ایک دوست نے مجھے فون کیا۔ کہا کہ میں نے شریعہ اینڈبزنس میں شائع ہونے والی آپ کی تحریریں پڑھیں۔ ایک سوال یہ پوچھنا چاہتا ہوں۔ آپ نے اپنی تحریروں میں تاجروں کو شرعی بنیادوں پر کاروبار کے بہت سے دنیاوی فوائدبتائے ہیں۔ آپ شریعت پر عمل کریں گے تو آپ کے نفع میں اضافہ ہو گا۔ کلائنٹ کا حجم بڑھے گا۔ کسٹمر سے آپ کا اچھا تعلق (Relation) قائم ہو گا، وغیرہ۔ آپ کو چاہیے تھا آپ تاجروں کو آخرت اور جنت کے

متعلق بتاتے اور فانی زندگی سے آگے بڑھ کر کامیابی اور کامرانی والی زندگی میں حاصل ہونے والی خوشحالی پر بحث کرتے۔ یہ بھی بتاتے کہ تاجر کو آخرت میں کیا ملے گا؟ دنیاوی ترقی کے فارمولے تو بزنس کی تعلیم دینے والے سارے ہی ادارے بتا رہے ہیں۔ پیسہ اور کاروبار کا حجم کیسے بڑھ جائے یہ دوسرے لوگ بھی بتا رہے ہیں۔ آپ کا کچھ مختلف دینی رخ ہونا چاہیے تھا۔ اس ساری گفتگو کو سننے کے بعد میں نے اس کی حوصلہ افزائی کی کہ آپ جیسے دوستوں کا شکر گزار ہوں کہ میری تحریر پر نظر رکھتے ہیں اور نقد وتبصرہ بھی کرتے ہیں۔ جہاں تک جواب کا تعلق ہے تو جواب سے پہلے چند گزارشات پیش خدمت ہیں۔ جواب کو سمجھنے میں معاون ہوں گی۔ ان شاء اللہ۔
٭ دین اسلام کاروبار کو بڑھانے، ترقی دینے کے لیے آیا ہے نہ کہ چلتے کاروبار کو خدانخواستہ بند کرنے اور روکنے کے لیے۔
٭ انسان حریص ہے اس کو مال و دولت جس ذریعے سے زیادہ ملے اس کی طرف راغب ہوتا ہے۔ اور اس ذریعے کو لینے اور اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔


٭…دین اسلام کاروبار کو ترقی دینے کے لیے آیا ہے نہ کہ چلتے کاروبار کو خدانخواستہ بند کرنے کے لیے ٭… ایسا تاجر بننے کی ضرورت ہے جسے اس کی تجارت اللہ کی یاد سے غافل نہ کرے ٭

٭ جن ہدایات کو ہم نے غیروں کی سمجھ کر بزنس کی تعلیم میں پڑھنا شروع کیا ہے، اس کو سراسر غیروں کی سمجھنا غلطی ہے۔ اس بات کو ایک مثال سے عرض کرتا ہوں۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ و سلم نے جب ریاست مدینہ کا اعلان فرمایا تو اور بہت سارے اقدامات کے ساتھ ساتھ ایک اقدام یہ بھی کیا کہ مدینہ میں قیام مارکیٹ کے لیے جگہ کی تعیین کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی، جس کا کام سروے (Survey) کر کے مناسب جگہ کی نشاہدہی کرنا تھا۔ اسی کو آج کل جدید بزنس کی تعلیم میں لوکیشن پلاننگ (Location Planning) کہا جاتا ہے۔ اور اس پر مستقل کورسز اور ورکشاپس کروائی جاتی ہیں۔ آخر میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ و سلم نے خود ایک ایسی جگہ کا انتخاب فرمایا جہاں سے ایک علاقے سے دوسرے علاقے کی طرف جانے والے تجارتی قافلے ہو کر گزرتے تھے۔ ظاہر ہے یہ جگہ اس لیے منتخب ہوئی کہ قافلے جب وہاں سے گزریں، پڑاؤ کریں گے۔ یہاں کی مارکیٹ سے ضروریات زندگی کی خرید و فروخت بھی کریں گے۔ اس طرح مدینہ کی معیشت بہتر ہو گی۔ یقینا اس اقدام سے
سرور کائنات صلی اللہ علیہ و سلم کا مقصد مدینہ کے تاجروں کو دنیا کی طرف راغب کرنے کا قطعا نہ تھا۔ ان گزارشات کے بعد اب آپ کے سوال کی طرف آتے ہیں۔ SCS کا مقصد کاروبار کی شرعی ہدایات کے ساتھ ساتھ اس کی فنی ہدایات اور نتائج بھی بتانا ہے تاکہ گزارش نمبر 2 کے مطابق تاجروں کو دنیا کے جھنجٹ سے اپنے آپ کو نکال کر شرعی ہدایات پر لانا آسا ن ہو جائے کیونکہ ایسا کرنے میں ایک تیر سے دو شکار ہو رہے ہیں۔ اسی طرح مارکیٹ میں رائج اس نظریے کی حوصلہ شکنی بھی مقصود ہے کہ دین اسلام جدید رائج الوقت فنی چیزوں کے خلاف نہیں ہے، مثلًا: تشہیر کو ہی لے لیجیے۔ اس میں استعمال ہونے والے طریقے ہوں گے، وغیرہ۔ یہ جدید چیزیں ہیں لیکن اسلام ان کے استعمال سے منع نہیں کرتا۔ ہاں! اسلام ان فنی چیزوں سے ضرور مصلحتاً (انسانیت کی بھلائی) روکتا ہے۔ جو اصول شرع سے متصادم ہوں۔ اور ان کی تعداد بہت کم ہے۔ اسلا م ہر فنی چیز کا مخالف نہیں ہے۔
اسی طرح میری تحریروں میں یہ پیغام بھی ہوتا ہے کہ تاجر کو صرف تاجر نہیں بلکہ ایسا تاجر بننے کی ضرورت ہے کہ جسے اس کی تجارت اللہ کی یاد سے غافل نہ کرے اور شاید تجارت کی شرعی اور فنی ہدایات (جو خلاف شرع نہ ہوں) کے اجتماع کے بغیر یہ دونوں باتیں ممکن نہیں۔ کیونکہ حکم شرع پر عمل کر کے مسلمان ہونے کا حق بھی ادا ہو جاتا ہے۔ اور جائز فنی ہدایات پر عمل کر کے کاروبار میں ظاہری ترقی بھی حاصل ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس میں مقصودی نیت تو اللہ کی رضا کی ہی ہو گی، اور نتائج تو مل ہی جائیں گے۔ اور نتائج کاذکر حکم شرعی پر لانے (Motivation) کے لیے ہوتا ہے۔ امیدہے کہ آپ کے سوال کا جواب ہو گیا ہو گا۔