تیس کی دہائی میں امریکا معاشی بحران کا شکار ہوا۔ بے شمار لوگ، ادارے اور کمپنیاں دیوالیہ ہو گئیں۔ لاتعداد جائیدادیں ضبط کر لی گئیں۔ کارخانے دھڑا دھڑبند ہونے لگے۔ جلتے چولہے بجھنے لگے۔ بہت سے لوگ مایوس ہو کر گھروں میں بیٹھ گئے۔ ایسے میں ایک صاحب کو کاکولا کمپنی کے پاس گئے اور پیشکش کی کہ اگر انہیں منافع کا ایک فیصد دیا جائے تو وہ کمپنی کو اربوں کا نسخہ بتا سکتے ہیں۔ اس وقت کوکا کولا سوڈا واٹر کی طرح گلاسوں میں پیا جاتا، خریدا جاتا اور فروخت کیا جاتا تھا۔

کمپنی نے ان کی بات مان لی اور تجویز پر عمل کرتے ہوئے مشروب کو گلاسوں سے اٹھا کر بوتل میں بند کر دیا۔ یوں ایک اچھی تجویز کے نتیجے میں کمپنی کے ساتھ ساتھ اس شخص نے اربوں ڈالر کمائے۔
جارج سیاہ فام امریکی تھا۔ اس نے شگاگو میں پرورش پائی۔ جہاں وہ ایک حجام کی دکان پر جوتے پالش کیا کرتا تھا۔ ایک دن ایک شخص جوتے پالش کروانے آیا۔ جارج نے اس سے اس کے پیشے کے بارے میں دریافت کیا۔ جواب ملا کہ وہ کیمسٹ ہے۔ جارج نے اس سے ایسی دوا تیار کرنے کی درخواست کی، جو اس کے پُرپیچ اور گھنگریالے بالوں کو سیدھا کردے۔ کیمسٹ نے اس کی گزارش قبول کی اور مطلوبہ دوا بنا کر جارج کے حوالے کر دی۔ جارج وہ دوا اپنے بالوں پہ لگاتارہا۔ جس سے اس کے سخت، کھردرے، بدنما اور گھنگریالے بال ملائم، چمکدارو دلکش ہو گئے۔ اس نے کیمسٹ سے مذکورہ دوا کا نسخہ لیا۔ اسے اپنے طور پربنایا اور ’’الٹرا شفین‘‘ نام دے دیا۔ بعد ازاں جارج نے چند سیلزمینوں اور سپلائرزگروپ کی خدمات حاصل کیں۔ جس سے ’’الٹراشفین‘‘ ریاست کے کونے کونے تک پہنچی۔ یوں جارج نے اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر، ایک روایتی کام کو نئی جہت اور الگ رخ دے کر لاکھوں ڈالرز کے اثاثے کما لیے۔
زندگی کے دیگر شعبوں اور پہلوؤں کی طرح اگر تجارت کے میدان میں مشکلات و مصائب راستے کی رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس صورت حال میں گھبرانے کے بجائے اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں کو کام میں لایا جائے اور مختلف امکانات پر غور کیا جائے، ان شاء اللہ ضرور کچھ نہ کچھ سبیل بن جائے گی۔