اسٹیج پر تین کامیاب ترین کاروباری شخصیات بیٹھی تھیں۔ تینوں نے اپنی اپنی بزنس اسٹوری سنائی۔ سامنے بیٹھنے والے بھی معمولی لوگ نہیں تھے۔ ٹیکنالوجی پڑھانے والے اداروں سے وابستہ اساتذہ IBA کی ایک ورکشاپ میں جمع تھے۔ توقع کی جارہی تھی کہ وہ تینوں اپنی فول پروف منصوبہ بندی کا ذکر کریں گے۔ مالی وسائل حاصل کرنے کی تکنیک کے گن گائیں گے ۔ یا ہو سکتا ہے مارکیٹنگ کی صلاحیت کو کامیابی کا راز قرار دیں۔ یہ بھی ممکن ہے وسیع نیٹ

ورک تک رسائی کو اپنی کاروباری مہم کا اثاثہ قرار دیں، لیکن شرکائے محفل کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب ان تینوں کامیاب کاروباری حضرات کی گفتگو میں جگہ جگہ نصیب، لک(Luck)اور اللہ تعالی کی مدد کے الفاظ مسلسل سنائی دیے جانے لگے۔


حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حق فرمایا کہ میں نے اپنے ارادوں کی ناکامی سے اپنے رب کو پہچانا۔ تو خلاصہ یہ کہ انسان کی بہتر سے بہتر انداز میں کی گئی محنت بھی اسی وقت رنگ لاتی ہے جب اللہ تعالی بھی اسے نوازنا چاہیں، لہذا ان معروضات کا یہ مقصد نہیں کہ منصوبہ بندی اور پیشہ ورانہ طریقہ چھوڑ دیا جائے۔ صحیح اور معیاری طریقوں سے کام کرنا تو سنت ہے۔ ہاں! اس کے بعد بھی نتائج میں اللہ تعالی کی قدرت ہی کو دخل ہو تا ہے۔

 سامعین نے بہت دفعہ کوشش کی کہ کسی طرح یہ کاروباری حضرات منصوبہ بندی (Planning) اور اپنی صلاحیتوں کا بھی کچھ اظہار فرمائیں، لیکن کوئی کامیابی نہ ہوئی۔ ایک خاتون لیکچرر نے تو صاف الفاظ میں کہا کہ میں آپ کی بات سے اتفاق نہیں کرتی۔ آپ lucky نہیں ہیں، بلکہ آپ نے آس پاس موجود وسائل اور امکانات کو وقت پر اور درست انداز سے استعمال کیا ہے۔ اس واضح اختلاف رائے کے باوجود ان عملی طور پر کامیاب افراد کے چہرے کے تاثرات نہ بدلے۔ ان میں سے ایک نے مسکرا کر کہا : ہاں! ہوتا تو یہی ہے، لیکن ہم اب بھی یہ دعوی نہیں کرتے کہ ہم ہمیشہ ایسا کرسکیں گے۔ (گویا اصل مدار تو بہر حال نصیب اور اللہ تعالی کی چاہت پر ہی ہوا۔) دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تینوں کاروباری شخصیات عرف عام میں دیندار نہیں تھیں۔ یعنی نہ ان کی ڈاڑھی تھی اور نہ ہی ان کا لباس مشرقی یا اسلامی تھا، لیکن ایک ایک کلمہ توکل اور اللہ تعالی کی معرفت سے بھرا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ پھل دار شا خ کی طرح جھکے ہوئے متواضع کاروباری حضرات کی زبان سے نکلے الفاظ آج بھی کانوں میں رس گھول رہے ہیں۔

خیر! یہ تو مسلمان تاجر تھے۔ حیرت اس وقت ہوئی جب ایک ہندو کاروباری شخصیت نے اپنی کامیابی کی وجہ اللہ تعالی(God)کی چاہت کو بیان کیا۔ یہ ہندو مشہور انڈینIT کمپنیDaksh کا سی ای او سندیپ تھا۔ اللہ تعالی نے بھی قرآن کریم میں یہ بات واضح طور پر بیان فرمائی ہے :

وما تشاؤن الاان یشاء اللّٰہ '

کہ تمہاری چاہت اس وقت تک مؤثر نہ ہوگی جب تک اللہ کی چاہت بھی شامل حال نہ ہو جائے۔ کتنے لوگ منصوبے بناتے ہیں اور کتنے کامیاب ہوتے ہیں؟ کتنی خواہشات کی جاتی ہیں اور کتنے ارمان پورے ہوتے ہیں؟ تعلیم والے بے روزگار پھرتے ہیں، کتنے شادی شدہ بے اولاد رہتے ہیں؟ کیا چیز آڑے ہے؟ یہ اللہ کی چاہت ہی تو ہے۔ یہ بات ہمیں قرآن کی زبانی سمجھ نہیں آتی، حالانکہ دنیادار تاجر بلکہ ہندو تاجر بھی اپنے تجربے سے اس نادیدہ طاقت کو محسوس کر رہا ہے جس کے قبضہ قدرت سے کوئی باہر نہیں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حق فرمایا کہ میں نے اپنے ارادوں کی ناکامی سے اپنے رب کو پہچانا۔ تو خلاصہ یہ کہ انسان کی بہتر سے بہتر انداز میں کی گئی محنت بھی اسی وقت رنگ لاتی ہے جب اللہ تعالی بھی اسے نوازنا چاہیں، لہذا ان معروضات کا یہ مقصد نہیں کہ منصوبہ بندی اور پیشہ ورانہ طریقہ چھوڑ دیا جائے۔ صحیح اور معیاری طریقوں سے کام کرنا تو سنت ہے۔ ہاں! اس کے بعد بھی نتائج میں اللہ تعالی کی قدرت ہی کو دخل ہو تا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو واضح الفاظ میں حکم دیا: ''اعملوا کل میسر لماخلق لہ'' مطلب یہ کہ ٹھیک ہے نصیب اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے، لیکن نتائج حاصل کرنے کا طریقہ پھر بھی یہی ہے کہ عمل کرتے رہو۔ تم میں ہر شخص کے لیے وہ نتیجہ آسان کر دیا جو اللہ تعالی نے اس کے لیے طے کردیا ہے۔

کوشش کے ساتھ، دعااور نیک کام جن سے نصیب کی رکاوٹیں دور ہوتی ہیں، کیے جاتے رہیں تو امید ہے نصیب اچھا ہی رہے گا۔