’’وکالت‘‘ کالفظ سنتے ہی ہمارے دماغ میں فورا عدالت ،کورٹ، کچہری ،مقدمہ اور ان میں پیش ہونے والے کالے رنگ کے کوٹ میں ملبوس انسان کا تصور آجاتاہے۔ اگر ہم تھوڑا سا غور کریں تو یہ لفظ روزمرہ زندگی میں، کاروباری اورتجارتی معاملات،سماجی ومعاشرتی معاملات میں بڑی حدتک دخیل نظرآتاہے ،مثلا: نکاح میں ہم وکیلوں کا تذکرہ سنتے ہیں ،اشیا کی خریدوفروخت میںہم گھر ،دکان ،فیکٹری اورکمپنی کے ملازم کو اپنا نائب بناتے ہیں۔

کمپنیوں میںخرید کے لیے Purchaser) )اورفروخت کے لیے سیلز مین (Salesman )رکھے جاتے ہیں ۔نیزادائیگی اوروصولیوں کے لیے بھی کمپنیز کے وکلا کام کرتے ہیں۔ ہم کسی بھی قابل اعتما دشخص یا ادارے کو اپنی زکوٰۃ مستحقین تک پہنچانے کا وکیل بناتے ہیں۔کاروباری دنیا میں شرکت اورمضاربت میں بھی وکالت کا مفہوم پایاجاتاہے۔اسی طرح دلا ل،ایجنٹس خواہ وہ کمیشن ایجنٹ ہوں یا امپورٹ ایکسپورٹ کے معاملات میں کام کرنے والا کلیئرنگ ایجنٹ …یہ سب کے سب بھی وکیل ہی ہوتے ہیں ۔الغرض! وکالت کی قدم قدم پر ضرورت پڑتی ہے ۔وکالت کے اس ہمہ گیر اور سیع استعمال کے پیش نظر تجارتی معاملات میں پیش آمدہ وکالت کی صورتوں کے احکام کو عام فہم اندازمیں پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔آغاز وکیل بالشراء (Purchaser ) کے احکام سے کریں گے۔ لیکن اس سے پہلے وکالت کی بنیادی باتیں ذکرکرنا مناسب معلوم ہوتاہے ۔
تعارف:


٭…ایک شخص یا کمپنی یا ادارے کا اپناکام دوسرے کے سپرد کرنا’’وکالت بالشرائ‘‘ یاPurchasing کہلاتا ہے ٭… پرچیزنگ ڈیپارٹمنٹ کے بھائیوں سے گزارش ہے پروفیشنل معلوما ت کے ساتھ ساتھ مکمل شرعی رہنمائی سے بھی آراستہ ہوں

ایک شخص یا کمپنی یا ادارے کا اپناکام دوسرے کے سپرد کرنا اوردوسرے کو اپنانائب اورقائم مقام بنانا۔ قرآن کریم ،سنت رسول ،اجماع اور قیاس… چاروں شرعی دلائل سے وکالت کا ثبوت ملتاہے ۔قرآن پاک میں ہے: فابعثوااحدکم بورقکم ہذہ الی المدینۃ (سورہ کہف)اصحاب کہف نے اپنے ساتھی کو شہر کھانا لانے کے لیے بھیجتے وقت یہ الفاظ کہے:’’اب بھیجو اپنے میں سے ایک کو اپناروپیہ دے کر شہر کی طرف۔‘‘ حدیث میں ہے: ’’حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیناردے کر قربانی کا جانور خریدنے کے لیے بھیجا۔ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وکیل کی حیثیت سے ایک دینارسے جانور خریدا۔‘‘ ان نصوص سے وکالت کا ثبوت ملتاہے۔
وکیل اورقاصد میں فرق :
ایک شخص دوسرے کی بات تیسرے تک پہنچائے ،اس بات پہنچانے والے کو قاصد اورپیغام رساں کہا جاتا ہے۔ اس پیغام پہنچانے والے کا ان دونوں اشخاص کے معاملے میں کوئی دخل نہیں ہوتا۔مثال کے طور پر ایک شخص نے دوسرے کو شوروم کے مالک کے پاس بھیجاکہ تم اسے یہ کہو کہ فلاں شخص آپ سے گاڑی خریدنا چاہتاہے۔دلال نے کہا : ہاں !اور یہ گاڑی لے جاؤ ۔اس مثال میں درمیانی آدمی صرف پیغام پہنچانے والا ہے۔ عقد کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ۔
اب ذیل میں دو فرق ذکر کیے جاتے ہیں :
٭قاصد سفیر محض ہوتاہے، عقد سے اس کا کوئی تعلق نہیںہوتا،جبکہ وکیل خود عقد کرنے والاہوتاہے۔ ٭وکیل کواگر موکل (وکیل بنانے والا)معزول کردے تو جب تک اس کو علم نہ ہو، اس وقت تک معزول نہیں ہو گا، جبکہ قاصد کے لیے علم ہونا ضروری نہیں ۔
وکالت بالشرائ( Purchasing )کی اقسام:
اس کی دوقسمیں ہیں:
1 وکالت عامہ
2 وکالت خاصہ
وکالت عامہ :خرید میں یہ ہے کہ موکل (وکیل بنانے والا)وکیل کو کہے کہ تمہاری جورائے ہو، جو تم مناسب سمجھو،جوتم چاہو… میرے لیے خرید لو۔ایسے میں جو چیز بھی وکیل موکل کی رقم سے خریدے گا، وہ موکل کے لیے ہو گی۔
وکالت خاصہ :جس میں کوئی خاص کام وکیل کے سپرد کیاگیاہو،مثلا: موکل وکیل سے یہ کہہ دے کہ میرے لیے فلاں کمپنی اور ماڈل کی گاڑی خرید لو۔وکالت خاصہ میں مندرجہ ذیل باتوں کی وضاحت ضروری ہوگی :
1 جنس بیان کردی جائے ،مثلا: سوزوکی کار میرے لیے خرید لو۔
2 اگر مختلف اقسام ہونے کی وجہ سے جنس کا بیان کافی نہ ہوتو پھر نو ع بھی بیان کرنا ضروری ہوگی ،مثلا: سوزوکی کارآلٹوخرید لو۔
3 وزنی اور نا پ کر دی جانے والی اشیا میں مقدارکا بیان کرناضروری ہوگا۔
4 اگر چیز کی کئی کوالٹیاں ہیں تو کوالٹی بھی بیان کردینی چاہیے۔اگر بیان نہ کی ہوتو وکیل اگرخریدے تو موکل کے حال (Standard) کے مطابق خریدے۔
وکالت بالشراء کے چند ضروری احکام:
gوکیل (Purchaser )اگر موکل کی بتائی ہوئی جنس کے خلاف کسی اور جنس کی خریداری کرے، چاہے اس میں مالک کے لیے فائدہ ہو تب بھی یہ خریداری مالک کے لیے نہیںہوگی ،مثلا: مالک نے سوزوکی وین خریدنے کا کہااور وکیل نے pick up loader خرید لیاتو خریداری وکیل کے لیے اپنی ذاتی ہوگی ۔
gجس شے کی خریداری کا وکیل مقررکیا،وکیل نے وہ شے آدھی خرید ی تو پھر دوصورتیں ہوں گی: اگروہ چیز ایسی ہوکہ اس کو تقسیم کرنا نقصان کا باعث ہو،مثلا: گاڑی کا نصف خریداتو یہ خرید موکل کی نہیں، بلکہ وکیل کی ذاتی ہو گی۔ اگر چیز ایسی ہوکہ تقسیم کرنے سے اس میں نقصان یا عیب پیدا نہیں ہوتا، جیسے: ناپ تول کی جانے والی چیزیں، مثلا: گندم وغیرہ تو خریداری موکل کے لیے سمجھی جائے گی ۔
gکسی معین چیز کی خریداری کا وکیل بنایاتووکیل وہ شے اپنے لیے نہیں خرید سکتا،اگر خریدی تب بھی یہ موکل کے لیے ہوگی ،البتہ چند صورتیں اس اصول سے خارج ہیں :
1 موکل کی بیان کر دہ قیمت سے زائد پر خریدے
2 وکیل نے وہ شے غبن فاحش کے ساتھ خرید ی ہو۔غبن فاحش سے مراد یہ ہے کہ عام مارکیٹ سے بہت زیادہ مہنگے داموں خریداہو۔
3 موکل کی موجودگی میں وکیل نے وضاحت کردی کہ وہ اس شے کو اپنے لیے خرید رہا ہے، تاہم واضح رہے کہ ایسی صورت میں موکل کا مال استعمال کرنے کی بھی اجازت نہ ہوگی۔
4 وکالت بالشراء میں وکیل (Purchaser )اپنا ذاتی یا اپنے نابالغ بچے کا مال نہیں خرید سکتاہے، خواہ اس میں موکل کا فائدہ ہو ،کیونکہ اس میں ایک عقد کے دونوں اطراف کا نمائندہ بن جائے گا اور یہ شرعادرست نہیں ۔
5 وکیل (Purchaser )کو اگر یہ نہ بتایاگیاہوکہ وہ مطلوبہ شے کس عوض کے بدلہ میں خریدے توچونکہ عام رواج نقدی سے خریدنے کا ہے، لہذا اسی سے خریدنا ہوگا۔البتہ اگر وکیل نے مطلوبہ مال غیرنقد کے عوض خریدا تو دوصورتیں ہوں گی: پہلی یہ کہ وکیل نے مطلوبہ شے اپنی کوئی چیز غیرنقد میں سے دے کرخریدی ، دوسری یہ کہ موکل کی چیز دے کر خریدی۔ پہلی صورت میں خریداری موکل کے حق میںنافذ نہیں ہوگی، جبکہ دوسری صورت میں موکل کی اجازت پر موقوف ہوگی۔ اگر وہ اجازت دے گا تو اسی کے لیے ہوجائے گی، ورنہ خریداری کالعدم ہو جائے گی۔ موجودہ زمانے میں ہم وکالت کے مختلف معاملات خلاف شریعت کرنے کے مرتکب ہوتے ہیں۔طوالت کی غرض سے ان کو زیر نظر مضمون میں ذکرکرنامشکل ہے ۔بزنس کی دنیامیں Purchasing Dept میںکام کرنے والے بھائیوں سے بھی گزارش ہے کہ جیسے آپ اپنی فیلڈ کے بارے میں فنی اورپروفیشنل معلوما ت کے حصول کے لیے اضافی سرٹیفکیٹس کرتے ہیں ۔اس سے بھی کم قیمت بلکہ مفت میں SCSآپ کو شرعی تربیت دینے کے لیے مارکیٹ میں موجود ہے۔ اب بھی اگر شرعی ہدایات کو عملی زندگی میںنہ لایا جائے تو پھر بہت بڑی غفلت ہوگی ،لہذاوقت کو غنیمت سمجھ کر اسے قیمتی بنائیے ۔