حدیث مبارکہ میں سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادگرامی ہے : ’’سچاتاجر (یعنی تاجروں میں سے سچائی کاراستہ اختیارکرنے والا)سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گا۔‘‘ (کنز العمال :11/4)
سبحان اللہ! کتنا اونچااوربلندمقام ہے ۔لیکن خیال رہے کہ سچائی کے ساتھ تجارت اوردکان داری بظاہر کہنے میں بہت آسان ہے ۔

درحقیقت یہ بہت مشکل کام ہے ۔اس لیے کہ اس کاتعلق مال سے ہے اورمال کو قرآن مجید میں فتنہ کہا گیا ہے ۔ ارشاد باری ہے: ’’انمااموالکم واولادکم فتنۃ… بلاشبہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو تمہارے لیے آزمائش ہیں۔ (التغابن:15)‘‘ اور ہر وہ چیز جس میں دوباتیں پائی جائیں پہلی یہ کہ اس میں مالی فائدہ ہواوردوسرے یہ کہ نفس کی لذت اورمزاہو، بہت مشکل ہے کہ انسان جھوٹ میں مبتلا نہ ہو۔تجارت میں یہ دونوں باتیں پائی جاتی ہیں کہ اس میں مالی فائدہ بھی ہے اور وہ لذت کے حصول کا ذریعہ بھی ۔ایسے میں انسان خوف خدااورشریعت کی رعایت میں مال چھوڑدے، آسان نہیں۔اسی مقام پر تاجر مال نکالنے کے لیے کچھ نہ کچھ خلاف واقعہ بات بول دیتاہے۔مثلا یہ کہہ دیتاہے کہ یہ مال کہیں اورنہیں ملے گا،ہم تم سے نفع نہیں لے رہے۔ حالانکہ وہ مال دوسری جگہ مل رہاہوتاہے اور دکان دار نفع بھی یقینا لے رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح نقلی مال کو اصلی کہہ کر،یا اصلی کے ساتھ نقلی دونمبرچیز کی ملاوٹ کر کے،یا قیمت میں غلط بیانی کرکے،خلاف واقعہ مال کی تعریف کرکے گاہک کو ابھارے، وغیرہ۔ اس قسم کی بہت سی صورتوں میں کاروبار کے دوران انسان دانستہ نادانستہ طور پر غیرمعیاری اخلاقیات کا ارتکاب کرجاتاہے۔


حدیث مبارکہ میں سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادگرامی ہے : ’’سچاتاجر (یعنی تاجروں میں سے سچائی کاراستہ اختیارکرنے والا)سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گا۔‘‘ (کنز العمال :11/4)

مسلمان تاجر کس قدرخوش نصیب ہے کہ اسے آقائے نامدارصلی اللہ علیہ وسلم نے اخلاقیات میں سے ایک خوبی، سچائی کے اختیارکرنے پر جنت میںداخلے کی خوشخبری سنائی ہے اوروہ بھی سب سے پہلے۔اس سے معلوم ہواکہ سچائی کے ساتھ تجارت کرنا متقی ہونے کی بھی علامت ہے ۔قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:’’ جنت متقیوں کے لیے ہے۔‘‘ اس لیے چاہے ظاہری طورپر مال کا گھاٹانظرآرہاہو،نقصان ہوتا نظر آ رہا ہو،مال جمع نہ ہوتانظرآرہاہولیکن سچائی اورراست گوئی کادامن ہاتھ سے نہ جانے دو۔ایک حدیث مبارکہ میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’الصدق ینجی والکذب یھلک …سچ نجات دیتاہے اورجھوٹ ہلاک کرتاہے۔‘‘
سچائی اورراست گوئی کاراستہ اختیارکرنے میں تاجر کا کاروباری نفع بھی ہے۔ مارکیٹ میں اس کی ساکھ بنتی ہے ۔جس تاجر کے بارے میں سچ بولنے والا مشہور ہوجائے لوگ اس کے لیے چلتاپھرتااشتہاربن جاتے ہیں۔ ایک دفعہ جو آدمی وہاں سے خریداری کرکے جاتاہے وہ اپنے دوست احباب اورعزیز واقارب کو بتاتاہے کہ فلاں دکان سے خریدنا! یہاں صحیح چیز ملتی ہے، جو کہتے ہیں وہی چیز دیتے ہیں ۔
مغر ب نے بزنس کی دنیاکے لیے جواخلاقی اصول وضع کیے ہیں۔اس میں انہوںنے ایمانداری اورسچائی کوبہت نمایاں مقام دیاہے۔وہ کسٹمر کو جو معیاربتاتے ہیں،چیز بھی اسی معیارکی ہوتی ہے۔ان کی کامیابی کی وجوہات میں سے ایک وجہ سچائی کواختیارکرنابھی ہے۔مغرب کا تذکرہ کرنے کا مقصدیہ نہیں کہ صرف وہی سچائی کادامن تھامے ہوئے ہیں۔مسلمان یکسر اس سے عاری ہیں۔ایسابالکل نہیں۔بلکہ اس مذاکرے کامقصدان تاجروں کی حوصلہ افزائی کرناہے ۔جو پہلے سے ہی سچائی کادامن تھامے ہوئے ہیں ۔سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کایہ فرمان ان کے لیے بشارت ہے ۔دوسری جانب اگر اس وصف( Quality) کو اختیار کرنے میں جہاں مسلمانوں کی مارکیٹوں میں تساہل برتاجارہاہے۔جہاں کہیں بھی اس کاارتکاب کیاجارہاہے۔اس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ تاجر برادری کو مل کر اس کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے ۔مارکیٹ کے ماحول میں تبدیلی لانے کے لیے تاجرتنظیموں کے نمائندگان کو بھی اپنا کرداراداکرناچاہیے ۔وہ دن دورنہیں جب ہماری مارکیٹیں اور بازار شریعت کے نورسے منورہوں گے ۔