اس محاورے کے لیے عربی میں’’تطفیف‘‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ قرآن میں اس نام سے پوری ایک سورت ہے۔ قرآ ن کریم میں اللہ جل جلالہ نے تطفیف کو جرم عظیم قرار دیا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ حکم ایک جگہ بیان کرنے پر اکتفانہیں کیا گیا، بلکہ قرآن حکیم میں بار بار مختلف انداز اور اسلوب سے بیان کیا گیا ہے۔

 

چند آیات کریمہ ملاحظہ ہوں:
٭ اور انصاف کے ساتھ پورا پورا ناپو اور تولو۔ (الانعام:152 ) ٭ پس پورا پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کی چیزوںمیں کمی نہ کیا کرو۔ (الاعراف :58) ٭ اور ناپ تول انصاف کے ساتھ پورا پورا رکھو۔(ہود:75 )
’’تطفیف‘‘ کا معنی ہے: ناپ تول میں کمی کرنا۔ یعنی اپنا حق لینا ہو تو پورا پورا لینا اور جب دوسرے کا حق دینا ہو تو اس میں کمی کرنا، ڈنڈی مارنا۔ بظاہر تو اس کا تعلق تجارت سے ہے کہ کم تولنا اور کم ناپنا لیکن اگر اس آیت کی تفسیر کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرآنی حکم صر ف تجارت تک محدود نہیں، بلکہ ہر وہ معاملہ جس میں کسی کا کوئی حق دوسرے کے ذمے ہو اور وہ اسے پورے طور پر ادانہ کرے اور اس میں ڈنڈی مارے، یہ تطفیف میں شامل ہے۔ اس کی مندرجہ ذیل دو وجوہ ہیں:
1 امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میںفرماتے ہیں: ’’قیامت کے دن سخت عذاب ان لوگوں کو بھی ہوگا جو اپنی نماز، زکوٰۃ اور روزے اور دوسری عبادات میں کمی کرتے ہیں۔‘‘
2 جس طرح سے تاجر رقم لے کر سامان دیتاہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص ملازمت یا مزدوری کرتاہے تو وہ اپنا وقت اور محنت دے کر پیسے لیتا ہے۔ تو یہ بھی تاجر ہوا۔ پس جس طرح سے تاجر ڈنڈی مارکر حرام رقم کماتا ہے اور وہ تطفیف کی وعید میں شامل ہے بالکل اسی طرح کا حکم اس ملازم اور مزدور کا ہے جو تنخواہ پوری لیتا ہے لیکن ڈیوٹی پوری نہیں دیتا۔


٭…اسلامی اخلاقیات کو اپنا کر مغرب، دنیاوی ترقی میں مسلمانوں سے آگے بڑھ رہا ہے
٭…سورۃ الاَنعام میں ارشاد خداوندی ہے:اور انصاف کے ساتھ پورا پورا ناپو اور تولو

یوں تو معاشر ے میں جب نظر کی جائے بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اگر ہم میں ہر شخص اپنے اور معاشرے پر غور کرے تو تطفیف کی بے شمار صورتیں رائج نظر آتی ہیں۔ ہم شریعہ اینڈ بزنس کے صفحات کے ذریعے سے کوشش کریں گے کہ ہر شعبہ معاملات خواہ تجارت ہو، ملازمت ہو یا مزدوری ہو، ان تما م شعبہ جات میں اپنے مشاہدات کے تحت تطفیف میں آنے والی صورتیں قارئین تک پہنچائیں۔ فی الحال زیر نظر تحریر میں ملازمین سے متعلق جو عام معاشرے میں صورتیں پائی جاتی ہیں ان کو ذکر کیاجارہاہے۔ مقصد دوسروں پر تنقید اور اپنے گریبان میں جھانک کر نہ دیکھنا نہیں، بلکہ اخلاص اور صدق نیت سے ان باتوں کا ذکر کرناہے، تاکہ اللہ ہم سب کو ان خامیوں کو دورکر کے ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دینے کی توفیق دے۔

آئیے! صورتیں ملاحظہ کرتے ہیں:
1 ڈیوٹی کے اوقات میں دوستوں یا گھر والوں سے لمبی لمبی فون کالز کرنا
2 اخبار پڑھنا،SMS اور ای میل کے جوابات دینا اور سیاسی ومذہبی تبصروں میں وقت خرچ کرنا
3 تاخیر سے ڈیوٹی پر جانا لیکن حاضری شیٹ میں وقت پورا لکھنا
4 دفتر سے چھٹی پر ہونا، لیکن حاضری شیٹ میں Attandance لگوانا۔ اور اس کام میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاو ن کرنا۔ یادرکھیے! یہ دہرا گناہ ہے۔ ایک جرم کا اور دوسرا گناہ میں تعاون کا۔
5 آج کا کام کل پر بلاوجہ ٹالنا۔ دفاتر میں یہ فیشن بن گیا ہے کہ اگر آج کام پورا کر دیا تو مزید مل جائے گا۔ اس لیے بلا وجہ خوامخواہ کل پر لے جانا۔
6 10 منٹ کے کام کو 50 میں کرنا   7 اوقات ملازمت میں تسبیح، تلاوت یا لمبی لمبی نماز پڑھنا۔ واضح رہے کہ پنج وقتہ نمازیں اعتدال کے ساتھ فرائض اور سنتیں ادا کرنا تطفیف میں شامل نہیں ہو گا۔
واضح ہو کہ ملازمت کے لیے دیا گیا وقت امانت ہوتا ہے۔ تطفیف کی صورت میں انسان امانت میں خیانت کا مرتکب ہو رہا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ہم یورپی معاشرے پر غور کرتے ہیں تو وہاں ان اخلاقیات (Ethics) پرزبردست عمل کیا جاتا ہے۔ جبھی تو غیر مہذب معاشرے آج دنیا میں مہذب معاشرے کہلاتے ہیں۔ یورپ کی مثال پیش کرنے سے مقصد یہ بتانا نہیں کہ یہ ان کے معاشرے کے اصول ہیں، بلکہ یہ بتانا ہے کہ یہ ہماری باتیں ہیں جن کو وہ اپنا کر کامیاب اور دنیاوی ترقی میں مسلمانوں سے آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ ہم اور آ پ معاشرے کی اکائیاں مل کر اس پر سوچیں…یہی ہماری دستک ہے۔
(اس بارے میں SCS کی جانب سے ایک رسالہ (Booklet )’’مالک اورملازم کے حقوق وفرائض‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ مطالعے میں رکھیں اور مزید صورتوں کے شرعی حل کے لیے ہمارے مفتیان کرام کے پینل سے رابطہ میں رہیں۔ جو بلا معاوضہ آپ کی خدمت اور رہنمائی کے لیے تیارہیں۔)