اللہ رب العزت کا فرمان ہے: ’’اے رسولو! پاکیزہ نفیس چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو، بلاشبہ میں تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہوں۔‘‘ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ پاک نے اپنے تمام انبیاء اور پیغمبروں کو اپنے اپنے وقت میں دو ہدایتیں دی ہیں:
1 حلال وپاکیزہ کھانا کھاؤ
2    نیک وصالح عمل کرو

علمائے کرام نے ان دونوں حکموں کو ایک ساتھ ذکر کرنے کی حکمت یہ بیان فرمائی ہے کہ حلال غذا کا عملِ صالح میں بڑا دخل ہوتا ہے۔ جب انسان کی غذا حلال و پاکیزہ ہوتی ہے تو اسے نیک اعمال کی توفیق خود بخود ہونے لگتی ہے۔ اگر غذا حرام ہو تو نیک کاموں کا ارادہ کرنے کے باوجود بھی اسے اس میں بڑی مشکلات پیش آتی ہیں اور وہ نیک کاموں سے دور ہی رہتا ہے۔

یہی وجہ ہے حلال آمدنی وکمائی کے لیے محنت و کوشش کو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض قرار دیا۔ آج ہمارے معاشرے کا بگاڑ و فساد جو دن بدن بڑھتا ہی جا رہا ہے اور اصلاح و درستی کی تمام کوششیں بے سود ثابت ہو رہی ہیں۔ اس کی جہاں بہت ساری وجوہ ہیں، اہم ترین وجہ یہ ہے کہ ہم حلال آمدنی و حلال کمائی کی طرف اُتنی توجہ نہیں دے رہے ہیں جتنی دینی چاہیے۔ ذیل میں چند ایسی تجارتوں کی نشاندہی کی جارہی جن کو چھوڑنا حدیث بالا کے فوائد کے حصول میں معاون ہو سکتا ہے:

موجودہ دور میں زمین کی خرید وفروخت:
آج کل زمینوں کی خرید و فروخت بڑے پیمانے پر اس طرح کی جا رہی ہے کہ خریدار، مالکِ زمین سے زمین خریدنے کا وعدہ کرتا ہے اور بیعانہ کے طور پر اسے کچھ رقم دے دیتا ہے، جسے مارکیٹنگ کی زبان میں ’’ٹوکن‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ پھر پوری قیمت کی ادائیگی اور خریدی رجسٹری کے لیے ایک مدت متعین ہوتی ہے۔ مدت پوری ہونے پر خریدار پوری رقم دے کر مالکِ زمین سے اپنے نام زمین کی خریدی رجسٹری کرواتا ہے، مگر اس مدت کے درمیان خریدار اس زمین کی خریدی رجسٹری اپنے نام پر ہونے سے پہلے ہی اسے کسی تھرڈ پارٹی (Third Party) کے ہاتھوں منافع کے ساتھ فروخت کر دیتا ہے اور اس سے حاصل کردہ رقم سے مالکِ زمین کا پورا پیمنٹ ادا کر دینے کے بعد جو رقم بچتی ہے اسے منافع کے طور پر رکھ لیتا ہے، یعنی ابھی یہ زمین اس کی ملک میں آئی بھی نہیں کہ اس سے پہلے ہی وہ اسے کسی اور کے ہاتھ فروخت کر دیتا ہے۔ شریعت اس طرح کی بیع کو ناجائز کہتی ہے، کیوں کہ اس طرح کی بیع میں دھوکہ و غرر ہے۔ وہ اس طرح کہ ہو سکتا ہے خریدار پارٹی مدت پوری ہونے سے پہلے مفلس و کنگال ہو جائے اور زمین دار کو وقت پر مقررہ قیمت نہ ادا کر سکے، جس کی وجہ سے یہ بیع پوری نہ ہو پائے یا یہ بھی ممکن ہے کہ مدت پوری ہونے سے پہلے خود زمین دار کی مدتِ عمر پوری ہو جائے اور زمین پر اس کے ورثاء کے نام چڑھ جائیں اور وہ اس زمین کو فروخت نہ کریں، جس کی وجہ سے یہ بیع پوری نہ ہو پائے۔ معلوم ہوا کہ بیع کی یہ صورت دھوکہ اور غرر پر مشتمل ہے، جس سے شریعت منع کرتی ہے۔ (احکام القرآن للجصاص:219/2)

متعین نفع کی شرط پر شراکت:
اسی طرح بعض سرمایہ دار مشارکت (Partnership) میں اپنا سرمایہ اس شرط پر لگاتے ہیں کہ وہ ہر مہینہ ایک متعینہ رقم کے بطور نفع حق دار ہوں گے، خواہ نفع کچھ بھی ہو یا یہ شرط لگاتے ہیں کہ وہ کاروبار میں ہونے والے نقصان کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ پارٹنرشپ کی یہ صورت بھی درست نہیں ہے، کیوں کہ پارٹنرشپ کے درست ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ کسی ایک فریق کے لیے نفع کی ایک خاص مقدار متعین نہ کی جائے (بلکہ متوقع نفع میں فیصد کو متعین کیا جائے) اور شریک و پارٹنر کاروبار میں ہونے والے نقصان میں بھی اپنے سرمایہ کے تناسب سے شریک ہو۔(فتاوی عثمانی:35/3)

اوقاتِ ملازمت میں دیانت داری سے کام سرانجام نہ دینا:
اسی طرح وہ طبقہ جو ملازمت کرتا ہے، خواہ وہ حکومت کے ملازم ہوں یا کسی نجی و پرائیویٹ کمپنی کے، وہ اپنی ملازمت کے اوقات کی پابندی نہیں کرتے۔ اوقاتِ ملازمت میں دیانت داری و ایمانداری کے ساتھ اپنے ذمّے کے کاموں کو انجام نہیں دیتے۔ جب کہ انہیں جو تنخواہیں دی جارہی ہیں، وہ ان کی خدمات کا ہی عوض ہیں، تووہ اپنی تنخواہوں کی محض اتنی ہی مقدار کے حق دار ہیں جس کے مقابل انہوں نے خدمات انجام دی ہیں۔ وہ مقدار جس کے مقابل خدمات انجام نہیں دی گئیں، اس کے وہ حق دار نہیں، تو تنخواہوں کا وہ حصہ حلال کہاں ہوا؟ جب کہ اس کو حلال سمجھ کر استعمال کیا جا رہا ہے، یہی کچھ حال ادارہ اور کمپنیوں کے ذمہ داروں کا ہے کہ وہ ملازمین سے بھرپور خدمات وصول کرتے ہیں اور خدمات کے عوض (تنخواہ)کی ادائیگی میں ان کا استحصال کرتے ہیں، تو روپوں کی وہ قدر جو انہوں نے اپنے ملازمین کا استحصال کر کے پسِ پشت ڈال دی، وہ ان کے لیے کیسے حلال ہو گی۔

کمی بیشی کے ساتھ چیک کی خرید و فروخت:
بسا اوقات تاجر حضرات آپس میں نقد روپوں کے بجائے چیک سے لین دین کیا کرتے ہیں۔ چیک کے بھنانے میں چونکہ وقت لگ جاتا ہے اورتاجر کو فوری نقد روپوں کی ضرورت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وہ چیک میں لکھی ہوئی رقم سے کم میں کسی اور کے ہاتھ اس چیک کو فروخت کر دیتا ہے، خریدار وقتِ مقررہ پر اس چیک کو بھنا لیتا ہے اور اپنی اصل رقم اضافہ کے ساتھ رکھ لیتا ہے۔ شرعاً اس طرح چیک کی خرید و فروخت ربوا اور سود ہونے کی وجہ سے نا جائز و حرام ہے۔

غرر وقمار پر مشتمل ممبرساز اسکیمیں:
آج کل عموماً تاجر یا کمپنی وغیرہ ممبر سازی کے ذریعہ فریج، کولر، واشنگ مشین، سائیکل، موٹر سائیکل وغیرہ اسکیم کے تحت فروخت کرتے ہیں۔ جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ کسی چیز کی اصل قیمت بازار میں، مثلاً: پانچ ہزار روپے ہے، تو وہ لوگ پوری رقم یکبارگی لینے کے بجائے سو روپے ماہانہ ادا کرنے والے سو ممبر 45 ماہ کے لیے بنا لیتے ہیں اور ہر ماہ پابندی کے ساتھ قرعہ اندازی کی جاتی ہے۔ اگر پہلے ہی ماہ میں کسی ممبر کا نام قرعہ اندازی سے نکل آتا ہے، تو اس کو صرف سو روپے میں پانچ ہزار کی چیز مل جاتی ہے اور اگر کسی کا نام دوسرے ماہ میں نکلا تو پانچ ہزار کی چیز اسے صرف دو سو میں مل جاتی ہے۔ اسی طرح ہر ماہ قرعہ اندازی میں نام نکلنے والے کو وہ چیز جمع شدہ رقم کے عوض ملتی رہتی ہے۔ اب پینتالیسویں ماہ میں جتنے ممبر باقی رہیں گے، سب کو وہ چیز دے دی جائے گی۔ اس طرح کی اسکیم شرعاً قمار (جوا)کو شامل ہے، نیز بوقتِ عقد، ثمن مجہول ہوتا ہے، لہذا یہ اسکیم چلانا، اس میں حصہ لینا اور قرعہ اندازی سے طے شدہ اشیاء کا حاصل کرنا شرعاً نا جائز ہے۔

لاٹری:
حالیہ زمانے میں بازار کے اندر لاٹری کی مختلف صورتیں مروج ہیں، جن میں سے ایک مشہور صورت یہ ہے کہ بازاروں میں مخصوص جگہ پر لاٹری کی مختلف ٹکٹیں مختلف قیمتوں میں فروخت ہوتی ہیں۔ خریدار کسی ایک قیمت یا الگ الگ قیمتوں کے کچھ ٹکٹ خرید لیتا ہے، پھر جب خریدار کا ریکارڈ اصل مرکز میں پہنچتا ہے اور اس کے نام لاٹری نکل آتی ہے تو اسے متعینہ رقم ملتی ہے، جو اکثر اوقات روپیہ ہی کی صورت میں ہوتی ہے اور ٹکٹ کی رقم سے زیادہ ہی ہوتی ہے یہ سود ہے جو شرعاً حرام ہے، نیز اس میں نفع و نقصان مبہم اور خطرے میں رہتا ہے کہ نام نکل آیا تو نفع ہو گا اور اگر نہ نکلا تو اصل پونجی بھی ڈوب جائے گی۔ علاوہ ازیں یہ ٹکٹ خریدنے والے کی محنت کا نتیجہ نہیں، بلکہ محض بَخت (قسمت) و اتفاق پر مبنی ہوتا ہے کہ اس کا نام نکل بھی سکتا ہے اور نہیں بھی نکل سکتا ہے۔ ایسے ہی مبہم اور پر خطر نفع و نقصان کو قمار کہتے ہیں، جو شرعا ناجائز و حرام ہے۔ یہ تو حال تھا تجارت اور ملازمت کا، اب رہا عام مسلمان جو نہ تاجر ہے اورنہ ملازم بلکہ وہ محنت و مزدوری کر کے یا کھیتی باڑی کر کے، یا مال مویشی کے ذریعے اپنے گھر کے اخراجات پورے کرتا ہے۔ اس کے پاس بھی حلال و حرام کی تمیز باقی نہیں رہی، یا ہے بھی تو وہ اس کا پاس و لحاظ نہیں کرتا۔

ان حالات کو ذکر کر کے مقصد مایوسی پھیلانا نہیں کہ اب تو اصلاح ممکن ہی نہیں، بلکہ مقصد معاشرہ میں رائج ایسی صورتوں کی نشاندہی کرنا اور خبردار کرنا ہے کہ تاکہ ہم صحیح رخ پر آگے بڑھ سکیں۔ ویسے بھی مایوسی تو مسلم کے لائق نہیں ہاں! یہ ’’دستک ‘‘صرف ریمائنڈر ہے۔