معلومات حاصل کرے، کیونکہ دین اسلام جدید رائج الوقت جائز وسائل پر حدود شرعی کے اندر رہتے ہوئے عمل کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس پلیٹ فارم سے ہمارامقصد قارئین تک دونوں طرح کی معلومات پہنچانا ہے۔ عمل آپ کے ذمہ، کیونکہ یہ آپ کی دینی، شرعی ذمہ داری ہے۔ زندگی کا بھروسہ نہیں۔ آگے بڑھیے، کامیاب ہوجائیے ۔۔۔۔۔۔ یہی ہماری دستک ہے۔