بنیادی طور پر اگر شریعت اسلامیہ کی معاشی تعلیمات پر غو ر کیا جائے تو ہمیں درج ذیل تین باتیں مقاصدکے درجےمیں نظر آتی ہیں:

1.ایک قابل عمل اور فطری نظامِ معیشت کا قیام:

اگر تعلیمات اسلامی کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح طور پر سمجھ میں آتی ہے کہ اسلامی تعلیمات تقسیم دولت کا ایک فطری اور قابلِ عمل نظام نافذ کرنا چاہتی ہیں، جس میں کسی پر جبر و تشدد نہ ہو۔

ہرشخص اور ہر چیز کو اس کی استعداد، طلب، مہارت اور محنت کی بنیاد پر معاوضہ ملے ۔اجیر و مستاجر کا صحت مند رشتہ قائم ہواسی بات کی طرف قرآن کریم کی درج ِذیل آیت میں اشارہ کیا گیا ہے:

’’نحن قسمنابینھم معیشتھم فی الحیٰوۃالدنیا ورفعنا بعضھم فوق بعض درجٰت لیتخذ بعضھم بعضاً سخریاً۔‘‘  (32-43)
’’ہم نے ان کے درمیان ان کی معیشت کو دنیاوی زندگی میں تقسیم کیا ہے اور ان میں سے بعض کو بعض پر درجات کے اعتبار سے فوقیت دی ہے، تا کہ ان میں سے ایک دوسرے سے کام لے سکیں۔‘‘

2.    حق دار کو حق پہنچانا:


اسلام کے نظام تقسیم دولت کا ایک مقصد یہ ہے کہ حق دار کو اس کا حق مل جائے، لیکن اسلا م میں مستحقین دولت کا معیار دوسرے نظریات سے مختلف ہے۔روایتی معاشیات (Conventional Economies)میں مستحقین دولت صرف عوامل ِپیدائش (Factors of Production) ہیں، جبکہ اسلام میں صرف عوامل پیداوار ہی مستحق نہیں، بلکہ غربا و مساکین اور مستحقین زکوٰۃ و صدقات بھی دولت کے حقدار ہیں۔

 اسلام کے نظام تقسیم دولت کا ایک مقصد یہ ہے کہ حق دار کو اس کا حق مل جائے، لیکن اسلا  م میں مستحقین دولت کا معیار دوسرے نظریات سے مختلف ہے۔روایتی معاشیات (Conventional Economies)میں  مستحقین دولت صرف عوامل ِپیدائش (Factors of Production) ہیں، جبکہ اسلام میں صرف عوامل  پیداوار ہی مستحق نہیں، بلکہ غربا و مساکین اور مستحقین زکوٰۃ و صدقات بھی دولت کے حقدار ہیں۔

قرآن کریم نے  اسی طرف اشارہ فرمایا : ’’فی اموالھم حق معلوم، للسائل والمحروم‘‘ ان کے مالوں میں ایک متعین حق سائل اور محروم لوگوں کا ہے۔‘‘  3ارتکازِ دولت کا خاتمہ: تعلیمات اسلامی اس بات پر شاہد ہیں کہ اسلام دولت کے چند ہاتھوں میں مرتکز ہونے کی ممانعت کرتا ہے۔ قرآن کریم کی درج ذیل آیت یہی بات ثابت کرتی ہے:کیلا یکون دولۃ بین الاغنیاء منکم: یعنی’’ تاکہ تمہاری دولت صرف تمہاری مالداروں کے ہاتھوں میں مرتکز نہ ہو جائے‘‘ اس مقصد کے حصول کے لیے اسلام نے دولت کے اولین ماخذ(Natural Resources)،مثلاً: دریا، سمندر، جنگل، کانیں، غیر مملوک زمین وغیرہ، پر کسی کو پہرہ لگانے کی اجازت نہیں دی اور ہر ایک کو ان سے استفادے کا اختیار دیا۔ وہ تجارتیں جو دولت کے ارتکاز کا سبب بن سکتی تھیں ان کی ممانعت کر دی ،مثلاً: ذخیرہ اندوزی، سٹہ بازی، قمار، سود خوری وغیرہ۔عواملِ پیدائش کیا ہیں؟اسلام کے نزدیک دولت کے اولین مستحق عواملِ پیدائش(Factors of Production) ہیں اور ثانوی مستحق غرباء و مساکین اور مستحقین زکوٰۃ و صدقات و خیرات ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام بھی دولت کا استحقاق عواملِ پیدائش کو عطا کرتا ہے۔ البتہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام میں بھی وہی عواملِ پیدائش ہیں

جو سرمایہ دارانہ نظام میں ہیں یا اس میں کچھ فرق ہے؟ ان عوامل پیدائش کو ملنے والا معاوضہ بھی وہی ہے جو سرمایہ دارانہ نظام میں ہے یا اس میں کچھ فرق ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام میں عوامل ِ پیدائش اگرچہ وہی ہیں جو سرمایہ دارانہ نظام میںہیں،یعنی سرمایہ(Capital)زمین(Land)،محنت(Labour)اور آجر یا تنظیم (Entrepreneur)۔ تاہم ان کی تعریفیں اور ان کوملنے والے معاوضے سرمایہ دارانہ نظام سے مختلف ہیں۔ چنانچہ سرمایہ دارانہ نظام میں سر مائے(Capital)سے مراد انسا ن کے تخلیق کردہ ذرائع پیداوار، مثلاً: کرنسی نوٹ، روپے اور سکّے وغیرہ ہیں اور اس کا معاوضہ سود ہوتا ہے۔ اسلام میں سرمائے سے مراد تمام اموال ربوی ہیں، یعنی وہ اشیا جن سے تجارت کرنے سے ربا کی کسی قسم میں داخل ہو سکتے ہوں، ان کا معاوضہ حقیقی نفع ہو سکتا ہے، تاہم اگر نفع نہ ہو تو اصل سرمائے میں کمی بھی ہو سکتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں زمین سے مراد صرف قدرتی ذرائع(Natural Resources) ہیں اور اس کا معاوضہ اجرت یا کرایہ (Rent)ہے، جبکہ اسلام میں اس سے مرادتمام غیر اموال ربوی اور غیر صرفی اشیا(Non Consumable Items)  ہیں اور ان کا معاوضہ متعین نفع یا غیر صرفی اشیا (Non Consumable) کی صورت میں کرایہ بھی ہو سکتا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام میں محنت (Labour) کو اجرت(Wages)اور تنظیم(Entrepreneur)کو نفع کا استحقاق حاصل ہوتا ہے،جبکہ اسلام میں محنت (Labour) کو ا جرت ملتی ہے، البتہ تنظیم یا آجر (Entrepreneur) کو اجر ت بھی مل سکتی ہے اور وہ نفع میں بھی شریک ہو سکتا ہے۔ یعنی محنت خواہ جسمانی محنت ہو یا دماغی محنت (Mental Exhaustion) جس کے ذریعے آجر (Entrepreneur)، بقیہ عوامل پیدائش یعنی سرمایہ، زمین اور جسمانی محنت کو استعمال کرکے نفع کماتاہے، لہٰذا وہ مختلف معاہدوں (Contracts)کے مطابق حقیقی نفع یا متعین اجر ت کا مستحق بن سکتا ہے،مثلاً: مضارب جو خود سرمایہ کاری نہیں کرتا، صرف رب المال (Investor) یا سرمایہ کار کے سرمائے سے تجارت کرتا ہے وہ حقیقی نفع میں شریک ہوتا ہے۔ اگر وہ یہی کام مخصوص اجرت یا تنخواہ لے کر کرنا چاہے تو اس حساب سے معاہدہ کرکے متعین اجرت کا مستحق ہو سکتا ہے۔