اسلامی برانڈنگ کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے: ’’ وہ برانڈنگ جو شریعہ اقدار سے موافق ہو، تاکہ مسلم صارفین کو اپیل کرے۔‘‘ برانڈنگ اور مارکیٹنگ کی دنیا میں جلد ہی نئے رنگ و روپ کے ساتھ ایک بھرپور ایسی کوشش کو سامنے لانے پر انتھک محنت کی جارہی ہے، جو ہو گی تو مغرب کی، لیکن اس میں اسلامی روح کی آمیزش ہو گی۔ یوں وہ اسلامی دنیا میں بڑھتے ہوئے دینی رجحانات کے کسٹمر کو ان کی مطلوبہ برانڈ فراہم کر کے مارکیٹ پر قبضہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

اسلامک برانڈنگ نسبتاً ایک نیا تصور ہے اور دنیا بھرمیں یہ نیا میدان اپنی ابتدا سے ہی عوامی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ عالمی اسلامی منڈی کسی بھی ملک، مسلم یا غیر مسلم کے لیے شاندار مواقع پیش کرتی ہے۔
اعداد وشمار سے ایک واضح تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے کہ دنیا کی آبادی کا 23 فیصد حصہ مسلم دنیا پر مشتمل ہے۔ تجرباتی طور پر1.9 بلین کے بازار حلال غذا کے مشتاق ہیں۔ اس 1.9 بلین کا 43 فیصد حصہ25 سال کی عمر سے کم کا ہے۔ یہ اعداد و شمار دیکھ کر بزنس کی دنیا میں کام کرنے والے بڑے لوگوں کے منہ میں پانی بھر آتا ہے۔


٭…اسلامک برانڈنگ اور مارکیٹنگ سے مرادوہ مصنوعات، جو مسلم منڈیوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کا ہدف رکھتی ہوں ٭…مسلمان وہ اہم ترین بازاری اکائی ہیں، جن کا اب تک نہ مطالعہ کیا گیا ہے اور نہ سمجھا گیا ہے ٭

حلال تجارتی منڈی تن تنہا 2.1 ٹریلین امریکی ڈالر سالانہ کی حیرت انگیز مالیت حاصل کر رہی ہے۔ یہ منڈی مسلمانوں کی عالمی آبادی میں اضافے کے ساتھ سالانہ 500 بلین امریکی ڈالر کی شرح سے اضافہ درج کررہی ہے۔ خدمات کے حوالے سے غور کریں تو دنیا بھر کے اسلامی بینکوں اور مالیاتی اداروں کے اثاثہ جات سال 2016 ء تک 1.8 ٹریلین امریکی ڈالر پہنچنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ 1.9 بلین کی مسلم صارفین منڈی یقینی طور پر اگلا اہم ترین (اور بہت حد تک خالی)عالمی میدان ہے۔ جیسا کہ چین و ہندوستان حالیہ برسوں میں عالمی تجارتی سرگرمیوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اسی طرح ایک خاموش لیکن شاندار کاروباری موقع آج عالمی مسلم صارفین منڈی کی صورت میں دستیاب ہے جو بہت حد تک خالی پڑی ہے۔موجودہ دور میں مسلم صارفین دینی اقدار کی جانب بڑھتے ہوئے رجحانات نے ایک پرکشش مارکیٹ اکائی کے طور پر اپنی اہمیت میں بہت اضافہ کیا ہے۔
اسلامی برانڈ نگ کیوں؟
1.9 بلین پر مشتمل مسلمان صارفین کی منڈی جو شاید ہی پوری طرح استعمال کی گئی ہے۔ بازاریوں کے لیے شاندار امکانات کی حامل ہے۔ لیکن اسی صورت میں جب ان کے اقدار کو مکمل طور پر سمجھا جائے۔ مارکیٹنگ کے نقطہ نظر کے مطابق یہ ہمیشہ بہتر مانا جاتا رہا ہے کہ صارفین کو وہ تمام چیزیں دی جائیں جو وہ چاہتے ہوںانہیں کسٹمر Wants and Needs کہا جاتا ہے۔ مسلمان وہ اہم ترین بازاری اکائی ہیں جن کا اب تک نہ مطالعہ کیا گیا ہے اور نہ سمجھا گیا ہے۔ حالیہ برسوں میں عالمی مارکیٹوں نے اس پر کام شروع کیا ہے۔ عالمی مارکیٹوں کے پاس مغربی برانڈ میں مارکیٹنگ اور برانڈنگ کی مہارت تو ہے ہی سہی، لیکن ان میں اکثر اوقات مسلم بازاروں میں کامیابی کے ساتھ نفوذ کرنے کے لیے درکار ثقافتی بیداری اور سماجی معلومات کا فقدان پایا جاتا ہے۔ انہیں مقامی مارکیٹ، ریسرچ اداروں اور ایجنسیوں کے ساتھ مل کر خوب محنت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ اس کے برعکس مسلم ممالک کی کمپنیاں مسلم بازاروں کے لیے برانڈنگ مواقع کی کثرت رکھتی ہیں،جن کا دائرہ مصنوعات، خدمات، مشروبات وغیرہ تک وسیع ہے۔ ان کے لیے مثبت پہلو یہ ہے کہ انہیں مسلمان صارفین کے مطالبات سے بہترین واقفیت ہوتی ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ان کے پاس اس کام کو اچھی طرح انجام دینے کے لیے مطلوبہ برانڈنگ و مارکیٹنگ معلومات اور مہارت نہیں ہے۔
آج دنیامیں جب اسلامک برانڈنگ اور مارکیٹنگ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے تو اس سے مراد محض وہ مصنوعات نہیں ہوتیں جو مسلم ممالک میں تیار کی جاتی ہیں، بلکہ اس کا اطلاق ان تمام پر ہوتا ہے جو مسلم منڈیوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کا ہدف رکھتی ہوں۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کہ متعدد برانڈ جو اس وقت مسلم دنیا کے صارفین کی ضرورت پوری کررہے ہیں، ان میں سے بھی اکثر کا تعلق مغربی کمپنیوں سے ہے۔ مسلم دنیاکے 57 ممالک جو دنیاکے مختلف خطوں میں بستے ہیں، اسلام (آفاقی ہدایات کے ذریعے) ان کی معمول کی زندگی کو باہم مربوط رکھتا ہے اور ان کی تصرفاتی عادتوں پر ایمان کی مرکزیت کے ذریعے اثر انداز ہوتا ہے۔ مسلمانوں کا عقیدہ ان کی زندگی میں اسلام کی اہمیت کے حوالے سے خود بھی بہت سادہ ہے۔ دوسری جانب اس آبادی کو اپیل کرنے کے لیے برانڈوں کو (اسلامی برانڈ نگ کے نظریے کو) مذہبی اقدار سے ہم آہنگ کردینے میں دینی اقدار کی کما حقہ معلومات بہت حد تک ہیں۔ مغربی بازاری قوتوں کے اس طرف خوب متوجہ ہونے سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مسلم دنیا اقتصادی طور پرکتنے بہترین ادوار سے گذر رہی ہے۔ ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ مسلم تاجروں کو چاہیے ان چیلنجوں پر دونوں اطراف (دینی اورفنی) سے قابو پانے کی کوشش کریں۔ مغربی برانڈ پہلے ہی پوری قوت سے آگے بڑھ رہے ہیں اور ملٹی نیشنل کمپنیاں بلاشبہ مارکیٹ شیئر حاصل کرتی رہیں گی، لیکن سوچیے آج جس محنت میں یہ ملٹی نیشنل اور مغربی برانڈز کے لوگ لگے ہوئے ہیں۔ یہی حال رہاتو وہ اس نئی (دینی رجحانات کی بیداری کی ) لہر میں مارکیٹ میں غلبہ حاصل کرنے میں پھرکامیاب ہوجائیں گے۔مسلم دنیاکے تاجروں کو اس بارے میںسرجوڑ کربیٹھنے اور بہت سنجیدہ شرعی اقدار سے ہم آہنگ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ جس کے نتیجے میں امید کی جاسکتی ہے کہ برانڈ ڈیولپمنٹ کی اگلی لہر عالمی اسلامی منڈی سے ہی نمودار ہوگی۔اس دستک کے ساتھ SCS آپ کی خدمت کے لیے دیدہ دل فرش راہ کیے اپنی پوری توانائیوں کے ساتھ حاضرہے۔ آپ کی طرف سے قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔