صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عجیب لوگ تھے۔ ان کے دن بھر کے معمولات دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم جیسے کمزور لوگ ان کی مکمل تابعداری نہ کرسکیں۔ حالانکہ یہ بات اصولاً درست نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ یہی تو وہ جماعت ہے جس نے ایک رول ماڈل معاشرہ قائم کیاتھا۔ ہمیں تو انہی کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جمہور صحابہ کا عمل ہمارے لیے قابل عمل

نہ ہو۔ ظاہر ہے ایسا نہیں ہوسکتاتو کوتاہی ہماری ہی ہوگی۔ آئیے! اس کوتاہی کا ادراک بھی کریں۔
آج ہماری کاروباری مصروفیات ہماری عبادت ہی میں خلل نہیں ڈالتیں بلکہ وہ ہمیں وقت پر کھانے پینے اور سونے بھی نہیں دیتیں۔ ہم ہر وقت سستی تھکاوٹ اور چڑچڑپن کا شکار رہتے ہیں۔مصروف تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی بہت تھے ۔ وہ چند گھنٹے رات میں اور نصف گھنٹہ دن میںقیلولہ کرنے کے علاوہ وہ ہمہ وقت ''جہد مسلسل'' میں مصروف نظر آتے ہیں ۔ دن بھر تجارت یا کاشتکاری میں مصروفیت اوررات کے ایک بڑے حصے میں تہجد اور تلاوت میں مشغولیت کے بعدانہیں24گھنٹے میں بمشکل 4سے5گھنٹے نیند کے میسر آتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات دیکھیں تو حضورکو نیند کے لیے اس سے بھی کم وقت ملتا تھا۔ لیکنخیر القرون کے اس معاشرے نیند کی کمی کی وجہ سے ہونے والے مسائل دور دور تک نظر نہیں آتے ۔ نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم چڑچڑے پن کا شکار رہتے، نہ انہیں بات بات پر جمائی اور انگڑائی لینے کی ضرورت پیش آتی اور نہ وہ ڈپریشن یا بلڈ پریشر جیسی عصر حاضر کی ''سوغاتوں'' سے آشنا تھے۔


سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جب انسان کے سونے کا وقت طے ہوتا ہے تو اس وقت اس کاجسم ایسے ہار مونز جاری کرتا ہے جو اسے سکون پہنچاتے ہیں۔ اگر اسی وقت کوئی سوجائے تو وہ انتہائی سکون کی نیند سوئے گا

شاید آپ کا خیال ہو کہ یہ ان صحابہ کی کرامت بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کرامت اور معجزات کبھی کبھی ظاہر کرتے ہیں۔ کرامت اور معجزہ زندگی کے معمولات میں داخل نہیں ہوتے۔ لہذا اندازہ یہ ہوتا ہے کہ یہ معاملہ''کرامت'' نہیں بلکہ فطری اور سنت کے مطابق زندگی گزارنے کا نتیجہ تھا اور ہم اپنی مصروف زندگی میں ان مقدس ہستیوں کا طرز عمل اختیار کرکے اپنے کاموں میں بہتری اور نیند کے اوقات میں قابل ذکر کمی کرسکتے ہیں۔
آئیے! ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے چند معمولات کا جائزہ لیتے ہیں۔ صحابہ کرام کی غذا کیسی تھی؟ سادہ، غیر مرغن، سبزیوں کا بکثرت استعمال ، کھجور جیسے غذائیت سے بھرپور پھل کا استعمال، سنت کے مطابق پیٹ بھر کر نہ کھانا، کہیں کوئی مصنوعی پن یا قدرتی چیز کا بے جا استعمال نظر نہیں آتا۔ دوسری طرف محنت سے بھر پور زندگی ۔ جفا کشی، تجارت اور جہاد جیسے پرمشقت اسفار۔ معتدل فطری غذا اور متناسب ورزشی سرگرمیوں کے بعد جسم کوضروری طاقت حاصل ہوجاتی اور غیر ضروری طاقت (چربی) کی نوبت ہی نہ آتی۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ
سائنسدان نیند کے عدم توازن کی بڑی وجہ غذائی عدم توازن کو قرار دیتے ہیں۔ خصوصاً چائے اورکولڈ ڈرنک کے رواج نے اس توازن کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ چائے اور دیگر مروجہ مشروبات میں ''کیفین'' پائی جاتی ہے جو مصنوعی تازگی کا احساس پیدا کرتی ہے۔ اس مصنوعی تازگی سے کچھ دیرکے لیے نشاط ضرور آتا ہے لیکن انسان کا قدرتی نظام زندگی متاثر ہوجاتا ہے۔ نیند کا وقت، مقدار اور کیفیت ہر چیز متاثر ہوجاتی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان چیزوں سے خالی ایک فطری زندگی گزار رہے تھے۔ اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بہت سے معمولات متعین تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق عشاء کی نماز کچھ تاخیر سے پڑھی جاتی تھی اوراس کے بعد کوئی دنیاوی بات کیے بغیر سب آرام کرتے تھے۔ صرف وہ لوگ جو پہرے داری میں مشغول ہوتے، رات کو جاگتے تھے۔ اسی طرح رات میں اٹھنے کے معمولات بھی طے تھے۔ کچھ لوگ درمیانی رات میں اٹھ کر تہجد ادا کرکے سوجاتے تھے اور کچھ آخر وقت میں اٹھ کر تہجد ادا کرتے تھے۔ قضائے حاجت کا نظام ابتداء میں مدینہ کے اندر نہ تھا۔ خواتین اندھیرے اندھیرے میں دور جاکر فراغت حاصل کرتیں اور مرد حضرات ان سے مختلف اوقات میں قضائے حاجت فرماتے۔ خلاصہ یہ کہ سونے جاگنے، عبادات حتیٰ کہ قضائے حاجت کے اوقات بھی بڑی حد تک متعین ہوتے تھے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جب انسان کے سونے کا وقت طے ہوتا ہے تو اس وقت اس کاجسم ایسے ہار مونز جاری کرتا ہے جو اسے سکون پہنچاتے ہیں۔ اگر اسی وقت کوئی سوجائے تو وہ انتہائی سکون کی نیند سوئے گا۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو وہ درحقیقت اپنے قدرتی نظام سے لڑ کر سوتا ہے، ظاہر ہے پھر نیند اور وہ بھی پرسکون نیند کیسے آئے۔آج ہمارا تاجرسکون آور نیند کی جس کمی کا شکار ہے اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ خلاصہ یہ کہغیر فطری غذا اور معمولات طے نہ کرنے کی وجہ سے ہم اپنے کاروبار اور عبادات کے لیے وہ توانائی حاصل نہیں کر پارہے جو صحابہ کرام کو حاصل تھی۔ اگر ہم آج ہی سے اپنی زندگی کو ان سنتوں سے مزین کرنا شروع کردیں تو اوقات ضائع کیے بغیر میٹھی اور پرسکون نیند ہم سے زیادہ دور نہیں۔