صلح کی اہمیت، تعارف
’’صلح‘‘ ایک شرعی اصطلاح ہے۔ جس کا دائرہ کار انسان کی معاملاتی زندگی کے گرد کھینچا گیا ہے۔ کاروباری زندگی میں ’’صلح ‘‘کی کیا اہمیت ہے؟ اس کا استعمال کہاں اور کیسے کیا جائے گا؟ یہ جاننے سے پہلے صلح کا اصطلاحی مطلب سمجھتے ہیں۔لفظی کا معنی ہے: ’’لوگوں کے درمیان نفرت ختم کرنا ۔‘‘اور فقہی اصطلاح میں :’’فریقین کی باہمی رضامندی سے کسی معاملہ میں جھگڑا ختم کرنے کو صلح کہتے ہیں۔‘‘

ارشاد باری تعالی ہے: اَلصُّلحُ خَیْرٌ …صلح بہترین چیز ہے۔‘‘ میاں بیوی کے درمیان اختلاف رونما ہو جائے تو اس آیت مبارکہ میں فریقین کو ترغیب دی گئی ہے کہ باہم مصالحت کی راہیں تلاش کریں۔ فوجداری معاملات میں صلح کے بارے میں ارشاد باری ہے: ’’فَمَنْ عَفٰی وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُہُ عَلَی اللّٰہ …جو شخص معاف کر دے اور مصالحت کرے تو اس کا بدلہ اللہ کے ذمے ہے۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قاضیوں کو ہدایت فرمائی تھی کہ فریقین کو پہلے مصالحت کی ہدایت کریں ، ایک دو بار ایسا کریں، اگر پھر بھی صلح ممکن نہ ہو تو عدالتی کارروائی کریں۔ اس ضمن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی جامع ہدایت یہ ہے : ’’اَلصُّلْحُ جَائِزٌبَیْنَ الْمُسْلِمِیْنَ اِلاَّ صُلْحاً اَحَلَّ حَرَاماً اَو حَرَّمَ حَلَالاً…صلح مسلمانوں کے درمیان جائز ہے ،سوائے اس صلح کے جو حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دے۔‘‘ اسی حد یث کی روشنی میں صلح کا وسیع مفہوم علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے یوں ذکر فرمایا ہے:’’مصالحت اگر اللہ کی رضا، فریقین کی آزادانہ رضامندی، مصالحت کنندہ کے علم و عدل، حوادث و وقائع سے آگاہی اور انصاف پسندی پر مبنی ہو تو جائز اور پسندیدہ امر ہے، اور اگر مصالحت حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنے کا موجب ہے یا طاقتور فریق کی خواہشات کی تکمیل اور کمزور پر ظلم کا باعث ہے تو ایسی صلح نا جائز اور مردود ہے۔‘‘
قرآن کریم کی ہدایات اور فقہائے کرام کی جانب سے ذکر کردہ اقسامِ مصالحت کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے ہر معاملہ خواہ وہ شخصی ہو یا معاشرتی، ملکی ہو یا بین الاقوامی، فوجداری ہو یا دیوانی… سب میں مصالحت اور صلح اختلاف کے خاتمے کا بہترین حل ہے۔SCS کا مقصد چونکہ تجارتی اور مالیاتی معاملات ہیں،اسی حوالے سے شریعت کا یہ اہم ترین اصول تاجربھائیوں سے شیئر کرتے ہیں۔
کاروباراور لین دین میں اختلاف کا ہو جانا لازمی امر ہے۔ آئے دن مارکیٹوں میں ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں کہ فلاں شخص فلاں کی رقم نہیں دیتا۔ فلاں کا مال جھگڑے کی وجہ سے فلاں کے پاس پھنسا ہوا ہے۔ اسی طرح کمپنیوں کے کمپنیوں سے معاملات میں تنازعات پائے جاتے ہیں۔ زیر نظر مضمون میں شریعت کی طرف سے تجویزہ کردہ صلح کی صورتیں اور اس کے شرعی احکام ذکر کیے جا رہے ہیں۔
مالیاتی امور میں صلح کی اقسام:


٭…معاملہ شخصی، معاشرتی، ملکی ہو یا بین الاقوامی، فوجداری ہو یا دیوانی، سب میں مصالحت اختلاف کے خاتمے کا بہترین حل ہے ٭…اگر خدانخواستہ کاروباری تنازعہ پیدا ہوجائے تو شرعی اصولوں کے تحت اس کے حل کے لیے سنجیدہ کوشش کیجیے ،جھگڑا ختم کیجیے

صلح، مدعی (دعوی کرنے والا)Plantiffاور مدعی علیہ (جس کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہے) کے درمیان ہو گی یا مدعی اور مصالحت کنندہ کے درمیان، ان میں ہر ایک کی تین قسمیں ہیں:
1 مدعا علیہ مدعی کے دعویٰ کو تسلیم کر کے صلح کرے
2 مدعی علیہ دعوی کا انکار کرنے کے باوجود صلح کرے
3 مدعی علیہ انکار و اقرار کے بغیر مصالحت کرے
پہلی قسم: اگر صلح مدعی اور مدعی علیہ کے درمیان ہے اور مدعی علیہ دعوی کو تسلیم کرتے ہوئے مصالحت کرتا ہے تو اس کی دو صورتیں ہیں:
1 دعوی کسی عین (Corporial property)سے متعلق ہو
2 دعوی قرض (Debt)سے متعلق ہو اگر دعوی عین(Corporial property)سے متعلق ہو تو صلح کی دو شکلیں بن سکتی ہیں:
1 دعویٰ میں متعین کردہ مقدارامیں کمی پر راضی نامہ کر لیا جائے۔ اس کو فقہی اصطلاح میں صلح حطیطہ (Mediation with reduction)کہا جاتا ہے۔
2 جس چیز کا دعوی کیا گیا ہے اس کا معاوضہ ادا کرنے پر راضی نامہ کر لیا جائے، اس کو صلح معاوضہ (Mediation with substitution) کا نام دیا جاتا ہے۔
اگر دعوی قرض سے متعلق ہو اور مدعی علیہ قرض کو تسلیم بھی کرتا ہو تو پھر راضی نامے کی دو صورتیں ہیں: پہلی یہ کہ واجب الاداء قرض کا کچھ حصہ فوری وصول کر لیا جائے اور بقیہ حصہ سے Debtorکو بری کر دیا جائے، یہ صلح جائز ہے۔ اس کی ایک دوسری صورت یہ بن سکتی ہے کسی پر قرض آئندہ کی تاریخ میں واجب الاداء ہو اور آج فوری ادائیگی کی صورت میں رقم ادا کرنے پر صلح کر لی تو یہ جائز نہیں، اس کو فقہ میں’’ ضَعْ وَ تَعَجَّلْ‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
دوسری قسم:
مدعیٰ علیہ کے انکار کے باجود راضی نامہ کر لیتا ہے، یعنی دو اشخاص کے درمیان مالی معاملات کا جھگڑا ہوا ہے اور جس کے خلاف دعویٰ آیا ہے، مثلاً: یہ کہ آپ نے میرے 1000روپے دینے ہیں، اب وہ شخص جانتا ہے کہ دعویٰ کرنے والا جھوٹا ہے اور اس کے پاس گواہ نہیں، لہذا عدالتی کارروائی میں میری قَسم پر فیصلہ ہو گا۔ یعنی مجھے اللہ کے نام کی قسم اٹھانی پڑے گی۔ اب وہ قسم سے بچنے کے لیے قسم کے بدلے میں صلح کر لیتا ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے ثابت ہے انہوں نے ایسے موقع پر قسم اٹھانے کے بجائے مال ادا کر دیا تھا۔ شریعت نے تنازعات کو ختم کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی بتایا ہے۔ واضح رہے کہ یہ صلح صرف اس وقت درست ہو گی جب فریقین میں سے کسی کو بھی اپنے بارے میں غلط ہونے کا علم نہ ہو۔ یعنی مدعی کو بھی بر حق ہونے کا یقین ہے اور مدعیٰ علیہ کی رائے میں اس کے ذمے مدعی کا کوئی حق نہیں۔ لیکن اگر ان میں کسی ایک کو بھی اپنے بر سر غلط ہونے کا علم ہوا تو اس کے حق میں صلح باطل ہو گی، کیونکہ اس طرح وہ ناجائز طور پر دوسرے کا مال کھا رہا ہو گا جو صراحتاً حرام ہے۔
تیسری قسم :
مدعی علیہ کی خاموشی پر مصالحت یعنی مدعی کے دعوی کے جواب میں مدعا علیہ نہ اقرار کرتا ہے نہ انکار کرتا ہے۔ فقہائے کرام کا اس بات پر تقریبا اتفاق ہے کہ دعویٰ کے جواب میں خاموشی انکار کے قائم مقام ہے۔ بالخصوص معاملات میں تواصل بھی یہی ہے کہ آدمی ایسی ذمہ داریوں سے فارغ ہو جن کے حصول کے لیے اس کو نالش کرنی پڑے، لہذا معاملات کے مسائل میں سکوت کو انکار کے مترادف سمجھا جائے گا۔ اس طرح انکار کے باوجود حنفیہ، مالکیہ اور حنابلہ کے نزدیک مصالحت درست ہے۔ اسی طرح سکوت پر بھی راضی نامہ کر لینا درست ہے۔ ان مندرجات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ شریعت مطہرہ کے پاس کاروباری معاملات میں وقوع پذیر ہونے والے تنازعات کا حل موجود ہے ۔ صلح اس حل کی صورتوں میں سب سے پہلے نمبر پر آتی ہے اور اس کو اختیار کرنے کی ہدایت بھی ہے۔ لہذا آپ کے ہاں بھی اگر خدانخواستہ کاروباری تنازعہ پیدا ہوجائے تو شرعی رہنما اصولوں کے تحت اس کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ کوشش کیجیے اور جھگڑا ختم کیجیے۔ ان شاء اللہ! خیر، بھلائی اور حدیث کے مطابق جنت کے بیچوں بیچ گھر کے حق دار قرار پائیں گے۔SCSاسی پیغام کے ساتھ آپ کی معاونت میں کوشاں ہے۔