مال و دولت اﷲ تعالیٰ کی عطا ہے، اس کو یہ کلی اختیار ہے وہ انسان کو اس بات کا پابند بنائے کس طرح کمایا جائے اور کس طرح خرچ کیا جائےجو کچھ ہم مال کماتے ہیں اس کا حقیقی مالک کو ن ہے ؟ انسان ، ریاست یا اللہ تعالیٰ۔اس سلسلے میں تین مختلف نظریے ہیں:

 1   ۔نظریہ راسمالیت

2  ۔نظریہ اشتراکیت

3۔ سرمایہ دارارنہ نظام

  اسلام کا نظریہ(Islamic point of view)                             ۔

’’نظریہ راسمالیت ‘‘ یہ کہتا ہے کہ مال و دولت دراصل انسان کی ملکیت ہے، وہی اسے اپنی محنت سے کماتا ہے لہٰذا اسے اختیار ہے کہ اسے جس طرح کمائے اور خرچ کرے ۔’’نظریہ اشتراکیت ‘‘ یہ کہتا ہے کہ مال و دولت ریاست کی ملکیت ہے لہٰذااسے ہی یہ اختیار ہے کہ وہ اسے جس طرح چاہے خرچ یا تقسیم کرے ۔ ’’اسلام کا نظریہ ‘‘ یہ ہے کہ مال ودولت کا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے اور اس نے انسان کو ایک خاص مدت تک استعمال کے لیے عطا فرمایا ہے۔قرآن کریم نے اس بات کو متعدد بار مختلف انداز سے ذکر فرمایا ہے۔ ایک جگہ فرمایا :

’’وَاٰتُوْھُمْ مِنْ مَالِ اللّہِ الّذِیْ اٰتٰاکُمْ‘‘
یعنی ’’تم اپنے اس مال سے جو اللہ نے تمہیں عطا فرمایا ہے،مستحقین کو دیا کرو‘‘۔

اسی طرح دوسری جگہ فرمایا :

’’وَابْتَغِ فَیْمَااَتَاکَ اللّہُ ا لْدَارَ الْاٰخِرَۃَ۔‘‘
یعنی ’’جو مال اللہ نے تمہیں دیا اس سے آخرت کا گھر تلاش کرو۔‘‘


مادہ پرست (Materialistic) شخص جس کا مقصد صرف پیسہ کا حصول ہو اور اس کوحقوق العباد، حقوق اللہ اور فکرِ آخرت نہ ہو تو وہ شخص ان پابندیوں کی مخالفت کرے گا، اور کہے گا کہ دین اور دنیا دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، دین کا دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہم آزاد ہیں جیسے چاہیں کمائیں اور جہاں چاہیں خرچ کریں ،تمہا ر ا دین، مذہب اور شریعت ہمیں کسی مخصوص تجارت سے نہیں روک سکتی۔

بعض اوقات انسان جو خیال کرتا ہے کہ اس نے ازخود اپنی محنت سے مال کمایا ہے، حالانکہ یہ بات غلط ہے انسان کا کام صرف محنت کرنا ، لیکن اس کی محنت کو ثمرآور اور بارآور کرنا یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے ،اسی طرح قرآن کریم میں اشارہ فرمایا ہے :

’’اَفَرَأَیْتُمْ مَاتَحْرُثُوْنَ ئَ أَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَہُ اَمْ نَحْنُ الزََّارِعُوْنَ۔‘‘
یعنی ’’کیا تم نے دیکھا جو تم اگاتے ہو، کیا تم اسے اگاتے ہو یا ہم اسے اگاتے ہیں۔‘‘

مطلب یہ ہے کہ تمہارا کام بیج ڈال کر اس پر کاشت کاری کرنا ہے، لیکن اس کاشت کو پروان چڑھا کر ثمرآور اور پیداوار کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے، یہ انسان کے بس سے باہر ہے، اگر اللہ تعالیٰ نہ چاہے تو انسان کتنی ہی محنت کر لے وہ بارآور نہیں ہوتی ۔

خلاصہ یہ ہے کہ مال و دولت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور اس نے انسان کو ایک خاص مدت تک استعمال کرنے کے لیے دیاہے، لہٰذا اس کو یہ کلی اختیار ہے کہ وہ انسان کو اس بات کا پابند بنائے کہ مال کو کس طرح کمایا جائے اور کس طرح خرچ کیا جائے۔ مثلاً ہم کسی شخص کو اپنی گاڑی استعمال کے لیے دیں اور اسے پابند کریں کہ اسے اس طرح استعمال کرنا، فلاں سامان اس پر مت لادنا، ٹریفک قوانین کے مطابق چلانا،وغیرہ وغیرہ۔ اس لحاظ سے اگر شرعی قوانین کا جائزہ لیا جائے تو اسلام مالی معاملات میں تین قسم کی پابندیاں عائد کرتا ہے :

خدائی پابندی: اس سے مراد وہ تجارتی معاملات ہیں جنہیں انجام دینا شرعاً نا جائز ہے، مثلاً ربا( سود) مَیْسر یاقمار(جوا یا سٹہ بازی)غرر ،دھوکہ دہی یاا یسے مبہم معاملات جو باعث نزاع ہو سکتے ہوں، وغیرہ ۔

قانونی پابندی : ان سے مراد وہ معاملات ہیں جو اگرچہ اسلامی قانون کی لحاظ سے اصلاً جائز ہوں مگر حکومت ِ وقت نے کسی خاص مصلحت و ضرورت کی پیشِ نظر انہیں ممنوع قرار دیا ہو، مثلاً: اگر کبھی ہیضہ کی وبا پھیل جائے اور حکومت خربوزے کی خریدو فروخت پر پابندی لگا دے تو اس کی تجارت شرعاً بھی نا جائز ہو گی ۔

اخلاقی پابندیاں: قرآن و سنت کا تمام تر زور اس بات پر ہے کہ دنیاوی زندگی ایک محدود اور چند روزہ زندگی ہے ۔ انسان کی اصل کامیابی یہ نہیں ہے کہ وہ دوسروں کے مقابلے میں چار پیسے زیادہ کما لے، بلکہ اس کی کامیابی یہ ہے کہ وہ آخرت کی ابدی زندگی میں زیادہ سے زیادہ عیش و آرام کا انتظام کرے۔ جس کا راستہ یہ ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے وہ کام کرے، جو اس کے لیے زیادہ سے زیادہ اجر و ثواب کا موجب ہو۔اسی مقصد کے لیے اقتصاد و معیشت کے حوالے سے چند اخلاقی پابندیاں عائد کی ہیں۔

مادہ پرست (Materialistic) شخص جس کا مقصد صرف پیسہ کا حصول ہو اور اس کوحقوق العباد، حقوق اللہ اور فکرِ آخرت نہ ہو تو وہ شخص ان پابندیوں کی مخالفت کرے گا، اور کہے گا کہ دین اور دنیا دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، دین کا دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہم آزاد ہیں جیسے چاہیں کمائیں اور جہاں چاہیں خرچ کریں ،تمہا ر ا دین، مذہب اور شریعت ہمیں کسی مخصوص تجارت سے نہیں روک سکتی۔ یہی وہ اندازِ فکر تھا جو قومِ شعیب علیہ السلام کا تھا، جس کی وجہ سے ان پر عذاب نازل کیا گیا ، قرآن کریم نے ان کے اس اندازِ فکر پر تنقید کرتے ہوئے اسے اس طرح نقل فرمایا ہے :

’’اَصَلٰوتُکَ تَاْمُرُکَ اَنْ نَتْرُکَ مَایَعْبُدُ اٰبَائُ نَا أَوْاَنْ نَفْعَلَ فِیْ اَمْوَالِنَا مَا نَشَآئُ ۔‘‘
یعنی ’’کیا تمہاری نماز اس بات کا حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے آباء کے معبودوں کو اور اپنی حسبِ منشا تجارت کو چھوڑدیں ۔‘‘

یعنی ہمیں ہمارے تجارتی معاملات میں آزاد چھوڑ دو اور اس میں مداخلت کرکے پابندیا ں مت لگاؤ۔یہی اندازِ فکر دراصل سرمایہ درانہ نظام کی اصل جڑ ہے کیونکہ وہ اموال کو دراصل اپنا مال اور اپنی ملکیت سمجھتے تھے، چنانچہ انہوں نے اَمْوَالُنَا( ہمارے مال )کا لفظ استعمال کیا ، جبکہ قرآن کریم نے سورہ نور میں اَمْوَالُنَا (ہمارے مال) کو مال اﷲ (اﷲ کا مال)سے بدل کر دراصل سرمایہ درانہ نظام جو مال کو انسان کی ہی ملکیت قرار دیتا ہے، کی جڑ کاٹ ڈالی اور پھر یہ کہہ کر کہ یہ اللہ کا مال ہے اس نے تمہیں دیا ہے جسے اَلَّذِیْ آتَاکُمْ( جس نے تمہیں دیا) سے تعبیر کرکے نظریہ اشتراکیت کی بھی تردید کر دی کہ دراصل اللہ تعالیٰ نے اپنا مال تمہیں ایک خاص مدت تک استعمال کے لیے دیا ہے لہٰذا تم اس کی قضا و قدر کے مطابق عارضی طور پر مالک ہو، نہ کہ ریاست یا حکومت مالک ہے اور نہ ہی تم اس کے اصلی اور دائمی مالک ہو۔

سرمایہ دارانہ نظریہ، آزاد اور خو د انفرادی ملکیت کا قائل ہے ، جبکہ نظریہ اشتراکیت، انفرادی ملکیت کا انکار کرتا ہے ۔اور اسلام ان دو انتہاؤں کے درمیان ہے ، یعنی انفرادی ملکیت کو ایک خاص حد اور مدت تک تسلیم کرتا ہے اسے اس طرح آزاد نہیں چھوڑتا کہ اس سے زمین میں فساد پھیلے۔