خرید وفروخت کے وقت بائع (Seller)اور مشتری (Buyer)کو کچھ اختیارات حاصل ہوتے ہیں، قبل ازیں آپشنز کی پہلی قسم ’’خیار شرط‘‘ کا بیان ہو چکا۔ یہاں بقیہ تین ذکر کرتے ہیں۔
خیار ِ وصف:
اگر بیع میں عقد کے وقت بائع نے مبیع کے اندر کوئی اچھی اور مرغوب وصف یا کوالٹی بیان کی اور اس وصف کے موجود ہونے کی شرط پر مشتری نے اسے خرید لیا

تو یہ جائز ہے، البتہ اگر بعد میں پتہ چلا کہ اس میں درحقیقت وہ وصف موجود نہیں ہے تو مشتری کو اس بیع کو فسخ (ختم)کرنا جائز ہوگا، مثلا: بائع نے بکری فروخت کی اور یہ کہا کہ یہ دودھ دیتی ہے، بعد میں پتہ چلا کہ وہ دودھ نہیں دیتی تو مشتری یہ بیع فسخ کرسکتا ہے۔ تاہم اس وصف کے نہ پائے جانے کی بنا پر قیمت میں کمی نہیں کی جاسکتی، مشتری کو اختیار ہوگا کہ چاہے تو اس بیع کو فسخ کردے یا اسی قیمت پر اسی طرح رکھ لے۔ ہا ں! البتہ اگر مشتری نے اس چیز کو چیک کیے بغیر استعمال کرلیا اور وہ واپسی کے قابل نہ رہی تو پھر اس وصف مرغوب والی چیز اور بغیر وصف والی چیز کی قیمت کا فرق بائع سے وصول کرسکتا ہے۔البتہ اگر کوئی ایسا وصف بیان کیا جسے فورا چیک نہیں کیا جاسکتااور اس وصف کے پائے جانے کی شرط پر اس نے اسے خریدا ،مثلا: یہ کہ یہ بکری حاملہ ہے۔تو اس قسم کی شرط نہیں لگائی جاسکتی۔
خیار رؤیت:
کسی چیز کو دیکھے بغیر خریدنا جائز ہے۔اور سودا ہونے کے بعد خریدار کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ چیز دیکھنے کے بعد پسند نہ آنے کی صورت میں سودا ختم کردے۔ اگرچہ دیکھنے سے پہلے اس نے زبانی طور پر رضامندی کا اظہار کردیا ہو اور اگرچہ فی الحال اس میں کوئی عیب بھی موجود نہ ہو۔ لیکن فروخت کرنے والے کو چیز دیکھنے کے بعد سودا ختم کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہوتا ہے۔ خریدار چیز دیکھنے سے قبل بھی سودا ختم کرسکتا ہے۔ اسے خیار رویت کہا جاتا ہے۔ خریدار چیز دیکھنے سے پہلے بھی سودا ختم کر سکتا ہے۔
دیکھنے کے لیے اتنا کافی ہے کہ اگر وہ چیز جس مقصد کے لیے بنائی گئی ہے اسے دیکھ لے یا عرف کے مطابق اس کو دیکھنا سمجھا جائے ، اس حد تک دیکھ کر اگر مشتری اپنے خیار کے تحت بیع کو فسخ کردے تو یہ جائز ہے۔ اس سے زائد دیکھنا خیار کو باقی رکھنے کے لیے ضروری نہیں ہے۔ بائع کا اگر وکیل خریدے اور وہ اس چیز کو دیکھ لے تو بائع کو خیار حاصل نہیں رہتا۔
خیار رؤیت کے لیے کوئی مدت مقر رنہیں ہے۔ خریدار کو چیز دیکھنے کے بعد سودا ختم کرنے کا اختیار حاصل رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اس اختیار کو ختم کردے ۔البتہ مشتری دیکھنے کے بعد اگر اسے استعمال کر لے یا اس میں کوئی ایسا عیب پیدا کردے کہ جس کی وجہ سے اس چیز کو واپس کرنا مشکل ہوجائے یا زبان سے اس چیز پر رضامندی کا اظہار کردے تو ان تمام صورتوں میں خیار رویت ختم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر خریدار نے چیز کو دیکھنے سے قبل فروخت کردیا یا گروی رکھوادیا یا کرائے پر دے دیا تو ان سے بھی خیار رویت ختم ہوجاتا ہے۔ خریدار کی موت سے بھی یہ خیار ختم ہوجاتا ہے اور اس کے وارث کی طرف منتقل نہیں ہوتا ہے۔ اس خیار رویت کے باوجود مشتری اس مبیع کا مالک بن جاتاہے۔ البتہ خیار کی وجہ سے اسے دیکھنے سے پہلے یا دیکھ کر فسخ کرسکتا ہے۔ اوربیع ختم کرنے کے لیے صرف بائع کو مطلع کرنا کافی ہے۔ قاضی کی عدالت سے ختم کرانا ضروری نہیں۔
خیارِ عیب:
بائع کی ذمہ داری ہے کہ وہ مشتری کو مبیع بغیر کسی عیب کے دے۔ تاہم اگر مبیع میں کوئی عیب ہو تو بائع کو چاہیے کہ وہ مشتری کو بیع کے وقت اس عیب کے بارے میں بتلائے۔ لیکن اگر اس نے نہیں بتلایا اور مشتری کو اس نے فروخت کردیا تو وہ گناہ گار ہوگا۔ ایک حدیث میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’اگر کسی نے کوئی عیب دار چیز عیب بتلائے بغیر فروخت کردی تو وہ اللہ تعالی کی ناراضگی میں رہتا ہے اور فرشتے بھی اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔‘‘
نیز حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’جس نے ہم (مسلمانوں)کو دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘
مشتری نے اگر کوئی چیز خریدی اور اس میں کوئی ایسا عیب پایا جو تاجروں کے عرف میں عیب اور نُقص شمار ہوتا ہے تو مشتری کو یہ اختیار ملتا ہے کہ چاہے تووہ اس بیع کو فسخ کردے ۔ یہ اختیار مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ ملتا ہے:
٭ مبیع میں وہ عیب بائع کے پاس ہی سے ہو ۔ مشتری کو اس عیب پر اطلاع نہ خریدتے وقت ہوئی ہو اور نہ قبضہ کرتے وقت۔
٭بائع نے بیع کے وقت تمام عیوب یا اس عیب سے اپنے بری ہونے کا اظہار نہ کیا ہو، مثلا: یہ نہ کہا ہو کہ میں یہ چیز ’’جیسی ہے جہاں ہے‘‘ (As is Where is)کی بنیاد پر فروخت نہ کیا ہو، لیکن اگر اس نے بیع کے وقت یہ الفاظ استعمال کرلیے تو پھر مشتری کو یہ اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ ٭ عیب آسانی سے ختم کرنا ممکن نہ ہو ۔خریدنے کے بعد مشتری نے اس میں کوئی ایسا عیب پیدا نہ کردیا ہو کہ اب وہ بائع کے لیے واپس لینا نا ممکن ہو جائے۔
٭ خریدار نے اس عیب پر باوجود مطلع ہونے کے اس پررضامندی کا اظہار نہ کیا ہو۔ خیارِ عیب میں بائع سے مشتری اس عیب کے بدلہ کسی قیمت کا مطالبہ نہیں کرسکتا، اگر وہ لینا چاہے تو پوری قیمت ادا کرکے لے ورنہ اسے واپس کردے۔ البتہ اگر بائع اس کو اپنی طرف سے اس عیب کی وجہ سے کوئی رقم ادا کردے یا ثمن میں سے کچھ واپس یا معاف کردے تو یہ جائز ہے۔