اگر آپ سے پوچھا جائے کہ آپ کیوں سوتے ہیں تو شاید اکثر کی رائے یہی ہو کہ ہم دماغ کو آرام دینا چاہتے ہیں۔ لیکن ذراسوچیے! کیادماغ کبھی آرام بھی کرتا ہے؟ ظاہر ہے کہ اگریہ سوتا ہوتا توہم خواب کیونکر دیکھتے؟ معلوم ہواکہ دماغ کو کسی پل آرام کی حاجت نہیں، یہ توہماری نیند کے دوران بھی کام میںلگارہتاہے۔ ہماراجسم سوتا ہے۔ آپ حیران ہورہے ہیں۔ نیند اللہ تعالی

کی وہ بیش بہا نعمت ہے جس کی حقیقت سے آج بھی ہم پورے طورپر آشنانہیں۔ البتہ عصرحاضرمیں نیند کے موضوع پر بہت سے محققین نے کام کیاہے جس سے اس کے بارے میں کسی قدر رائے قائم کی جاسکتی ہے۔ بعض محققین کی رائے یہ ہے کہ نیند کا مقصد روزمرہ کے مشاہدات کے ذریعے حاصل شدہ معلومات کا تجزیہ کرناہے جبکہ بعض کا خیال ہے کہ نیند کا فائدہ یہ ہے کہ غیر ضروری معلومات دماغ سے حذف ہوجائیں۔ اسی قسم کے اوربھی بہت سے مقاصد بیان کیے گئے ہیں لیکن حیرت انگیز طورپر کسی نے بھی نیند کا مقصد آرام کرنا یا تھکاوٹ ختم کرنانہیں بتایا۔ جیسا کہ شروع میں ذکر کیا گیا، جبکہ ہم توشاید سوتے ہی جسم اور ذہن کی تھکاوٹ کو آرام دینے کے لیے ہیں، حالانکہ محققین اس سے بھرپورطورپر اختلاف کرتے ہیں۔ ہمارے بعض بھائی تو منٹوں کے حساب سے جب تک نیند پوری نہ کرلیں، ان کا دماغ تھکاوٹ کا شکاررہتاہے۔ جمعہ یا اتوار کے دن باقاعدہ منصوبہ بندی سے پورادن سوکر ہفتے بھر کی نیند کی قضاکی جاتی ہے۔ اس بات کی طرف گزشتہ ہفتے اشارہ ہوچکا کہ نیند کے دورانیے سے نیند پوری ہونے کا بہت قوی تعلق نہیں ہے۔ لہذا منٹوں کے حساب سے نیند پوری کرنے کا تصور نہ صرف یہ کہ درست نہیں، بلکہ یہ ہماری دیگر ٹینشنوں کی طرح ایک ٹینشن ہے جو ہماری نیند کی کوالٹی اورافادیت کو ضائع کردیتی ہے ۔


نیند اللہ تعالی کی وہ بیش بہا نعمت ہے جس کی حقیقت سے آج بھی ہم پورے طورپر آشنانہیں۔ البتہ عصرحاضرمیں نیند کے موضوع پر بہت سے محققین نے کام کیاہے جس سے اس کے بارے میں کسی قدر رائے قائم کی جاسکتی ہے

 

محققین کا کہناہے کہ دماغ کا آرام ''تنوع'' ہے، یعنی ایک کام سے بورہونے کی صورت میں دوسرے کام میں مشغول ہوجائیں۔ کام کا ترک کرنا دماغ کی کوئی خاص ضرورت نہیں۔ ہاں! سونے کی طلب ہوتو سوجائیں تاکہ آپ کادماغ دن بھر کی معلومات کا تجزیہ کرکے کچھ نتائج اخذکرے ۔کتنی دفعہ کسی مسئلے پر غورکرتے ہوئے انسان سوتاہے اورجب صبح اٹھتاہے تو اسے شرح صدر ہوچکاہوتاہے۔ کسی پریشانی کو سوچتے ہوئے انسان دعا کر کے سو جاتا ہے اورصبح اٹھنے پر حل اس کے سامنے ہوتا ہے۔ غالباً استخارے میں بھی بعض حضرات سونے کا مشورہ اسی لیے دیتے ہیں۔ ایسا راقم کے ساتھ توکئی بار ہو چکا ہے کہ نیند میں کئی ذاتی اور ادارتی مسائل حل ہو گئے۔ ایسا بظاہر اس لیے ہوتا ہے کہ سونے کی کیفیت میں انسان جب غیر ضروری سوچوں اورافکار سے کچھ دیر آزاد ہو جاتا ہے تو وہ خاص اسی مسئلہ کا بہتر تجزیہ کرنے کی پوزیشن میں ہوتا ہے۔
آج ہماری تاجر برادری نیند کی کمی کا شکار ہے۔ کسی کو سونے کا وقت نہیں ملتا، کسی کو لیٹنے پر نیند نہیں آتی۔اس ٹینشن میں اس وقت اوراضافہ ہوجاتاہے جب آپ نے پہلے سے سوچ رکھاہو، مثلاً: 7 گھنٹے سے کم میں میری نیند پوری نہ ہوگی۔ چنانچہ 6 گھنٹے، 45 منٹ تک خوب ڈٹ کر نیند لینے کے باوجود بھی15 منٹ نہ سونے کا احساس دماغ پر غیر ضروری دباؤ ڈالتاہے۔ حالانکہ نیند ایک Cyclic پروسس ہے۔ ہر 5 مرحلوں کے بعد دوبارہ نئے مرحلے شروع ہوجاتے ہیں ۔اگرکوئی شخص پہلیCycle کے اختتام پر اٹھ گیا تووہ تازہ دم ہوگا۔لیکن اگر وہی شخص مزید سوتا رہا تو ہوسکتاہے کہ اس کے چہرے پرایک مرتبہ پھر مردنی سی چھاجائے۔ گویا ہر شخص کی نیند کی ضرورت مختلف ہے۔ اگر نیند کو ضرورت کے مطابق لیں گے توتازگی آئے گی۔ اگر ضرورت سے کم یا زیادہ لیں گے تو مقصودی نتائج حاصل نہ ہوسکیں گے۔ یہ ایسے ہی ہوگا جیسے ایک شخص غذائی ضروریات مناسب مقدار سے زیادہ لے لےں تو جسم کا قدرتی نظام اسے اس کی اجازت نہیں دیتا۔
اب غور طلب بات یہ ہے کہ ہم اپنی نیند ضرورت کا اندازہ کیسے کریں۔ اس کے بارے میں عرض یہ ہے کہ ہم سب سے پہلے اپنی زندگی کو قدرتی رخ پر لائیں، پچھلے کالم میں اس حوالے سے کچھ باتیں ذکر کی گئی تھیں۔ انہیں پھر دیکھ لیاجائے۔ قدرتی انداز زندگی اپنانے کے بعد اپنی موجودہ نیند میں سے 10 سے15 منٹ منفی کرکے دیکھیں کہ آپ کو اس سے کتنافرق پڑتا ہے۔ اگرجسم اس کاعادی ہوجائے تومزید کم کر دیں۔ اسی طرح کم کرتے جائیں۔ اس طرح کچھ دنوں میں آپ کو اندازہ ہوسکے گا کہ آپ کے جسم کی قدرتی نیند کی ضرورت کتنی ہے۔ اس کو ضرور پورا کیجیے، لیکن اس مقدار کو بھی دماغ پر نہ چڑھائیں۔ عمرکے تقاضے سے اس میں فرق آسکتا ہے۔ ہر 5 سال بعداندازہ کر لیاکریں۔ رات میں مناسب نیند کے بعد دن میں صرف نصف گھنٹہ سے ایک گھنٹہ قیلولہ کر لیا کریں۔ باقی تقریباً 17 سے 18 گھنٹے آپ تجارت، صلہ رحمی اور عبادات کے لیے چاک وچوبند ہوجائیں گے۔