٭۔۔۔۔۔۔ احادیث کے مطالعے سے یوں لگتا ہے جیسے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم عرب کے محدود معاشرے کے لیے نہیں، بلکہ آج کی عالمگیریت کے تناظر میں پیدا ہونے والے جدید زرعی معاشی نظام کے لیے ہدایات جاری کر رہے ہوں ٭۔۔۔۔۔۔٭
حضرات انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ کی جانب سے دی گئی رہنمائی ہی کو امت تک پہنچاتے ہیں۔ قرآن کریم نے اس مضمون کو یوں 

بیان کیا ہے: ''اوروہ (نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم ) اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتے۔ وہ تو بس ایک وحی ہے جو ان کی جانب بھیجی جاتی ہے ۔''(النجم) یہ ہمارا عقیدہ تو ہے ہی لیکن جیسے جیسے سیرت اوراحادیث کا مطالعہ کرتے جائیں،یہ عقیدہ آنکھوں دیکھا حال بنتا چلا جاتا ہے۔ احادیث کی سطور بلکہ بین السطور بھی واضح طورپر اعلان کررہی ہوتی ہیں کہ واقعی یہ مضمون بیان کرنا کسی انسان کے بس میں نہیں، ضرور اس شخص کی فراست کے پیچھے وحی کا نور ہے۔


٭۔۔۔۔۔۔ احادیث کے مطالعے سے یوں لگتا ہے جیسے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم عرب کے محدود معاشرے کے لیے نہیں، بلکہ آج کی عالمگیریت کے تناظر میں پیدا ہونے والے جدید زرعی معاشی نظام کے لیے ہدایات جاری کر رہے ہوں

سبزی منڈی کے آڑھتیوں کے حوالے سے بندہ نے جب رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کے فرمودات کا جائزہ لینا شروع کیاتو ان احادیث میںموجود معجزانہ مضامین سے دل ودماغ پر ایک سحر طاری ہو گیا۔ چشم تصور میں لگا کہ جیسے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم عرب کے محدود معاشرے کے لیے نہیں، بلکہ آج کی عالمگیریت کے تناظر میں پیدا ہونے والے جدید زرعی معاشی نظام کے لیے ہدایات جاری کر رہے ہوں۔ ایسی گہری اور جامع ہدایات کسی ایسے شخص سے کس طرح ممکن ہو سکتی ہیں جو سبزی اور پھلوں کی تجارت سے باقاعدہ وابستہ نہ رہا ہو، جو نبوت کے فرائض کی انجام دہی کے لیے ایک عرصہ سے عام تجارت بھی ترک کر چکا ہو۔ پھر بظاہر مارکیٹ کی ضروریات اورنظام بہت گہرائی سے جاننے کے کوئی خاص اسباب بھی موجود نہ ہوں۔ پھر اس کی ہدایات ایسی ہوں کہ ایک ایک جملہ سونے سے تولنے کے قابل۔ اسے معجزہ نہ کہیں تو کیا کہیں؟
آئیے! چند حوالے ملاحظہ کرتے ہیں۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے منڈی کے آڑھتیوں اوربیوپاریوں کواس بات سے منع فرمایاکہ وہ آنے والے تجارتی قافلوں سے منڈی سے باہر نکل کرخریداری کریں۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ اگر دیہاتی کسان بعد میں بازار آیا اور اسے سابقہ سودے میں بددیانتی کا علم ہوا تو اسے اختیارہوگا کہ وہ اس سابقہ سودے کو منسوخ کردے۔ بظاہر یہ سادہ سی ہدایات ہیں لیکن جوآدمی سبزی اورفروٹ کی نقل وحمل سے واقف ہو وہ اندازہ کر سکتا ہے کہ سامان کو اس طرح منڈی پہنچنے سے پہلے روک لیا جائے تو اس کی قیمت میں غیرمعمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر روکنے والا پورے ملک کی منڈیوں میں ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو ان بنیادی ضروریات کی چیزوں کی قیمت طے کرنے کی اسے مکمل اجارہ داری حاصل ہوجائے گی، جس سے تمام شہر والوں کا نقصان ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف دیہاتی کسان یا زمیندار کو منڈی کے متوقع نرخ سے کم میں دے کر فارغ کر دیا جائے تو یہ کسانوں کی حوصلہ شکنی کا باعث ہو گا، جس سے شہری علاقوں کی طرف نقل مکانی Urbanization کو فروغ ملے گا۔ ظاہر ہے ملکی آبادی میںشہری اور دیہی آبادی کے جس تناسب کی ضرورت ہے وہ بگڑے گاتو سارانظام زندگی متاثر ہو گا۔
اسی طرح آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے شہر ی کو دیہاتی کا وکیل بن کر بیچنے سے منع کیا ہے۔ راز اس میں بھی یہی ہے کہ شہری آدمی اپنے وسائل کی بنیاد پر سامان کو دیر تک ذخیرہ کرکے قیمتوں پراثر انداز ہو سکتا ہے۔ آڑھت کا کام اسی زمرے میں آتا ہے۔ لہٰذا اگر آڑھتی صرف انتظامی حد تک دخیل ہو، قیمتوں پر اثر انداز نہ ہو تو اس کی گنجائش ہے، لیکن اگر وہ چیزوں کو مہنگا کرنے کے لیے اپنے وسائل استعمال کرے گا تو گناہ گار ہو گا۔ آپ نے اندازہ کر لیا ہو گا کہ چند جملوں میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کیسی اساسی پالیسیاں طے فرمادی ہیں۔ ایسا گہرا علم وحی کے بغیر کہاں ممکن ہے؟ یہ آپ کا معجزہ بھی ہے اور حقانیت کی دلیل بھی۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم تاجروں کی نفسیات اورمزاج کا کس گہرائی سے مطالعہ رکھتے تھے، اس کا اندازہ ذخیرہ اندوزی کرنے والے کے بارے میں ایک حدیث سے کیا جا سکتا ہے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ''ذخیرہ اندوز کیسا برا آدمی ہے۔ اللہ تعالیٰ قیمتوں کوکم کرتے ہیں تو غمگین ہو جاتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ انہیں بڑھوادیں، توخوش ہوتا ہے۔'' گویا ذخیرہ اندوز کے مفادات قوم کے مفادات سے 180 درجے کا زاویہ بناتے ہیں۔ قوم اشیاء سستی ہونے پر خوش ہوتی ہیں اور ہر انسان کو۔۔۔۔۔۔ کہ وہ صارف تو بہرحال ہوتا ہی ہے۔۔۔۔۔۔

اشیاء سستی ہونے پر طبعاً خوشی ہوتی ہے، لیکن ذخیرہ اندوز کو غم لگ جاتاہے۔ اس تعبیر نے یہ بات واضح کردی کہ ذخیرہ اندوز کو خوش رکھنے کی کوشش قوم کو غمگین کردے گی اور اگر قوم کی فلاح چاہتے ہیں تو ذخیرہ اندوز کے بارے میں نرم رویہ ترک کرناہوگا۔