اسلام کے دین فطرت ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے تمام مسائل کا کامیاب حل پیش کرے۔ چودہ صدیاں اس پر شاہد عدل ہیں کہ اسلام نے اس کا ثبوت کس خوبی اور خوبصورتی سے دیا۔ اسلام کی موجودگی میں عقل کے لنگڑے گھوڑے پر سوار ہوکر فلسفہ حیات پیش کرنے والے کئی نظام آئے اور اپنی موت آپ مرے۔ اسلام کا اقتصادی نظام ہر طرح کے معاشی بحران سے صرف شفاف ہی نہیں، بلکہ دیگر نظاموں کے

باعث بگڑ جانے والی صورت حال سے نکلنے کا واضح راستہ بھی بتاتا ہے۔ ضابطہ ہے ’’اشیا اپنی ضد اور الٹ سے پہچانی جاتی ہیں۔‘‘ مذکورہ بالا نکتے کو سمجھنے کے لیے پہلے اس وقت اسلامی نظام سے متصادم دو معاشی نظاموں ’’اشتراکیت اور سرمایہ دارنہ نظام‘‘ کا مختصر تعارف ذکر کرتے ہیں۔ اس کے بعد اسلام کا معتدل نظامِ معیشت، اغیار کے اعتراف کے ہمراہ پیش کیا جائے گا۔
اشتراکی نظام:
اشتراکی نظام نے جو فلسفہ پیش کیا اس کی بنیادی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے کہا: معیشت کے جتنے بھی مسائل ہیں ان سب کا حل یہ ہے کہ تمام وسائلِ پیداوار قومی ملکیت میں لے کر ان کی منصوبہ بندی کی جائے، حالانکہ یہ ایک استبدادی طریقہ تھا جس میں فرد کی آزادی بالکل سلب ہو جاتی تھی۔ جب آزادی سلب ہو جائے اور آدمی کو مجبور کر دیا جائے تو وہ اپنے ذوق و شوق سے محنت نہیں کرتا اور کام سے کتراتا ہے۔ یہ ایک قدرتی امر ہے کہ جب کسی شخص کا ذاتی مفاد کسی چیز سے وابستہ ہوتا ہے تو اس سے اس کی دلچسپی بڑھ جاتی ہے ، اگر ذاتی مفاد وابستہ نہ ہو تو دلچسپی اس درجہ برقرار نہیں رہتی۔ فائدہ ہو یا نقصان اسے اس کی پروا نہیں ہوتی۔ وہ کیوں اس کے اندر محنت زیادہ کرے۔ سامان زیادہ بک رہا ہے یا کم۔ دونوں حالتوں میں تنخواہ وہی ملتی ہے جو مقرر ہے۔ اس واسطے وہ گاہکوں کو متوجہ کرنے لیے یا گاہکوں سے زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی فکر نہیں کرتا۔ اس قسم کے ملازموں اور شہریوں کے ہاتھوں ترقی تنزلی میں بدلتی رہی۔ 74 سال تک جس ملک پر اشتراکیت کا تسلط قائم تھا وہیں، دفن ہو کر اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔ سرمایہ دارانہ نطام


٭…اسلامی نظام معیشت میں افراط ہے نہ تفریط، انسان کو کمانے کی آزادی دی گئی ہے توکچھ حدود و قیود بھی لگائی ہیں ٭…تجارتی تجزیہ کا رایّما وینڈر نے کہا: عالمی بینکاری اسلامی اصولوں پر ہوتی تو ہم بھیانک بحران نہ دیکھتے ٭

سرمایہ دارانہ نظام معیشت کے بنیادی تین اصول ہیں: ایک، انفرادی ملکیت کا احترام۔ دو، منافع کمانے کے لیے لوگوں کو آزاد چھوڑنا۔ تین، حکومت کی طرف سے عدم مداخلت۔
اس نظام کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ ذاتی مفاد حاصل کرنے کے لیے انسان کو اس طرح آزاد چھوڑ دو کہ وہ جس طرح چاہے نفع کمائے۔ اس پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں کی گئی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب منافع حاصل کرنا مقصود ہو تو جو بھی طریقہ چاہو استعمال کرو، چاہے حلال ہو یا حرام، سود کے ذریعے سے ہو یا قمارسے۔ غرض جس طرح بھی تمہیں منافع ملے، کماؤ۔ کوئی اخلاقی پابندی ہے نہ قانونی۔
اسلامی نظام معیشت
اسلامی نظام معیشت میں افراط ہے نہ تفریط۔ جہاں انسان کو کمانے کی آزادی دی گئی ہے وہاں کچھ حدود و قیود بھی وضع کیے ہیں۔اسلام کا اصل امتیاز یہ ہے کہ اس نے حلال و حرام کی تفریق قائم کی کہ نفع کمانے کا یہ طریقہ حلال ہے اور یہ حرام۔اسلامی نظام معیشت میں تین قسم پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
1 حلال و حرام کی پابندیاں: حلال و حرام کی پابندیوں سے وہ چیزیں مراد ہیں جن کو اسلام میں حرام قرار دیا گیا ہے، مثلاً: سود، قمار، سٹہ، بیع قبل القبض وغیرہ۔ اگر ان پر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس کی وجہ سے ان چور دروازوں کو بند کر دیا گیا ہے جہاں سے سرمایہ دارانہ نظام کی لعنتیں شروع ہوتی ہیں۔ 2 حکومتی پابندیاں: بعض دفعہ معاشرے میں غیر معمولی قسم کے حالات پیدا ہوتے ہیں جن میں حلال و حرام کی پابندیاں کافی نہیں۔ معاشرے میں توازن کو بر قرار رکھنے کے لیے اسلامی حکومت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ کچھ مباحات پر بھی پابندیاں عائد کر دی جائیں تاکہ معاشرہ میں توازن برقرار رہے۔
3 اخلاقی پابندیاں:جب آدمی کے پیش نظر یہ ہو کہ دنیا ایک عارضی ٹھکانہ، جبکہ اصل کامیابی آخرت کی ہے تو اسے بہت ساری جائز چیزوں سے بھی انسان کو رکنا پڑتا ہے، ایسی پابندیاں اخلاقی پابندیاں کہلاتی ہیں۔
اغیار کا اعتراف:
اسلامی نظام معیشت کی جامعیت اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کا اعتراف اغیار نے بھی کیا ہے۔ دو مثالیں ملاحظہ کیجیے۔
فورٹن روز میں اسلامک فنانس کے سربراہ اور حکومت برطانیہ کے ایک مشیر ’’فیل ملر‘‘ کہتے ہیں: ’’اسلامک فائنانس اس طرز عمل کا مظاہرہ نہیں کرتی جو آج سے دس سال یا کچھ پہلے تک ایک اچھا بینکاری رویہ سمجھا جاتا تھا۔ اسلامک بینکنگ اپنے گاہکوں سے قریبی تعلق رکھنے کی قائل ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نظام کے ذریعے ہم صرف حقیقی معاملات میں حصہ لے سکتے ہیں جہاں ہم اثاثے کو خود دیکھ سکیں، سمجھ سکیں اور اس کے بارے میں درست اندازہ لگا سکیں۔ چاہے کسی بحری جہاز کو فائنانس کرنے کا معاملہ ہو، یا ہوائی جہاز کا، باقاعدہ جا کر جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس طرز عمل سے رہنمائی ملتی ہے کہ بینکاری کو کیسا ہونا چاہیے۔‘‘
تجارتی صحافت سے وابستہ ایک تجزیہ نگار ’’ایّما وینڈر‘‘ نے اپنے ایک مضمون میں اسی بات کا ایک مختصر سا جائزہ لیا ہے کہ اسلامک فائنانس کیا ہے؟ اور وہ کس طرح بحران سے نسبتاً محفوظ رہا۔ وہ لکھتے ہیں: ’’شریعت یا اسلامی قانون کے مطابق فائنانس کے ما تحت تقریباً 700 ارب ڈالر کے اثاثے ہیں، اور یہ ’’موڈیزانوسٹر سروس‘‘ کے مطابق دس سے تیس فیصد سالانہ شرح سے ترقی پا رہی ہے۔ یہ طریقہ ان حکومتوں کو بہت تنزلی سے اپنی طرف متوجہ کر دیتا ہے جو نقد کی قلت کی شکار اپنی معیشتوں کو اسلامی دنیا کے سرمائے کے ذریعے تازہ ایندھن فراہم کرنے کی شدید خواہش رکھتی ہیں۔ اسلامی فائنانس اگرچہ خلیج فارس اور ایشیا کے مسلم اکثریتی حصوں، مثلاً: انڈونیشیا، ملائشیا وغیرہ کو اپنا مرکز بنائے ہوئے ہے، لیکن یہ شمالی افریقہ اور یورپ میں بھی پھیل رہی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا: ’’اگر عالمی بینکاری کی سرگرمیاں اسلامی اصولوں کی بنیادوں پر ہوتیں تو ہم وہ بحران نہ دیکھتے جس کو ہم اس وقت سہہ رہے ہیں۔‘‘