گزشتہ چند ہفتوں سے مملکت خداداپاکستان میں حکومتی حلقوں میں اسلامی مالیاتی نظام کی اہمیت ،ملکی سطح پر عملی نفاذ کے لیے جامع لائحہ عمل کی تیاری،اس کام کے لیے ماہرین شریعت ومعیشت پر مشتمل کمیٹی کا قیام اور چند دن قبل اخبارات کی زینت بننے والی یہ خوش آئند خبرکہ شیخ الاسلام حضر ت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم کی جانب سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے شریعہ بورڈ کی چیئرمین شپ قبول کرنا۔ یہ سب ہی خوش آئند ہیں۔ کیونکہ مملکت خداداکے معاشی نظام کے لیے یہ بے حد ضروری ہے۔حکومتی سطح پر اس آواز کے اٹھنے میں معاشرے کے تمام طبقات نے اپنا حصہ اپنے کردار،دعا اوردوا کے ذریعے ڈالا ہے ۔

بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس کاتو فارمولا طے ہے کہ مانگنے والا انسان اللہ کو بہت پسند ہے ۔جب پاکستانی میں اسلامی معاشی نظام کے نفاذ کی خواہش تھی تو اللہ رب العز ت نے اس کی طرف حکومتی حلقوں کا رخ بھی موڑ دیاہے ۔کیونکہ ہرپاکستانی بحیثیت مسلمان اللہ رب ذوالجلال کے ساتھ براہ راست جنگ کیسے مول لے سکتاہے؟ ایک مسلمان کی خواہش تو اپنے رب کی مرضیات پر فنا ہونے کی ہوتی ہے ۔


٭…مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کا اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے شریعہ بورڈ کی چیئرمین شپ قبول کرنا خوش آئند ہے ٭…فرانس پیرس کو اسلامی بینکاری کا لندن سے بھی بڑا مرکز بنانے کے لیے کوشاں ہے ٭


اب ذراتصویر کا دوسرارخ بھی دیکھیے۔ کیا یہ صرف جذبہ محبت دین ہی کی وجہ سے ہے؟ نہیں! بلکہ دنیا نے اسلامی مالیاتی نظام کے فوائد کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیاہے ۔اب غیر مسلم دنیا کامکمل فوکس اس با ت پر ہے کہ مسلمانوں چونکہ دنیا میں ایک بہت بڑی مارکیٹ ہیں۔ ان کی دولت کو اپنی طرف سمیٹنے کے لیے ہمیں ان کو وہ سہولیات دینی ہوں گی جس کی طرف ایک زمانے سے مسلمانوں کی پوری توجہ ہے ۔ یہی وجہ ہے فرانس کی حکومت نے ملک میں اسلامی بینکاری نظام متعارف کرانے کے لیے نئی قانون سازی کی ہے جس کا مقصد مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں کے لیے مواقع پیدا کرنا اور پیرس کو یورپی یونین میں اسلامی مالیات کا بڑا مرکز بنانا ہے۔ فرانس میں یورپ کی سب سے بڑی مسلمان کمیونٹی رہ رہی ہے اور فرانس پیرس کو اسلامی بینکاری کا لندن سے بھی بڑا مرکز بنانے کے لیے کوشاں ہے۔وہ ایسی مصنوعات متعارف کروا رہا ہے جو اسلامی شریعت کے مطابق ہیں اور وہ خلیجی ممالک سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں کے معیار پر بھی پورا اترتی ہیں۔

(http://www.alarabiya.net /articles/2009/09/28/86378.html)

خوشی کی بات یہ ہے کہ اب پاکستانی حکومت بھی اس طرف کافی سنجیددکھائی دے رہی ہے۔ صدرپاکستان کے خطاب کا ایک اقتباس پڑھیے۔صدر مملکت نے کہا کہ یہ کانفرنس ملک میں اسلامی بینکنگ کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔صدر مملکت نے کہا کہ موجودہ حکومت ملک میں اسلامی بینکنگ کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے اور اس حوالے سے بنائی گئی کمیٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ ملک میں اسلامی بینکنگ اور اسلامک فنانشل سسٹم کے فروغ کے لیے جامع پالیسی اور فریم ورک مرتب کرکے اپنی سفارشات دے۔(اسلامی بینکاری گول میز کانفرنس منعقدہ 15،جنوری 2014 میں خطاب)

دینی حلقوں کے لیے ایک بہت ہی اہم خبر یہ بھی ہے کہ شیخ الاسلام حضرت مولانامفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے اسٹیٹ بینک شریعہ بورڈ کی چیئرمین شپ قبول فرمالی ہے۔یہ ساری کڑیاں ملائی جائیں تو ایسے لگتاہے کہ اب اسلامی مالیاتی نظام پاکستان کامقدربننے والاہے۔اگرچہ پاکستان اسلامی مالیاتی نظام کو مرتب کرنے والے اولین ملکوں کی فہرست میں بھی پہلے نمبرپر آتاہے لیکن افسوس کہ اسی ملک کا مقدریہ نظام سب سے آخر میں بننے جارہاہے ۔لیکن ’’دیر آید درست آید‘‘ پر عمل ہوجائے تو ابھی بھی وقت باقی ہے۔ ہماری دعا ہے کہ حکومت اپنے ان دعووں میں سچی ہو اورپاکستان میں اسلامی مالیاتی نظام کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے ۔SCS کی دستک ہے کہ معاشرے کے تما م طبقات بالخصوص تاجرحضرات یہ مطالبہ مزید زور شور سے اٹھائیں کہ ہم اسلامی مالیاتی نظام چاہتے ہیں تو ارباب حل و عقد ضرور مجبور ہوں گے۔