گزشتہ ہفتہ مجھے میرے ایک استاد کا فون آیا کہ آپ سے ایک بات پوچھنی ہے۔ ہاں کے جوا ب کے ساتھ انہوں نے ایک آئیڈیا میرے سامنے رکھا اور اس پر میر ی رائے طلب کی۔ بنیادی طورپر میرے استاد ایک کمپنی چلاتے ہیںاور ان کو مارکیٹ میں آئے روز کلائنٹ سے معاہدات (Agreements ) کرنے کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔ اور مارکیٹ میں SCS بھی فریقین (Parties ) کی ضروریات

کے مطابق ماڈل ایگریمنٹ بلامعاوضہ تیار کر کے فراہم کرنے کی خدمت ایک عرصہ (4 سال ) سے سر انجام دے رہا ہے۔
مارکیٹ میں یہ رواج ہے کہ فریقین (Parties ) جب کوئی معاہدہ (Agreement ) کرتے ہیں تو اس معاہدہ میں ایک شق یہ بھی ہوتی ہے کہ فریقین (Parties ) میں اگر کسی مسئلہ میں اختلاف ہو گیا اور باہمی حل نہ ہو سکا تو Abritrator کے پاس لے جا کر اس سے فیصلہ کروایا جائے گا۔ Arbitrator بنیادی طور پر وکیل یا ریٹائرڈ جج ہوتا ہے ۔ حکومت کی طرف سے اس کے پاس رجسٹریشن ہوتی ہے۔ جس کے تحت وہ مارکیٹ میں پائے جانے والے کاروباری تنازعات کو حل کرنے کا مجاز قرار پاتا ہے۔ اور اس کا فیصلہ عدالت عالیہ میں بھی قابل قبول ہوتا ہے۔ ہاں اگر بالفرض یہاں مسئلہ حل نہ ہو سکے تو پھر عدالت عالیہ سے رجوع کیا جاتا ہے۔ ابتدائی طور پر اسی سے ہی کاروباری تنازعہ حل کروایا جاتا ہے۔


٭… Arbitrator کے ساتھ ساتھ تنازع کے شرعی حل کے لیے ایک مستند مفتی یا مستند ادارے سے رابطہ کرنا چاہیے ٭…کیوں نہ ہم سب مل کر بازاروں کو شریعت کے نورسے منور کرنے میں اپنا حصہ شامل کر لیں، فانی زندگی کا کیا بھروسہ! ٭

ان کا یہ کہنا تھا کہ ہم ایک کلائنٹ سے معاہدہ کرنے جا رہے ہیں۔ جس میں ہم نے ان سے مطالبہ کیا ہے کہ کاروباری تنازعات کے حل کے لیے جہاں قانونی تقاضوں کے مطابق فیصلہ کرنے کے لیے Arbitrator سے رجوع کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ تنازعہ کے شرعی حل کے لیے ایک مستند مفتی یا مستند ادارے سے رجوع کیا جائے گا، جس طرح معاہدہ کے وقت Arbitrator طے کر کے لکھ لیا جاتا ہے۔ اسی طرح مستند مفتی یا مستند جامعہ کا نام بھی طے کر لیا جائے تاکہ معاملہ شرعی اور قانونی دونوں جہتوں سے حل ہو جائے۔ تاکہ اس سے دین اور شریعت پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے برکت بھی ہو اور تنازعات یا تو بہت کم پیدا ہوں گے اور اگر ہوئے تو شریعت کی برکت سے حل میں بہت آسانی ہو گی۔
مجھے ان کا یہ خیال اچھا لگا، اگرچہ مارکیٹ میں یہ کام کسی حد تک ہو بھی رہا ہے اور تاجر بھائی شرعی رہنمائی لینے کی کوشش بھی کرتے ہیں، البتہ ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ لیکن زیر نظر تحریر سے مقصد یہ ہے کہ مارکیٹ میں اس کام کو باقاعدہ رواج دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے 2طرح کی کوششیں مفید ثابت ہوسکتی ہیں:
1 فریقین (Parties ) اس بات کا التزام کریں کہ کاروباری معاہدہ بناتے وقت دونوں شقیں معاہدہ کا حصہ بنائی جائیں تاکہ فیصلہ Arbitrator اور مستند مفتی یا مستند ادارہ کی رہنمائی میں کیا جائے گا۔
2 فریقین کے علاوہ قارئین کو اپنے ذمہ یہ کام لینے کی ضرورت ہے کہ اس خیال کو زیادہ سے زیادہ تاجروں تک پہنچایا جائے تاکہ وہ اس پر عمل کرسکیں۔اور یہ بات ہر قاری کم از کم 3 تاجروں کو بتائے۔ اور اس اہم دینی فریضہ کو سر انجام دینے میں اپنا کردار ادا کرے۔ ایک سوال رہ جاتا ہے کہ مارکیٹ کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کیا کوئی ایسا ادارہ یا مفتی صاحب ہیں جو بروقت اس کا م میں تعاون کرنے کے لیے تیار ہوں اور تاجر بروقت اپنے مسائل ان کے سامنے پیش کر کے رائے لے سکیں؟ جی ہاں! پریشان نہ ہو SCS (دارالافتاء برائے مالیاتی وتجارتی امور) شہر کے وسط میں اسی کام کے لیے کھولا گیا ہے، اور یہاں مستند مفتیان کرام کا پینل اپنا کلی اور جزوی وقت اسی کام کے لیے وقف کیے ہوئے ہے۔ آپ کام کو آگے بڑھائیے۔SCS آپ کے شانہ بشانہ حاضر ہے۔ اس خیال پرعمل کرنے اور آگے پھیلانے کی صورت میں اللہ جل جلالہ کی جانب سے ثواب ملنے میں کوئی دورائے
ہیں ہی نہیں۔ پھر کیوں نہ ہم سب مل کر بازاروں کو شریعت کے نورسے منور کرنے میں اپنا حصہ شامل کر لیں، فانی زندگی کا کیا بھروسہ ہے۔ یقینا یہ خیال آپ کو بھی پسند آیا ہو گا، اس سلسلہ میں کوئی مفید رائے اور مشورہ آپ کے پاس ہو تو ہمیں اس ای میل This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it. پر بھیج دیں۔ مشاورت کے بعد ہم آپ کی آواز کو بھی قارئین تک پہنچانے میں بخل نہ کریں گے۔ لیکن SCS کی اس دستک کو ضرور سوچیے گا۔ بازاروں میں دینی احکام کا احیاء ان شاء اللہ ہمارا مقدر بنے گا۔