گذشتہ ہفتے ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں جانا ہوا۔ اشیا خریدنے کے بعد کیشئر کے پاس ادائیگی کے لیے کھڑا ہوا تھا تو سامنے لگے ایک بورڈ پر نظر پڑی جس پر لکھا ہوا تھا: ’’خریدا ہوا سامان ہرگز واپس نہیں ہو گا۔‘‘ اس طرح کے بورڈ تو کئی جگہ نظر آتے ہیں، آج مجھے یکایک خیال آیا اور میں نے کیشئر سے کہا: بہت سخت اصول لکھ کر لگایا ہوا ہے۔ میرے خیال میں اس میں کچھ نرمی ہونی چاہیے۔

ساتھ ہی ان کو سرور کائنات صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد عالی شان بھی سنایا۔ جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ قیامت کے دن گاہک سے سامان واپس لینے والے دکاندار کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بشارت سنائی ہے۔ یعنی قیامت کے دن اللہ کی جانب سے معافی کی خوشخبری ہے۔

انہوں نے ذراسی خاموشی کے بعد کہا: صاحب! آپ کی بات درست ہے، ہم آقا کے فرمان پر عمل نہ کریں تو اور کس کی بات مانیں گے۔ یہی تو ایک مسلمان کی سعادت اور دنیا و آخرت کی کامرانی کا سبب ہے اور ساتھ ہی عرض کیا کہ اس میں کسٹمر کی جانب سے بھی ہمیں بہت سارے مسائل کا سامنا ہے۔ جن کی وجہ سے ہمیں اس طرح سخت تعبیرات اختیار کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے چند ایک وجوہ درج ذیل ہیں:


٭… گاہک اور دکانداردونوں کو خرید کردہ چیز کی واپسی میں ایک دوسرے کے تعاون کی ضرورت ہے ٭…اس آوازکو عوام الناس تک پہنچا کر اس ماحول کو قائم کرنے میں اپناحصہ شامل کریں ٭


1 گاہک چیز خراب کر کے لاتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ تم کو واپس کرنی چاہیے کیونکہ مسلمان ہونے کے ناطے یہ آپ کی دینی ذمہ داری ہے۔

2 خراب چیز کی صورت میں اگر رقم کم کر کے چیز واپس کی جائے تو ناراض ہوتا ہے اور پوری رقم کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے۔

3 اکثر تو ایسے بھی ہیں ہم نے ان سے کہا کہ اس آئٹم کی کوئی گارنٹی نہیں، بس یہاں سے چیک کر کے لے جاؤ، بعد میں ہم ذمہ دار نہیں۔ چنانچہ اس کو چیک کروا کے دیں گے اور ٹھیک دو دن بعد وہ چیز واپس لا کر کہتا ہے کہ یہ تو گھر میں جا کر چلی ہی نہیں۔ یوں اس پر بحث و مباحثہ شروع کردیتا ہے۔ اس طرح کی اور بھی بے شمار باتیں ہوتی ہیں جو کسٹمر آکر کرتا ہے۔

میں نے عرض کیا: یہ بات تو ٹھیک ہے لیکن کیا اگر کسٹمر کی واقعی ضرورت ہو اور چیز بھی آپ کے مطلوبہ معیار کے بالکل عین مطابق ہو اور اس میں ایسی کوئی تبدیلی نہ ہو جو قیمت میں کمی یا کسی بھی طرح کی پریشانی کا باعث بنتی ہو تو کیا ایسی صورت میں آپ بخوشی واپس کر لیتے ہیں۔

جواب ملا: پھر تو سب کو ایک ہی انداز سے Treat کیا جاتا ہے اور اس کا کوئی فرق نہیں کیا جاتا، بس! یہی ہے کہ واپس نہیں ہو گی۔ میں نے کہا: میرا خیال یہ ہے کہ فریقین (گاہک اور دکاندار) کو اس مسئلے میں ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔ اس طرح مل جل کر گاڑی کے دو پہیوں کی طرح تجارت میں اس کلچر کو فروغ دینے کی کوشش کی جانی چاہیے۔

میں نے ان سے مزید کہا: ہم اپنے میگزین شریعہ اینڈ بزنس کے پلیٹ فارم سے اس آواز کو وقتا فوقتا اٹھاتے رہتے ہیں تاکہ یاد دہانی کا ماحول قائم رہے اور آگے بڑھنے میں سہولت ہو۔ میں آپ کے جذبے کی بھی قدر کرتا ہوں اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایک متوازن فضا قائم کی جائے جس میں دکاندار کو بھی نقصان نہ ہو اور کسٹمر کو بھی فائدہ ہو جائے۔

قارئین کرام! اگر آپ اس رائے سے متفق ہیں اور اس کی ضرورت سمجھتے ہیں تو ہم بذریعہ شریعہ اینڈ بزنس اپنی ’’دستک‘‘ پہنچا رہے ہیں، آپ معاشرے کی اکائی ہونے کے ناطے اس آوازکو عوام الناس تک پہنچا کر اس ماحول کو مثالی نمونہ بنانے میں اپناحصہ شامل کریں۔ اس بارے میں کسی موڑ پر شرعی رہنمائی کی ضرورت ہو تو آپSCS سے رابطہ کر سکتے ہیں۔