ہر کمپنی اپنی اشیا (پروڈکٹس) مارکیٹ میںفروخت کرنے کی ذمہ داری سیلز ٹیم کو دیتی ہے۔یہ ٹیم کمپنی کی پروڈکٹس کو کمپنی کی جانب سے مقررکردہ شرائط اورقیمت پر فروخت کرتی ہے۔سیلز مین کو عربی میں ’’وکیل بالبیع‘‘ کہتے ہیں ۔اس سے مراد وہ شخص ہوتاہے جس کو کمپنی پروڈکٹ فروخت کرنے کے لیے اپنانائب اوروکیل بناتی ہے۔شے کی فروختگی کاکسی کو وکیل بنانے کا ثبوت حدیث مبارکہ سے ملتاہے۔ ـ

’’وکالت‘‘ کالفظ سنتے ہی ہمارے دماغ میں فورا عدالت ،کورٹ، کچہری ،مقدمہ اور ان میں پیش ہونے والے کالے رنگ کے کوٹ میں ملبوس انسان کا تصور آجاتاہے۔ اگر ہم تھوڑا سا غور کریں تو یہ لفظ روزمرہ زندگی میں، کاروباری اورتجارتی معاملات،سماجی ومعاشرتی معاملات میں بڑی حدتک دخیل نظرآتاہے ،مثلا: نکاح میں ہم وکیلوں کا تذکرہ سنتے ہیں ،اشیا کی خریدوفروخت میںہم گھر ،دکان ،فیکٹری اورکمپنی کے ملازم کو اپنا نائب بناتے ہیں۔

صلح کی اہمیت، تعارف
’’صلح‘‘ ایک شرعی اصطلاح ہے۔ جس کا دائرہ کار انسان کی معاملاتی زندگی کے گرد کھینچا گیا ہے۔ کاروباری زندگی میں ’’صلح ‘‘کی کیا اہمیت ہے؟ اس کا استعمال کہاں اور کیسے کیا جائے گا؟ یہ جاننے سے پہلے صلح کا اصطلاحی مطلب سمجھتے ہیں۔لفظی کا معنی ہے: ’’لوگوں کے درمیان نفرت ختم کرنا ۔‘‘اور فقہی اصطلاح میں :’’فریقین کی باہمی رضامندی سے کسی معاملہ میں جھگڑا ختم کرنے کو صلح کہتے ہیں۔‘‘

زکوۃ ایک مالی عبادت ہے۔ ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے۔ قرآن مجیدمیں اللہ جل جلالہ نے ا س کا تذکرہ82مقامات پر فرمایا ہے۔ دنیا کے لیے متعین طور پر نافع اور قابل عمل نظام ہے۔ فلاح انسانیت اور غریبوں کی کفایت، معاشرے کے محروم و مقہور طبقات کے لیے سہارا بننے کے لائق قابل تقلید نظام ہے۔ اس پر آنکھیں بند کر کے اس لیے اعتماد کیا جا سکتا ہے کہ یہ نظام رب کائنات کی طرف سے مسلمانوں کو عطاکیا گیا ہے۔  اللہ رب العزت تو ازل اور ابد تمام چیزوں کا علم رکھتے ہیں، اس لیے ان کی عطا کردہ چیز بھی معاشرے کے لیے مفید ہے۔

دینی و اخلاقی ہدایات


٭…فروخت میں دوسروں کے ساتھ بھلائی یہ ہے کہ جس علاقے میں ایک چیز پر جتنا نفع عموما لیاجاتاہے اس سے زیادہ نہ لیاجائے
٭…آج کل مارکیٹ میں عموما گاہک کو دیکھ کر ریٹ لگایا جاتا ہے اور یوں بہت سے سادہ لوح لوگ ظلم کا شکا رہو جاتے ہیں

٭۔۔۔۔۔۔ نمائش میں شرکت کرنے والے یہ بات باور کرائیں کہ ہم موسیقی اور دیگر اشیا غیر شرعی اقدامات کو ناپسند کرتے ہیں
٭۔۔۔۔۔۔ نمائش کا آغاز تقریباً 600 سال قبل مسیح ہوا اور پھر مختلف مراحل سے گزرتاہوا آج ایک وسیع اورشاندار مارکیٹنگ کا طریقہ بن چکا ہے
نمائش (Exhibition) کا لفظ 1649 میں سامنے آیا۔