خریدار تک پروڈکٹ کی تفصیلا ت پہنچانے میں شریعت ہماری کیا رہنمائی کرتی ہے اس کے لیے ذخیرہ احادیث میں غور کیا جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بے شمار فرامین موجو د ہیں  زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے اگر خریدار متاثر ہوگیا اورآپ نے چرب زبانی یا کسی بھی طریقہ سے خریدار کو اپنے دام میں پھنسالیا ، اس نے وہ چیز خرید لی اور پھر وہ مطلوبہ معیار کی نہ ہوئی تو یہ خریدار

کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا اور دھوکہ شرعاً حرام ہے  پروڈکٹ کی تشہیر میں جاندار کی تصویر بنانا اور بنوانا حرام ہے۔ احادیث مبارکہ میں تصویر سازی کرنے والوں کے بارے میں بہت سخت وعیدات ذکر کی گئی ہیں  دستک  /  مفتی سجادحسین ظفرزمانہ موجودہ میں تشہیر(ایڈورٹائزنگ) ایک پروفیشن کی حیثیت اختیار کرچکی ہے اور اس حد تک ترقی کرچکی ہے کہ تجارتی کمپنیوں کو اپنے اداروں میں مستقل ڈیپارٹمنٹ قائم کرنا پڑاہے ۔ آئے روز اس کی ڈیمانڈ میں مزیداضافہ ہورہاہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہوسکتی ہے کہ مارکیٹ میں عوام الناس جس پروڈکٹ کی زیادہ تشہیر(ایڈورٹائزنگ) دیکھتے ہیں، اس کو زیادہ سے زیادہ خریدتے ہیں۔ اسی لیے تاجروںکے ہاں تو یہ جملہ مشہور ہوچکاہے کہ ’’وہی چیز بکتی ہے جس کی تشہیر(ایڈورٹائزنگ)زیادہ ہوتی ہے ۔‘‘


عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نہیں حلال کسی مسلمان کے لیے کہ وہ اپنا سامان (پروڈکٹ )بیچے، اس حال میں کہ اس کو معلوم ہو کہ اس میں خرابی ہے مگر یہ کہ اسے خریدار کو بتادے۔ (صحیح مسلم ج۱ص ۲۶) ‘‘

ایڈورٹائزنگ کیاہے؟

مارکیٹنگ میں فروخت کرنے والا (seller )خریدار (Buyer )کو اپنی پروڈکٹ کی تفصیلات اس طرح پہنچاتاہے کہ خریدار اس کی طرف راغب ہو کر اس کو خریدے اور زیادہ سے زیادہ Sale ہو۔

تشہیر فی نفسہ جائز ہے ۔یہ جواز احادیث مبارکہ سے بھی ثابت ہے ۔

خریدار تک پروڈکٹ کی تفصیلا ت پہنچانے میں شریعت ہماری کیا رہنمائی کرتی ہے اس کے لیے ذخیرہ احادیث میں غور کیا جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بے شمار فرامین موجو د ہیں ،ان میں سے چند نقل کیے جاتے ہیں:

    1. حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ کوفہ کے بازارمیں اپنی تلوارلہراکر اعلان کررہے تھے کہ کون ہے جو مجھ سے میری یہ تلوار خریدے گا۔ (الاوسط للطبرانی)
    2. حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خرید وفروخت کرنے والوں کو اختیار ہوتاہے جب تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدانہ ہوں، پس اگر انہوں نے ایک دوسرے سے سچ بولا اور درست وضاحت کی تو ان کی بیع میں برکت ڈال دی جائے گی اور اگر جھوٹ بولا اور مبیع کو چھپایا تو ان کی بیع سے برکت اٹھالی جائے گی ۔(شرح النووی علی مسلم ج۵ص۳۴۰)    
    3. عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نہیں حلال کسی مسلمان کے لیے کہ وہ اپنا سامان (پروڈکٹ )بیچے، اس حال میں کہ اس کو معلوم ہو کہ اس میں خرابی ہے مگر یہ کہ اسے خریدار کو بتادے۔ (صحیح مسلم ج۱ص ۲۶)
    4. امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ حفص بن عبدالرحمان کے پاس ’’خز‘‘ کے تھان بھیجے اور کہلا بھیجا کہ فلاں فلاں تھان میں عیب ہے خریدار کو بتادینا۔ (سیرت النعمان مولفہ مولاناشبلی نعمانی رحمۃ اللہ علیہ )

تشہیر(ایڈورٹائزنگ)کے لیے چونکہ آج کل کے زمانہ میں بہت سے ذرائع استعمال کیے جارہے ہیں، مثلا: Personal selling ،آن لائن ،ای میل ،ریڈیو ،ٹی وی ،اخبارات ،سائن بورڈ ،بینرز وغیر ہ وغیرہ ۔ان کے ذریعہ سے اشتہارکو ایسے انداز میںترتیب دے کر عوام کے سامنے پیش کیا جاتاہے، تاکہ پروڈکٹ سے عوام الناس باخبر ہوں اور پروڈکٹ ان میں مقبولیت پائے ۔

درج بالا دلائل کے پیش نظر چند باتیں ایسی ذکر کی جارہی ہیں کہ تشہیرمیںان کا ٰخیال رکھنا ضروری ہے :

1. معلومات کی درستی:

خریدار کو پروڈکٹ کے بارے میں درست معلومات دینا چاہیں۔ جو جو خوبیاں ہوں وہ بھی بتائی جائیں اور اس میں اگر کوئی خامی ہوتو وہ چیز یا تو فروخت ہی نہ کی جائے، ورنہ اس کا وہ عیب بتا کر فروخت کیا جائے۔جیسا کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے واقعہ تجارت سے سبق ملتاہے ۔

2. پروڈکٹ کے بارے میں مبالغہ آرائی کرنا:

پروڈکٹ میں جتنی خصوصیات واقعتا پائی جاتی ہیں اتنی ہی خریدار کو Communicateکرنی چاہیں۔ زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے اگر خریدار متاثر ہوگیا اورآپ نے چرب زبانی یا کسی بھی طریقہ سے خریدار کو اپنے دام میں پھنسالیا ، اس نے وہ چیز خرید لی اور پھر وہ مطلوبہ معیار کی نہ ہوئی تو یہ خریدار کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا اور دھوکہ شرعاً حرام ہے ۔

3. خوبیوں اور خامیوں کو پیش کرنے کا انداز:

آج کل تشہیر ی اشتہارات میں پروڈکٹ کی خوبیوں (Qualities )کو جلی حروف میں لکھا جاتاہے، جبکہ اس کے نتیجہ میں خریدار پر عائد ذمہ داریوں کو اتنا باریک لکھا جاتاہے کہ بسااوقات اس کی طرف دھیان ہی نہیں جاتا۔ جس سے مبیع کی مناسب وضاحت خریدار کے سامنے نہیں آتی اور مبیع کو خریدار سے چھپانا لازم آتاہے اور مذکورہ بالا حدیث کی روشنی میں مبیع کو چھپانا بیع میںبے برکتی کا باعث بنتاہے ۔

4. موسیقی کا استعمال:

پروڈکٹ کے ریڈیو ،ٹی وی وغیرہ پر تشہیر کے لیے موسیقی کا استعمال بھی عام رواج پاچکا ہے ۔گانا بجانا ،ساز ،موسیقی اور اس طرح کی دوسری خرافات پر شریعت مطہرہ نے وعید ذکرکی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرما ن کے مطابق موسیقی اللہ تعالیٰ کی لعنت کا باعث ہے۔ جو کام اللہ عزوجل کی جانب سے باعث لعنت ہو اس میں کیا برکت ہوگی۔اس لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے ۔

5. تصاویر کا استعمال:

پروڈکٹ کی تشہیر میں جاندار تصاویر خصوصاً عورتوں کی تصاویر کا استعمال کسی طرح بھی شرعاً درست نہیں ہے۔ جاندار کی تصویر بنانا اور بنوانا حرام ہے۔ احادیث مبارکہ میں تصویر سازی کرنے والوں کے بارے میں بہت سخت وعیدات ذکر کی گئی ہیں ۔ا س پر مستزاد یہ کہ عورتوں کی فحش تصاویر جنسی ہیجان کا باعث بھی بنتی ہیں ۔

6.مہنگائی کا سیلاب:

تشہیر کے درج بالا اور اس قسم کے تما م ذرائع استعمال کرنے سے عوام الناس کو مہنگائی کے بوجھ میں لاددیا جاتاہے، کیونکہ موسیقی والے اور عورتیں جو مخصوص اسٹائل کے ساتھ پروڈکٹ کے لیے ماڈلنگ کرتی ہیں۔ اس کے عوض لاکھوں روپے کمپنی ان کو اداکرتی اور اس کے علاوہ مزید سہولیات بھی مثلا تین سال وہ پروڈکٹ اس عورت کو جب اور جتنی مقدار میں مطلوب ہوگی وہ کمپنی کی طرف سے اسے مفت دی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کمپنی یہ سارے اخراجات اپنی جیب سے تو نہیں کرتی بلکہ یہ رقم پروڈکٹ کی قیمت (Cost ) میں شامل کرکے عوام الناس سے وصول کرتی ہے۔ اس طرح پانچ کی چیز پچاس کی بن جاتی ہے، جس کاعوام کو نقصان ہی نقصان ہی ہے ۔

7.اخلاقی تباہی:

 آج کل کی نوجوان نسل میں چونکہ دین سے دوری پائی جاتی ہے اور اس پر مستزاد اس طرح سے فحش قسم کے تشہیر ی اشتہارات کی اتنی بھرمار کہ ہر طرف بے حیائی ہی بے حیائی نظر آئے ۔اس سے ایک طرف تو نوجوان نسل جنسی بے راو روی کا شکار ہوتی ہے اور دوسری طرف معاشرے میں ان لوگوں کو تشہیر کے ذریعہ ملنے والے پروٹوکول سے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہی انداز عزت کامعیار ہے۔ جس سے وہ ان کے اسٹائل ،لباس ،فیشن وغیرہ کی نقالی کرتے ہیںاور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں ۔اس طرح سے ان کا دین اور اخلاق دونوں تباہ ہوجاتے ہیں ۔

اس لیے موجودہ دور میں مسلمان تاجروںکو مارکیٹنگ کرنے کے لیے جدید طریقوں کا استعمال سیکھنا چاہیے۔ اسلام اس سے منع نہیں کرتا، لیکن اس کے اپنانے میں اگر اللہ کی ناراضگی مول لینی پڑے تو یہ مہنگا سوداہے جو کہ دنیا اور آخرت دونوں جہانوں میں خسارے کا باعث ہے۔جدید ذرائع میں سے جو جائز ہیں ان کو استعمال کیا جائے اور جو ناجائز ہیں ان سے اجتناب کیا جائے ۔