تجارت میں برکت ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارت کی ہے۔ اس لیے یہ سنت بھی ہے ۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: اللہ نے رزق کے دس حصے کیے ہیں اور اکیلے نو حصے تجارت میں ہیں۔لہٰذا مسلمانوں کو تجارت کی طرف راغب ہو نا چاہیے۔ جس طرح ہر کام کے اصول ہوتے ہیں، اسی طرح تجارت کے بھی کچھ اصول و ضوابط ہیں جن پر عمل کرکے ہی کامیابی مل سکتی ہے۔آج سے صدیوں پہلے صحابہ کرام نے اسلامی اصولوں کے تحت تجارت شروع کی تو لوگ ان کی ایمانداری اور خوش اخلاقی سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرنے لگے ۔

ایک چینی کہاوت ہے:’’ جو شخص خوش اخلاق نہیں ہے، اسے دکان نہیں کھولنی چاہیے۔‘‘ہمارا تو یہ حال ہے کہ اگر ہمارا کاروبار نہیں چل رہا ہے تو برکت کے لیے قرآن خوانی اور آیت کریمہ کا ورد کر وائیں گے۔اور اگر کاروبار چلنے لگ گیا تو گاہکوں سے خاص طور پر چھوٹے گاہکوں سے بے حد بے رخی یا پھر انتہائی بد تمیزی سے پیش آئیں گے۔تجارت شروع کرنے اور کامیابی سے جاری رکھنے کے لیے کچھ اصول ذکر کیے جارہے ہیں انہیں اچھی طرح یاد رکھیں:


٭…اللہ نے رزق کے دس حصے کیے ہیں اور اکیلے نو حصے تجارت میں ہیں ٭…چینی کہاوت ہے:جو شخص خوش اخلاق نہیں ہے، اسے دکان نہیں کھولنی چاہیے ٭

 

 

  • قرض لے کر کاروبار ہر گز شروع نہ کریں، بلکہ پہلے کچھ بچت کریں پھر پونجی لگائیں۔صرف قرض سے کاروبارکا آغاز کامیاب تجربہ نہیں ہے۔ 
  • تجارت کے لیے سود پر ہر گز پیسہ نہ لیں، کیوں کہ سود میں برکت نہیں، وبال ہے۔ سود اللہ اور اس کے رسول کے خلاف اعلان جنگ ہے۔
  • ساری جمع پونجی نہ لگادیں کیوں کہ کاروبار جمنے اور اس کو فروغ پانے میں کچھ وقت تو لگتا ہی ہے بلکہ کئی بار سالوں لگ جاتے ہیں، تب تک اپنے گھریلو خرچ کے لیے رقم آپ کے پاس ہونی چاہیے۔ 
  • کاروبار چاہے کچھ بھی کریں، اس کا تجربہ ہونا بہت ضروری ہے۔ اس کے لیے کسی کارخانے یا دکان میں ملازمت کریں یا کوئی اورذریعہ اختیارکریں۔ اس سے آپ کو کام کی چھوٹی موٹی چھپی ہوئی اہم چیزیں معلوم ہوں گی۔ہمارے بہت سے بھائی خلیجی ممالک میں زندگی بھر کما کر رقم جمع کرتے ہیں مگر بغیر کسی تجربے کے کوئی بھی کاروبار شروع کر دیتے اور نتیجتاً اپنی ساری رقم ڈبو بیٹھتے ہیں۔
  • کسی کی دیکھا دیکھی یا دوسروں کے کہنے میں آکر کوئی کاروبار شروع نہ کریں۔تجارت اسی چیز کی کریں جس کا آپ کو تجربہ ہواور اس کی طرف طبیعت راغب ہو۔ 
  • کوئی بھی کاروبار کریں، ہمیشہ چھوٹے پیمانے پر شروع کریں۔ پھر بتدریج اسے ترقی دینے کی کوشش کریں۔
  • اپنے کارخانے اور دکان کے چھوٹے سے چھوٹے کام تک خودبھی انجام دینے کی کوشش کریں خواہ اس کے لیے ملازم ہی کیوں نہ موجود ہو ،تاکہ کبھی ان کی اتفاقیہ غیر موجودگی میں آپ کو پریشانی نہ ہو۔ 
  • پرانے ملازمین کی قدر کریں اور ان کے سکھ دکھ میں بنفس نفیس شریک ہوں۔اس سے آپ کو ان کے تجربوں سے زیادہ دنوں تک فائدہ ہوتا رہے گا۔ 
  • بالخصوص چھوٹے گاہکوں سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں ،اگر کوئی گاہک سامان نہ بھی خریدے تو بھی اپنی دکان میں آنے کے لیے اس کا شکریہ ادا کریں ۔اگر جگہ ہو تو پانی پلانے کا بھی انتظام رکھیں ۔گاہکوں کے ساتھ آنے والے چھوٹے بچوں کو چاکلیٹ ٹافیاں دیں ۔یہ چھوٹی چھوٹی باتیں لوگوں کا دل جیتنے اور ان کو قریب لانے کا ذریعہ بنتی ہیں ۔  
  •  سامان میں اگر واقعی عیب ہو تو بہانے نہ بنائیں بلکہ تبدیل کرکے دیں۔ ٭اپنے کام میں کچھ نہ کچھ دوسروں کے مقابلے انفرادیت لائیں ،ندرت پیدا کریں۔ جیسے: آپ درزی ہیں تو گاہک کے بنا کہے ہی کپڑوں میں ذرا اچھا بٹن لگا دیں۔چائے کا اسٹال چلاتے ہیں تو چائے میں الائچی اور ادرک ڈال دیں ۔کھانے کا ہوٹل ہے تو کھانے کے ساتھ کوئی اچھی سی چٹنی ہی بناکر پیش کردیں ۔بہت ہی معمولی خرچ کرکے بھی آپ اپنی انفرادی پہچان قائم کر سکتے ہیں۔
  • پیکنگ سے زیادہ کوالٹی پر دھیان دیں۔
  • اپنے ہم پیشہ لوگوں سے دوستانہ تعلقات بنائیں ،ان سے رابطے میں رہیں۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ ہم پیشہ تاجر سے رقابت اور حسد رکھتے ہیں جو کہ نہایت نقصان دہ ہے۔ 
  • روزانہ اخبارات کا مطالعہ کریں، کاروباری حالات پر نظر رکھیں۔ 
  • اپنی قابلیت سے زیادہ بڑھ چڑھ کر دعویٰ اور وعدہ نہ کریں ،طے شدہ وقت سے پہلے، متوقع کوالٹی سے بہتر اور مقررہ لاگت سے کم میں پورا کیاجانے والا کام گاہک کے اطمینان اور آپ کی کامیابی کا سبب بنتا ہے۔ 
  • کاروبار خالص اسلامی اصولوں پر کریں اور اپنی دنیا سمیت آخرت کو بھی بہتر بنانے کا سامان کریں۔زکٰوۃ بالکل صحیح حساب لگاکر ادا کریں اور اپنے کاروبار کی حفاظت صدقہ کے ذریعے کریں ۔قسم کھاکر مال بیچنے سے مال تو بک جاتا ہے مگر برکت ختم ہو جاتی ہے ۔اسی ’’دستک‘‘ کے ساتھ کاروبارکو اسلامی اصولوں کے مطابق چلانے کے لیے ادارہ SCS اپنی خدمات پیش کرتاہے۔