کاروباری دنیا کا عام رواج ہے کوئی بزنس شروع کیا جاتا ہے تو اس کا وژن اور مشن ضرور متعین کیا جاتا ہے۔ جس کا مقصد کمپنی کے اہداف اور مارکیٹ میں داخل ہونے کی وجہ بیان کرنی ہوتی ہے۔اس کے لیے ایک خاکہ سا پیش کیا جاتا ہے۔ وژن اور مشن کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ طویل المدتی (Long Term) ہوتا ہے۔ یہ ادارے کی بنیاد ہوتا ہے۔ اسے بنانے اور حتمی قرار دینے سے پہلے بہت غوروفکر اور سوچ وبچار کی ضرورت ہوتی ہے، اور ہونی بھی چاہیے کیونکہ آپ ایک ایسی چیز کی بنیاد رکھ رہے ہیں جس پر آپ کے مستقبل کی عمارت کھڑی ہوگی۔ اگر پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی یا ترچھی رکھ دی گئی تو اس کے نتیجے سے آپ بخوبی واقف ہوں گے۔ اس لیے وژن اور مشن بہت سوچ سمجھ کر بنایا جاتا ہے۔


جب وژن اور مشن میں لانگ ٹرم پلاننگ کی جا رہی ہوتی ہے تو اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ لانگ ٹرم کا دورانیہ کیا ہے؟ دس سال، پچاس سال، صرف دنیاوی زندگی تک یا مرنے کے بعد بھی۔ ہر کاروباری شخص مرنے سے پہلے تک کا بہرحال سوچ رہا ہوتا ہے، لیکن آج کی اس تحریر میں ہماری دستک کچھ مرنے کے بعد کی زندگی سے متعلق ہے۔ اس طرف متوجہ کرنا مقصود ہے کہ ہمارے کاروبار کا وژن اور مشن بحیثیت ایک مسلمان مرنے کے بعد کی زندگی تک ہونا چاہیے۔ غیر مسلم دنیاوی زندگی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ ان کا آخرت پر یقین نہیں ہے۔ اسی واسطے ہی ان دوڑ دھوپ ہوتی ہے۔ اس کے لیے وہ دن دیکھتے ہیں نہ رات۔ ان کے منصوبے اور حکمت عملیاں بھی اس کے لیے ہوتی ہیں، لیکن مسلمان دنیاوی کے بجائے اخروی زندگی کو ترجیح دیتا ہے۔ اس لیے ہمارے کاروباری اہداف، مقاصد، اس کے حصول کے طریقے اور دیگر تمام کاروباری لوازمات کا نتیجہ دنیا کے بازار سے ہوتا ہوا آخرت کی زندگی تک ضرور جانا چاہیے۔ یہاں یہ سوچ ضرور آپ کے دماغ میں آ رہی ہو گی کہ جناب! آپ آخر کیا کہنا چاہ رہے ہیں؟ تو اس کے جواب میں آپ کو سب سے پہلے مارکیٹ کی ایک کمپنی کی مثال دیتا ہوں۔ اس کی ویب سائٹ (http://www.ghaniglass.com) پر جا کر آپ ذرا ان کا وژن اور مشن پڑھیے گا، امید ہے آپ کو جواب سمجھ آئے گا۔ اگر نہ سمجھ میں آئے تو ہماری یہ وضاحت کچھ اور عقدہ کھول دے گی۔


٭…جب وژن اور مشن میں لانگ ٹرم پلاننگ کی جا رہی ہوتی ہے تو اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ لانگ ٹرم کا دورانیہ کیا ہے؟ دس سال، پچاس سال، صرف دنیاوی زندگی تک یا مرنے کے بعد بھی ٭… تجارت میں نیت کی تبدیلی سے یہ عبادت اور اللہ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے… پھر کیوں نہ ہم اپنا کاروباری وژن اور مشن اسی کو سامنے رکھ طے کریں ٭


کاروبار اور تجارت ایک مقدس پیشہ ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی بہت اہمیت بتائی گئی ہے۔ اس کی اہمیت اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے کہ خود سرور کائنات صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے جاںنثار صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک بڑی جماعت تجارت سے منسلک رہی ہے۔ ایک حدیث مبارکہ میں تجارت کی فضیلت کے بارے میں یوں بھی فرمایا ہے: ’’تسعۃ اعشار الرزق فی التجارۃ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے حصول رزق کے دس میں سے نو حصے تجارت کو قرار دیا ہے۔ اس سے یہ بات سمجھ آئی کہ تجارت میں نیت کی تبدیلی سے یہ عبادت اور اللہ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے… پھر کیوں نہ ایسا ہو کہ ہم اپنا کاروباری وژن اور مشن یوں طے کریں:

٭ اللہ کی رضا کا حصول اور جنت میں داخلہ ٭ کاروبار میں شریعت کے احکامات کو زندہ کرنا
٭ تجارت کے ذریعے انسانوں کی خدمت کرنا اور ان کی ضروریات بہم کو پہنچانے کی کوشش کرنا ٭ رزق حلال حاصل کرنا

اس طرح کی اور باتیں بھی شامل کی جا سکتی ہیں۔ اب ذرا اس طرف غور کیجیے کہ اگر کاروبار کا مقصد صرف دولت کا حصول، پرافٹ میکسیمائزیشن وغیرہ ہوں تو کیا یہ مناسب ہو گا، جبکہ مسلمان تو مرنے کے بعد والی زندگی کو دنیا کے مقابلہ میں زیادہ سامنے رکھتا ہے۔ اندازہ ہوا کہ یہ مناسب نہیں لیکن پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ان سب چیزوں کے ساتھ ساتھ نیت میں تبدیلی کوئی بڑا پروسیجرل چینج بھی نہیں ہو گا اور کام بھی ہو جائے گا۔ اس دستک کے ساتھ ایک کمپنی کا وژن مشن کا لنک شیئر کیا جا رہا ہے تاجر بھائیوں سے گزارش ہے کہ اسے دیکھیں اور اس کی نقالی کی کوشش کریں۔http://www.ghaniglass.com/profile_mission.php، جن تاجروں کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہ ہو، ان کی خاطر درج بھی کر دیا جاتا ہے۔
Ultimate Vision
دین کا قیام
اس ادارے کا مقصد زندگی کے ہر شعبے میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے طریقے کو زندہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک مثالی نمونہ لوگوںکے سامنے پیش کرنا ہے۔ تاکہ زندگی کے تمام شعبوں کے لوگ اپنے اپنے شعبے میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی محنت کو اپنی محنت بنائیں۔
Purpose of Vision
٭ حضور پاک صلی اللہ علیہ و سلم کے امتی ہونے کی احساسِ ذمہ داری
٭ شعبہ تجارت میں تجربہ اور مہارت
٭ شعبہ تجارت میں شدّتِ ضرورت

{fcomment lang=en_GB}[module-214]