٭۔۔۔۔۔۔Wal-Mart کی سہولت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر بہت سے لوگ چیزیں واپس کرتے ہیں، مگر وہ اس سے ملنے والے متعدد کاروباری فوائد کے لیے یہ سب کچھ برداشت کرتے ہیں
٭۔۔۔۔۔۔سودے کی واپسی کے جس عمل کوہم مشکل سمجھ رہے ہیں، وہ مغرب میں ''کاروباری راز'' کی حیثیت اختیار کر چکا ہے
کپڑا خریدے دو ماہ ہو چکے تھے۔ آج بیگم نے کھول کر دیکھا تو اسے اپنے معیار کا نہ پایا۔ کہنے لگیں: ''یہ واپس کر آئیں۔ ''

 


آج کے زمانے میں خریدی ہوئی چیز واپس لے لینا۔ واقعتا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ یہ رویہ یا تو وہ اختیار کرے گا جو یا تو اس عمل پر اخروی ثواب کی امید رکھتا ہو۔ 

میں نے کہا :''بھئی دو ماہ ہو چکے۔ اب واپس نہیں ہوگا۔''
بیگم صاحبہ نے اپنی انٹیلی جنس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے یقین سے کہا:''یہاں واپس ہوجاتاہے۔''
میں نے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا: ''اچھا چلو رسید دے دو، میں سوچتا ہوں۔''
اہلیہ نے حیرت کا دوسرا جھٹکا دیتے ہوئے کہا: ''رسید بھی گم ہوگئی، لیکن واپس ہوجائے گا۔''
میں پڑھائی کے سلسلے میں امریکا آیا ہوا تھا اور میرے لیے یہ بیگم کا نکتہئ نظر قابل قبول نہیں تھا۔ میں نے تو پاکستان کی دکانوں پر لکھا دیکھا ہے، خریدی ہوئی چیز واپس یا تبدیل نہیں ہو گی۔مجھے تو چند منٹ بعد واپس کرنے پر بھی کوئی ایسا واقعہ یاد نہیں آرہا کہ دکان دار نے اُسی خوش دلی سے چیز واپس لے لی ہو، جس خوش دلی کا مظاہرہ وہ بیچنے کے موقع پر کر رہا تھا۔ خیر! میں نے کہا کہ یہ کام تم ہی کر کے دکھاؤ۔ ہم دونوں Wal-Mart پہنچ گئے۔
کاؤنٹر پر موجود خاتون نے پہلے رسید مانگی۔ پھر مختلف زبانی معلومات کے ذریعے کمپیوٹر سے اس خرید و فروخت کا پتہ لگایا اور مسکراتے ہوئے کہا: ''جی ہاں! آپ نے فلاں تاریخ کو یہ کپڑا ہمارے اسٹور سے خریدا تھا۔ آپ تبدیل کروانا چاہیں گے یا کیش؟ ''
''کیش۔'' میں نے جواب دیا۔
اس خاتون نے مسکراتے ہوئے پوری رقم واپس کردی اور کہا! Nice Shopping''۔ ''
یہ پاکستان میں اکاؤنٹنگ اور فائنانس کے ایک نامور ڈاکٹر کی کہانی ہے، جسے سن کر مجھے لگاجیسے خیرالقرون کا کوئی واقعہ سن رہاہوں۔
آج کے زمانے میں خریدی ہوئی چیز واپس لے لینا۔ واقعتا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ یہ رویہ یا تو وہ اختیار کرے گا جو یا تو اس عمل پر اخروی ثواب کی امید رکھتا ہو۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے معاشرے میں یہ عمل معمول کا حصہ تھا۔ ان کے سامنے آ پ صلی اﷲ علیہ وسلم کا قول تھا: ''جس نے کسی خریدے ہو ئے سامان کو (بلا بحث و مباحثہ اللہ تعالی کو راضی کرنے کے لیے)واپس لے لیا تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس کے گناہ مٹا دیں گے۔''دوسرا وہ شخص یہ رویہ اپنا سکتا ہے جو اس رویے کے در پردہ مالی فوائد کو سمجھ سکے۔Wal-Mart والے، ظاہر ہے گاہک سے چیز ثواب کی نیت سے واپس نہیں لیتے۔ یہ ان کے کاؤنٹر کے لوگ چیز واپس ہونے پر کسی عقیدے کے پیش نظر مسکراتے ہیں۔ ان کی مسکراہٹ، ان کے نپے تلے الفاظ اور ان کے رویے تو باقاعدہ ان کی تربیت کا حصہ ہوتے ہیں، تاکہ گاہک بڑی تعداد میں خریداری کرنے آئیں اور ادارے کی ساکھ بہتر ہو۔ حد تو یہ ہے کہ وہ واپسی کی وجہ اور مدت بھی نہیں دیکھ رہے۔ یہ سب کچھ وہ دنیا کے مفادات کی خاطر انتہائی گہری تحقیق کے بعد کرتے ہیں۔ ظاہر ہے اتنی فراخ دلی جب دکھائی جائے گی تو کچھ لوگ اسے غلط ضرور استعمال کریں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی غور کر رکھا ہے۔ چنانچہ کرسمس کے بعدWal-Mart کے باہر ایک طویل قطار سامان واپس کرنے والو ں کی لگتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کرسمس کے لیے جوتے، کپڑے اور ٹائی وغیرہ لے جاتے ہیں اور چند دن استعمال کر کے اس پیشکش کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے واپس کر دیتے ہیں۔ لیکن وال مارٹ میں اسے بھی واپس لے لیا جاتا ہے۔ کیوں ؟ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے انداز ے کے مطابق اس قسم کے لوگ معاشرے میں3 یا4 فیصد سے زیادہ نہیں ہوتے۔ اب اگر ان سے پوچھ گچھ کریں گے تو ہمارے96 فیصد گاہک متأثر ہوں گے۔ لہٰذا ہم یہ دھوکا کھانے کے لیے تیار ہیں۔
دیکھیے! ہم جس چیز کو مشکل سمجھ رہے ہیں، وہ مغرب میں ''کاروباری راز'' کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان کے بازاروں میں ایسا کیوں نہیں۔ غالباً اس کی وجہ دینی معلومات کی کمی یا دنیاوی فوائد کے لیے سنجیدہ ریسرچ سے گریز ہے۔ خیر! اب، جبکہ ہمیں حدیث معلوم ہو گئی تو کسی نہ کسی درجے میں اس سنت کو زندہ کرنے کی کوشش ضروری ہے۔ اسے شریعت کی اصطلاح میں ''اقالہ'' کہتے ہیں۔ اس کے متعدد فضائل احادیث میں وارد ہوئے ہیں۔
یہ بات ٹھیک ہے کہ ہمارے یہاں بد عنوانی زیادہ ہونے کی وجہ سےWal-Mart کی طرح کی آفر نہیں کی جاسکتی، لیکن ضروری تحفظات کے ساتھ اس پرکس قدر عمل ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں SCS سے مشورہ لیا جاسکتا ہے۔ چند سال پہلے SCS کے علم میں یہ بات آئی کہ پاکستان کے ایک کاروباری ادارےChen one میں یہ نوٹس لگا ہے: ''آپ اپنی چیز واپس بھی کر سکتے ہیں۔'' SCS کے علم میں یہ بات آئی تو ہم نے انہیں ایک ستائشی خط بھی لکھا تھا۔ سو مایوسی کی کوئی بات نہیں۔ بس ذرا ہمت کی ضرورت ہے۔