شراکت داری کا کاروبار آج کل بڑی ہی اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے لوگ بڑے بڑے کاروبار وں میں قدم رکھ رہے ہیں۔حالانکہ مثل مشہور ہے کہ سانجھے کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں پھوٹتی ہے،لیکن موجود ہ ماحول میں یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ کارپوریٹ سیکٹرکا کاروبار شراکت داری کی ہی وجہ سے پھل پھول رہا ہے۔عرف عام میں یوں تو شراکت داری کے کاروبار کی بہت زیادہ پذیرائی تو نہیں کی جاتی ہے

، لیکن موجودہ تجارتی ماحول اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ بغیر شراکت داری کے جولوگ کام کر رہے ہیں وہ بہت زیادہ منافع حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔دنیامیں جن ممالک کو اپنے ہاں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے داخلے کے حوالے سے تحفظات ہیں، ان کا کہنا بھی یہی ہے کہ چونکہ کارپوریٹ کمپنیاں جیسے وال مارٹ وغیرہ
اپنی کثیر سرمایہ کاری کے ساتھ آئے گا تو ہمارے چھوٹے تاجر اس کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے اور ہماری عام تابرادری اس سے متاثر ہوگی۔دراصل کارپوریٹ کمپنیاں کثیر سرمایہ کاری کے ساتھ وہ تمام مصنوعات سستے داموں بیچیں گی جو ہمارے عوام چھوٹی سرمایہ کاری کے ذریعے بیچا کرتی ہیں، لہذا اس خطرے کے پیش نظر اب اس بات کی ضرورت محسوس کی جانے لگی ہے کہ مشترکہ تجارتی ماحول کو فروغ دیا جائے اور کئی حضرات اپنی اپنی چھوٹی چھوٹی سرمایہ کاری کر کے کسی بڑے فرم کی بنیاد ڈالیں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کا جواب دیں۔ دراصل مشترکہ بزنس کے نہ صرف تجارتی فائدے ہیں بلکہ سیاسی طور پر بھی اس سے ایک ایسے معاشرے کی تعمیر میں مدد ملتی ہے جو کثیر جہتی اور کثیر ثقافتی ہو۔ یہاں اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مسلمانوں کے بنیادی خمیر میں تجارت رچی بسی ہے، عرب و ہند کے مابین تعلقات میں سب سے پہلے تجارت نے ہی کلیدی کردار ادا کیا تھااور آج بھی تجارت ہی دونوں کو قریب رکھے ہوئے ہے۔اسی طرح اگر یہ کہا جائے کہ ہندوستان میں اسلام کے فروغ میں تجارتی روابط نے اہم کردار ادا کیا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔
اس وقت ہندوستان میں بہت ساری مسلمان برادریاں مشترکہ کاروبار کر رہی ہیں ااور وہ بہت زیادہ پھل پھول رہی ہیں ،ان میں گجرات کی مسلم برادریاں سرفہرست ہیں ،پاکستان میں کچھ برادریاں ایساکررہی ہیں ۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے چند ایک اصحاب کو چھوڑ کر اس بارے میں معاشرے کی سطح پر کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہ آ رہی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے مسلمانوں کا سرمایہ بھی غیروں کے ہاتھوں میں جارہاہے ۔
اس پوری گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ مشترکہ سرمایہ کاری اب دنیا بالخصوص مسلم دنیا کی ضرورت بن گئی ہے۔تجارت ہماری خمیر میں رہی ہے اور ہمارے اسلاف نے تجارت کے ذریعے ہی اپنے پیغام کو عام کیا ہے۔اس وقت جبکہ پوری دنیا میں لوٹ مچی ہوئی ہے اور بڑا سرمایہ کار چھوٹے تاجروں کو دباتا جارہا ہے۔ مالداربڑے سرمایہ دار بنتے جارہے ہیں جبکہ غریب غربت کی انتہا کو پہنچتا جا رہا ہے توچھوٹے تاجر سسکیاں لے رہے ہیں۔کسان اپنی زندگی سے ہاتھ دھونے پر مجبور ہے،اس کی محنت کا اسے جائز حق نہیں مل رہا ہے اور بڑے ساہوکار کسان کی محنت پر اپنی تجوریاں تو بھر رہے ہیں لیکن محنت کشوں کا جائز حق نہیں دے رہے ہیں۔جب معاملات اس حد تک پیچیدہ ہوں تو اصحاب خیر کی ذمہ داریوں کا بڑھ جانا فطری ہے۔ہونا تو یہ چاہیے کہ مسلمانوں کا وہ طبقہ جو صاحب ثروت ہے اپنی تجارت میں ان لوگوں کو بھی شامل کرے جو پوری ایمانداری کے ساتھ شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہوں جبکہ ایسے افراد کی ذہنی و فکری رہنمائی کرے جو تجارت کا گُر جاننا چاہتے ہوں۔
دراصل کامیاب تجارت مکمل ایمانداری کی متقاضی ہے۔ جن لوگوں نے بھی محنت و جانفشانی کے ساتھ آج بڑے مقام کو حاصل کیا ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے لوگوں کا اعتماد ہی جیتنے کی کوشش کی ہے۔ہماری نئی نسل یہ سمجھتی ہے کہ شارٹ کٹ کاراستہ اختیار کر کے مالدار بنا جا سکتا ہے لہذا بسا اوقات مفروضہ شارٹ کٹ نہ صرف اس کی زندگی اجیرن کر دیتی ہے بلکہ سماج و معاشرے میں بھی اس کی ذلت و خواری کا باعث بن جاتی ہے۔ لہذا ہمارے بڑوں کو یہ سوچنا چاہئے کہ آخر ہم کس طرح اپنے بچوں کی تربیت کریں کہ وہ نہ صرف لانگ ٹرم پلاننگ کر کے آگے بڑھیں بلکہ پوری ایمانداری اور دیانت داری کے ساتھ ایسا سازگار ماحول بنائیں کہ ہر آدمی اس کی عظمت کے لیے دعا کرے اور نہ صرف دعا کرے بلکہ اگر ممکن ہو تو مذکورہ نوجوان کے ساتھ شرکت دار بن کر کاروبار کی خواہش رکھے اور عملی طور پر اس کا مظاہرہ کرے ۔یقیناًجب یہ ماحول ہم اپنے ارد گرد تیار کر لیں گے تو نہ صرف اس کے دور رس اثرات سے مستفید ہوں گے بلکہ آئندہ آنے والی نسلیں بھی ہماری بہتری کے لیے دعا گو ہوں گی۔کاش! ہم مشترکہ سرمایہ کاری کی وکالت پوری ایمانداری و دیانت داری کے ساتھ کرتے؟یہی ہماری دستک ہے۔