زکوۃ ایک مالی عبادت ہے۔ ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے۔ قرآن مجیدمیں اللہ جل جلالہ نے ا س کا تذکرہ82مقامات پر فرمایا ہے۔ دنیا کے لیے متعین طور پر نافع اور قابل عمل نظام ہے۔ فلاح انسانیت اور غریبوں کی کفایت، معاشرے کے محروم و مقہور طبقات کے لیے سہارا بننے کے لائق قابل تقلید نظام ہے۔ اس پر آنکھیں بند کر کے اس لیے اعتماد کیا جا سکتا ہے کہ یہ نظام رب کائنات کی طرف سے مسلمانوں کو عطاکیا گیا ہے۔  اللہ رب العزت تو ازل اور ابد تمام چیزوں کا علم رکھتے ہیں، اس لیے ان کی عطا کردہ چیز بھی معاشرے کے لیے مفید ہے۔

زکوۃ اور ٹیکس میں فرق:

دین بیزار لوگوں کی جانب سے اسلام کے بارے میں مختلف پروپیگنڈے ہوتے رہے ہیں اور بڑھ رہے ہیں۔ زکوۃ کے بارے میں ایک غلط نظریہ پایا جاتا ہے کہ زکوۃ ٹیکس ہے؟ حالانکہ زکوۃ مسلمانوں پر اللہ کی جانب سے لازم کردہ ایک عبادت ہے، زکوۃ ٹیکس نہیں ایک عبادت ہے، یہ فرق مندرجہ ذیل باتوں سے طے کیا جا سکتا ہے:


زکوۃ ایک مالی عبادت ہے۔ ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے۔ قرآن مجیدمیں اللہ جل جلالہ نے ا س کا تذکرہ82مقامات پر فرمایا ہے۔ دنیا کے لیے متعین طور پر نافع اور قابل عمل نظام ہے۔ فلاح انسانیت اور غریبوں کی کفایت، معاشرے کے محروم و مقہور طبقات کے لیے سہارا بننے کے لائق قابل تقلید نظام ہے۔

1ٹیکس ادا کرنے میں نیت کا کوئی دخل نہیں جبکہ زکوۃ بغیر نیت کے اد انہیں ہوتی ہے۔
2ٹیکس میں تملیک ضروری نہیں جبکہ زکوۃ میں فقیر کو مالک بنانا ضروری ہے۔
3ٹیکس کی ادائیگی پر ثواب کا وعدہ نہیں جبکہ زکوۃ کی ادائیگی پر اللہ کی طرف سے اجر وثواب ملتا ہے۔
4ٹیکس جبراً دیا جاتا ہے جبکہ زکوۃ مسلمان بخوشی ادا کرتے ہیں۔
5ٹیکس کی مقدار اتنی ہوتی ہے کہ تجوریاں بھر جائیں جبکہ زکوۃ عادلانہ طور پر کم مقدار میں لی جاتی ہے اور معاشرے کے غریب لوگوںکی امدادپر خرچ ہوتی ہے۔
6ٹیکس شہر میں بسنے والے مسلمان، کافر سب پر لگتا ہے جبکہ زکوۃ صرف مسلمانو ں پر لازم ہوتی ہے۔
زکوۃ اور مسئلہ غربت:
یہ بھی ایک سوال معاشرے میں گردش کرتا ہے کہ کیا زکوۃ غربت دور کر سکتی ہے؟ اصولی جواب تو ہاں میں ہے۔

لیکن اس کی کچھ تفصیل بھی سمجھ لیجیے:

1اسلام کا نظریہ ہے کہ ہر شخص محنت، مزدوری اور کاروبار یا کوئی اور ذریعہ معاش اختیار کر کے اپنے لیے وسائل معاش کا بند و بست کرے۔اسی کی ترغیب کے طور پر حدیث مبارکہ میں ہے:’’الکاسب حبیب اللہ‘‘ ہا تھ کی کمائی کھانے والا اللہ کا دوست ہوتا ہے۔اسلام نے غریبوں، یتیموں اور ناداروںکی کفالت، ان کے ساتھ مالی تعاون ،ان کی ضروریات کو پورا کرنے میں معاشرے کے دوسرے طبقات کو ان کا ہاتھ بٹانے کی بھی تعلیم دی ہے۔ حدیث میں ہے کہ ایک صاحب نے سرور کائنات صلی اللہ علیہ و سلم سے شکایت کی تھی کہ میرا بھائی عذر کی وجہ سے کما نہیں سکتااور اپنی ضروریات بھی پوری نہیں کر سکتا۔ ساری کمائی میں کرتا ہوں اور مجھے ان پر بھی خرچ کرنا پڑتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ شاید اللہ تمہیں ان کے نام سے رزق دیتا ہے۔اس سے اتنی بات توثابت ہوتی ہے کہ کسی کو گھر بٹھا کر کھلانااسلام کا مقصد نہیں ہے۔لیکن معاشرے کے وہ طبقات جواپنی ضروریات پوری نہیں کر پارہے ،اہل اسلام کو ان کا تعاون کرنے کا بھی حکم ہے۔ اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ اسلام افراد معاشرہ کو فعال بنانے کے لیے جہاں ضرورت ہوSupport کی بات کر تا ہے۔ لیکن گھر بٹھا کر کھلانا بھی نہیں چاہتا۔اب اگر ہم زکوۃ پر غور کریں تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ ’’تُؤْخذ مِنْ أَغْنِیَائِھِمْ وَ تُرَدُّ علیٰ فُقَرَائِھِمْ‘‘ اہل ثروت سے لے کر فقرا کو دی جائے گی۔ لیکن اسلام نے فقیر میں پھر اس شخص کو داخل کیا ہے جس کے اموال زکوۃ یا زائد ازضرورت سامان کی 612.35گرام چاندی کی مالیت سے بھی کم مقدار ہے۔ ان کو زکوۃ دی جائے گی، ظاہر ہے کہ اس مقدار سے ایک روپیہ بھی کسی کے پاس کم ہو تو زکوۃ کی امدا د(Add)اسے دی جا سکتی ہے۔الغرض ! ُتنگ دستی سے زندگی گزارنے والوں کو جس حد تک مالی تعاون کی ضرورت ہو تووہ کرنازکوۃ کا فلسفہ ہے۔مالیاتی نظام کو درست خطوط پر استوار کرنے کے لیے حکومتوں کو بھی نظام زکوۃ کو صحیح خطوط پر فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ SCSعرصہ تین سال سے عشرہ زکوۃ آگہی مہم کے عنوان پر پروگرامز اور سیمینارز کا انعقاد کرتا آ رہا ہے۔ ان میں خصوصیت سے ان موضوعات پر گفتگو کی جاتی ہے:
عشرہ زکوۃآگہی مہم:
1صنعت میں (manufcturing)زکوۃ
2خدمات(sevices)میں زکوۃ
3تجارت (trading)میں زکوۃ
4شیئرز میں زکوۃ
5فائنانشل انسٹرومنٹ(بونڈ، سرٹیفکٹیس وغیرہ)پر زکوۃ
7قرض (Debt)پر زکوۃ
ایسے پروگرام آپ اپنے وینیو پر بھی رکھوا سکتے ہیں، وفد SCSکے دفتر آ کر بھی زکوۃ کے احکام سیکھ سکتا ہے…آگے بڑھیے، اگر اس فرض کو سیکھنے میں کوتاہی ہے تو غفلت کو دور کیجیے۔SCSآپ کے ساتھ ہے۔ اس نمبر اور ای میل پر رابطہ کر سکتے ہیں۔