احکام شرع اور درہم اور دینار:
اسلام کے خیر القرون میں کاغذی کرنسی کا تصور نہیں ملتا، بلکہ زمانہ قریب میں سلطنت عثمانیہ کے آخری دور تک بھی یہ مروج نہیں ہو سکی تھی، اسلام کے ابتدائی دور سے لے کر ماضی قریب تک سونے، چاندی کے سکے یعنی درہم ودینار ہی بطور کرنسی استعمال ہوتے رہے ہیں، ان کا ذکر قرآن و حدیث میں بھی آیا ہے اور فقہا نے بھی ان کی اہمیت اور ان کے ذریعے لین دین کے تفصیلی احکام بیان فرمائے ہیں۔

عرب لوگ دینار کو’’عین‘‘ اور چاندی کے درہم کو ’’ورق‘‘ کہا کرتے تھے، درہم ودینا ر اسلام سے قبل اور اسلام آنے کے بعد عربوں میں زیراستعمال رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح 480 درہم مہر کے عوض کیا۔ آپ علیہ السلام کے دور میں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بازنطینی اور چاندی کے ساسانی سکے جاری رہے، جن کا تناسب اس طرح تھا کہ دینار وزن میں 10 درہموں کے مساوی ہوتے تھے اور ایک درہم3.06 گرام کا جبکہ ایک دینار4.374گرام کا ہوتا تھا۔
خلافت راشدہ کے دور میں دار الضرب (ٹیکسال) موجود تھا اس میں سکے ڈھالے جاتے تھے، سونے چاندی کے قسم قسم کے سکے موجود تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فارس حکومت کے طرز پر دارالضرب قائم کیا، بعض سکوں پر ’’الحمد للہ‘‘ اور بعض پر ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے نقش کا اضافہ کیا۔ اسی طرح ان کے زمانہ میں 10 درہم کا مجموعی وزن 6 مثقال کے برابر ہوا کرتا تھا۔ (اسلام کا اقتصادی نظام،ص:473شیح الہند اکیڈمی کراچی)
درہم ودینار کا مسلسل استحکام:


٭… دینار ودرہم کی قیمت میں استحکام پایا جاتا ، جبکہ کاغذی زر کسی بھی صورت اپنی قیمت برقرار نہیں رکھ سکتا ٭… تاجر برادری سونے چاندی کی فطری کرنسی کو رواج دینے میں کردار ادا کریں ٭

نبی پاک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے کچھ عرصہ بعد مسلمانوں میں زر کے جو معیاری سکے وجود میں آئے، ان میں دینار4.374گرام سونے کا تھا اور درہم3.018 گرام چاندی کا تھا۔ اکتوبر2011ء کے اوائل کی قیمتوں کے مطابق دینار تقریبا دو سو اٹھارہ امریکی ڈالر اور درہم تقریبا سوا تین امریکی ڈالر کا تھا۔ یہ قدری تعین ایک اہم نکتہ نظر پہ لاتا ہے، مگر اکثر طور پر نظر انداز کیا گیا۔ اگر سونے اور چاندی کو قدر کے پیمانے کے طور پر استعمال کیا جاتا تو مکہ اور مدینہ کی14سو سال پیشتر کی قیمتیں آج کی قیمتوں سے زیادہ مختلف نہ ہوتیں۔ چنانچہ اس سلسلے میں زر کا موازنہ پیش کیا جارہا ہے۔
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھیڑخریدنے کے لیے ایک دینار دیا۔ حضرت عروہ نے آپ کے لیے اتنے پیسوں سے دو بھیڑ یں خریدیں۔ پھر انہوں نے ایک بھیڑ ایک دینار میں بیچ دی اور ایک بھیڑ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ اس پر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارت میں برکت کی دعا دی، چنانچہ حضرت عروہ ہر سودے میں ہمیشہ ہی نفع کمایا کرتے تھے،خواہ وہ سودا مٹی کا ہی کیوں نہ ہو۔(صحیح البخاری: 1332/3)
اب صورت حال یہ ہے کہ آج بھی ایک دینار کی مقدار کے برابر سونے سے ایک بھیڑ خریدی جا سکتی ہے اور اگر کوئی تھوڑی زیادہ کوشش کرے تو اس سے دو بھیڑیں بھی خریدی جا سکتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ دینار ودرہم کی قیمت میں مسلسل استحکام پایا جاتا ہے، جبکہ کاغذی زر کبھی اور کسی بھی صورت میں اپنی قیمت برقرار نہیں رکھ سکتا اور روز بروز انحطاط کا شکار ہوتا ہے۔1947ء سے 2011ء تک کا افراط زر کا اشاریہ بنایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ روپے کی قدر انتہائی تیزی سے کم ہوئی۔
مندرجہ بالا سے کرنسی نوٹوں کے نقصانات جبکہ اس کے مقابلے میں درہم ودینار کی اہمیت وافادیت واضح ہوئی۔ اس ضرورت کا احساس بھی بیدار ہوا کہ امت مسلمہ میں دوبارہ اسلامی نقدی ’’درہم ودینار‘‘ کا اجرا اور اسے فروع دیا جائے۔ بحمدہ تعالیٰ اس سلسلہ میں بعض اصحاب بصیرت نے گرانقدر خدمات سر انجام دی ہیں، اسلامی نقدی کے احیا کے لیے باضابطہ کوششیں کی ہیں۔ ذیل میں ان کاوشوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
درہم و دینار کی کرنسی کی طرف ایک قدم:
ملائشیا 2003ء کے وسط سے اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ دنیا کہ کچھ ملکوں کے ساتھ اپنی برآمدات ڈالر کے بجائے سونے کی اسلامی دینار میں کرے۔ یہ کوشش اسلامی ممالک کے لیے اسلامی دینار کو مشترک اسلامی نقدی بنانے کی ابتدا بن سکتی ہے۔ مغربی صحافت نے اس اقدام کو ’’اسلامی نقدی بم‘‘ سے تعبیر کیا ہے جو کہ ایٹم بم سے زیادہ ہلاکت خیز ہے۔ اس لیے کہ اس کی کامیابی کی صورت میں امریکی ڈالر کی اجارہ داری و برتری ختم ہو جائے گی۔.
ملائشیا میں سونے کے پہلے اسلامی طلائی دینار کی ابتدا 1991ء میں ہوئی ۔جس کا وزن4.25گرام اور وہ 22کیرٹ کے سونے کا تھا۔ اس کے بعد2001ء میں بھی 22کیرٹ سونے کے 4.25 گرام کے یہ سکے جاری کیے گئے ۔اس کے بعد مختلف حجم کے اسلامی طلائی دینار ونقرئی درہم جاری ہو کر رواج اختیار کرچکے ہیں اور لوگ ان کی افادیت کو محسوس کرنے کے ساتھ ان کے فوائد سے بھی مستفید ہو رہے ہیں اور سونے وچاندی کے یہ سکے تیزی سے مقبول عام ہورہے ہیں۔
انڈونیشیا میں 1992ء سے دینار ودرہم کے اجرا کا کام شروع ہوا اور 2000ء میں سونے کے دینار اور چاندی کے درہم ڈھالنا شروع کر دیے گئے۔ شروع میں پانچ درہم کا سکہ ڈھالا گیا۔ اب نصف دینار، دو دینار اور ایک درہم، دو درہم کے سکے ڈھالے جا رہے ہیں۔ انڈونیشیا میں ڈھالے گئے ان درہم و دینار پر دو مشہور مساجد کی تصویریں اور مکہ و مدینہ کی تصویریں بھی کندہ کی جا رہی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ دس، گیارہ سال گزرنے کے باوجود ان سکوں کی قیمتوں میں استحکام ہے بلکہ ان کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔2000اور 2002ء میں ایک درہم 37امریکی ڈالر کا تھا جو2009ء میں47 ڈالر کا ہوچکا تھا۔
متحدہ عرب امارات میں تجارتی اغراض ومقاصد کے لیے تین اداروں کے تعاون سے خالص چاندی کے اسلامی درہم کا اجرا ہوا، جس کا وزن 3گرام رکھا گیا۔
گرتی پاکستانی کرنسی کا موثر حل:
سو، بہت مناسب ہو اگر تاجر برادری سونے چاندی کی صورت میں ایک فطری کرنسی کو رواج دینے اور اس کے فروغ میں کردار ادا کریں۔ تاکہ اسلامی نظام معیشت کا ایک کامیاب مظہر اور ڈالر کے مقابلے میں مسلسل افراط زر اور گرتی پاکستانی کرنسی کا ایک موثر حل سامنے آ سکے۔