اسلام کے اقتصادی نظام میں زکوٰۃ کی حیثیت مرکزی اور محوری ہے ۔اس کو نظر انداز کرکے اسلام کے اقتصادی ومعاشی نظام کا کوئی تصور نہیں کیا جاسکتا ۔اسلام نے مسلمانوں کو زکوٰۃ کا نظام اس لیے دیا ہے کہ اسلام کو انسانوں کا فقر و احتیاج میں مبتلا رہنا بالکل گوارہ نہیں پاکستا ن کے مختلف طبقات میں سے صرف تجارت پیشہ لوگ بھی اگر اس بات کا عز م کرلیں تو غربت میں

نمایاں کمی آ سکتی ہے مفتی سجادحسین ظفردنیا میں سب سے پہلے اسلام نے غرباء و مساکین ،بیواؤں او ر یتیموں اوربے سہارا افراد کی کفالت کے بارے میں ایک اجتماعی اسکیم تیار کی اور اسے اسلام کا ایک رکن قرار دیا ۔اس اسکیم کے تحت اسلام نے ہر صاحب نصاب فرد پر معاشرے کے غرباء و مساکین اوربے سہارا لوگوں کا ایک مخصوص حصہ 2.5 فیصد متعین کیا ،چنانچہ ہر مسلمان صاحب نصاب فرد پر اس کی ادائیگی کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال کہتے ہیں:’’ اسلام وہ دین ہے جس میں غرباء، امراء پر مال لازم کرتے ہیں۔‘‘اسلام کی اس خود کفالتی اسکیم کا نام زکوٰۃ ہے ۔اسلام کے اقتصادی نظام میں زکوٰۃ کی حیثیت مرکزی اور محوری ہے ۔اس کو نظر انداز کرکے اسلام کے اقتصادی ومعاشی نظام کا کوئی تصور نہیں کیا جاسکتا ۔اسلام نے مسلمانوں کو زکوٰۃ کا نظام اس لیے دیا ہے کہ اسلام کو انسانوں کا فقر و احتیاج میں مبتلا رہنا بالکل گوارہ نہیں ۔ اگر معاشرے کے افراد فقرو فاقہ میں مبتلا ہو ں تو اس سے کئی خرابیا ں پیدا ہوتی ہیں : 


اسلام کی اس خود کفالتی اسکیم کا نام زکوٰۃ ہے ۔اسلام کے اقتصادی نظام میں زکوٰۃ کی حیثیت مرکزی اور محوری ہے ۔اس کو نظر انداز کرکے اسلام کے اقتصادی ومعاشی نظام کا کوئی تصور نہیں کیا جاسکتا ۔اسلام نے مسلمانوں کو زکوٰۃ کا نظام اس لیے دیا ہے کہ اسلام کو انسانوں کا فقر و احتیاج میں مبتلا رہنا بالکل گوارہ نہیں ‘‘

  1. انسان کا احسن تقویم کے مرتبے سے گرجاناکیونکہ بقدر کفایت رزق تو حیوانوں کو بھی مل جاتاہے ، اور انسان کو مہیا نہ ہوتو یہ معاشرتی طورپر کسی طرح بھی مناسب نہیں ۔
  2. افراد امت کے درمیان بلند وبالا معاشی تفاوت کا پیداہونا،جس کو اسلام ناپسند کرتاہے کیونکہ افرادِ معاشر ہ کا اس قدر خستہ حال ہونا کہ فاقہ کشی تک نوبت چاپہنچے،وعید کا سبب ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :’’جس بستی میں کسی شخص نے اس حال میں صبح کی کہ وہ رات بھر بھوکارہا اس بستی سے اللہ کی حفاظت و نگرانی کا وعدہ ختم ہوجاتاہے۔ ‘‘( مسند اما م احمد )

ا سلا م لوگوں میں فریبی اور امیری کی تفریق کو مندرجہ ذیل وجوہ سے ناپسند کرتاہے :

  • طبقاتی احساس پیدا ہوتا ہے جو حسد ، کینہ ،بغض جیسے مہلک امراض کا باعث بنتاہے ۔
  • ضروت مند افراد کو چوری ،غصب اور ڈاکہ زنی پر ابھارتاہے ۔
  • حصول رزق کے لیے عزت نفس اور خودداری سے بھی ہاتھ دھونا پڑتاہے ۔

یہ وہ عوامل ہیں جن سے اسلام معاشرے کو بچائے رکھنا چاہتا ہے ۔بسا اوقات یہ سوا ل کیا جاتاہے کہ ایسی اسکیموں سے افراد کو بیکار بنایا جاتاہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام بیک وقت معاملے کے دونوں پہلوؤں کی رعایت رکھتا ہے۔ ایک طرف تو اسلام کی خواہش ہے کہ ہرشخص اپنی طاقت کے بقدر کام کرے اور اجتماعی امداد کا سہارا لے کر وقت گزاری نہ کرے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

الکا سب حبیب اللہ

( محنت مزدوری کرنے والا اللہ کا دوست ہوتاہے )

الید العلیا خیر من الید السفلیٰ

( اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے )

ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگنے آیا ۔آپ ﷺ نے اسے ایک درہم عنایت فرمایا کہ اس سے ایک رسی خریدوپھر جنگل سے لکڑیاں چن کر باندھ کر لاؤ اور اس طرح اپنی قوت بازو کی کمائی پر گزر بسر کرو۔ دوسری طرف اسلام اس بات کا بھی لحاظ رکھتا ہے کہ ضرورت مند کو بقدر ضرورت مدد دے کر ضروریاتِ حیات کا بوجھ اس سے کم کیاجاسکے ۔غرض ! جب ہم اسلام کے نظام زکوۃ ۔۔۔۔ اسلامی خودکفالتی اسکیم کودیکھتے ہیں تو اسلام کا یہ منشا ہمارے سامنے آتاہے کہ افراد ِمعاشرہ میں مال کی کمی کے سبب ذلت اور رسوائی کا احساس ،اور دولت کی زیادتی کے سبب غرور اور رعونت نہ پیداہوجائے۔

پاکستان کی تقریباًاکثریت آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارتی ہے ۔ہمیں امید ہے کہ اگراسلام کی اس خودکفالتی اسکیم کو اپنے صحیح خدوخال سے نافذالعمل بنادیاجائے تو غربت کا مسئلہ حل کیاجاسکتاہے۔پاکستا ن کے مختلف طبقات میں سے صرف تجارت پیشہ لوگ بھی اگر اس بات کا عز م کرلیں تو غربت میں نمایاں کمی ہوسکتی ہے ۔اس سلسلہ میں تاجروں کی دوگزارشات ہیں:

  1. تجارت کی زکوۃ کے احکام کی مفتیان کرام سے معلومات حاصل کریں ،یاSCS کا کتابچہ ’’زکوۃ سیکھیے پھر اداکیجئے ‘‘ کا مطالعہ کریں کیونکہ عرصہ تین سال سے مارکیٹ میں وقت گزارنے سے اندازہ ہواہے کہ بے شمار تاجروں کو معلوم ہی نہیں کہ ہمارے اوپر زکوۃ فرض ہے یا نہیں؟ اگرہے تو کتنی ؟
  2. اگر زکوۃ کے حسابات میں پیچیدگی ہواور فی الفور سمجھ میں نہ آرہاہوں تو SCS کی درج ذیل خدمات سے بھی فائدہ اٹھایاجاسکتاہے ۔
    • زکوۃ کا خودتشخیصی فارم حاصل کرکے باآسانی آ پ خود حساب کرسکتے ہیں۔ 
    • SCS سے رابطہ کرکے زکوۃ کا حساب بھی کروایاجاسکتاہے ،ہماری طرف سے یہ خدمات بلامعاوضہ پیش کی جاتی ہیں ۔